اسرائیل کی غزہ فلوٹیلا میں مداخلت کے بعد پاکستان میں مظاہرہ، کارکنان کی رہائی کا مطالبہ

کارکن سعد ایدھی کے والد نے عالمی فورمز پر احتجاج کرنے کی اپیل کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

پچاس کے قریب مظاہرین منگل کو کراچی پریس کلب میں جمع ہوئے اور پاکستانی کارکن سعد ایدھی اور دیگر رضاکاروں کی رہائی کا مطالبہ کیا جنہیں اسرائیلی افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا کو روکنے کے بعد حراست میں لے رکھا ہے۔

مظاہرے میں عالمی صمود فلوٹیلا کی کشتیوں پر اسرائیل کے قبضے کی مذمت کی گئی جو فلسطینیوں کے لیے طبی سامان اور خوراک لے جا رہی تھیں۔

سعد ایدھی کے والد فیصل ایدھی نے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج نے پیر (18 مئی) کو قبرص کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں فلوٹیلا کی بعض کشتیاں روک لیں جو اسرائیل سے تقریباً 500 کلومیٹر دور ہے اور بین الاقوامی پانیوں میں گرفتاری کرنے کا اُسے کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔

فیصل ایدھی نے کہا، "اسرائیل کو ان پانیوں میں گرفتاریاں کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس لیے میں پاکستانی حکومت سے درخواست کروں گا کہ وہ اس پر بین الاقوامی سطح پر احتجاج کرے اور اسرائیل کی ریاست پر سعد اور دیگر کارکنان کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالے۔

اسرائیلی فوج نے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ ماضی کی مداخلتوں کے لیے اسرائیل نے غزہ میں سکیورٹی خدشات اور بحری ناکہ بندی کو وجہ قرار دیا تھا۔

سعد ایدھی پاکستان کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم چلانے والے ایدھی خاندان کے ایک فرد ہیں۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے حکام نے اس پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں