پاکستان کے وزیر دفاع نے پیر کو کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کیا گیا ابراہم معاہدہ قابل قبول نہیں کیوں کہ یہ ہمارے بنیادی نظریات سے متصادم ہے۔
نجی نیوز چینل سما سے بات کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ’میرا نہیں خیال کہ ہمیں کسی ایسے معاہدے میں شامل ہوں گے جو ہمارے بنیادی نظریات سے متصادم ہو۔ اس وقت ہم نے کوئی اقدام لیا ہے نہ کسی نے ہمیں (باضابطہ اس میں شامل ہونے کو) کہا ہے۔ اس وقت بھی غزہ (فائر بندی) معاہدے کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، تو ان لوگوں کے ساتھ کیسے بیٹھا جا سکتا ہے جن پر ایک دن کا بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’ہمارا واضح موقف ہے کہ یہ (ابراہم معاہدہ) ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے اور ہم واحد ملک ہیں جس کے پاسپورٹ پر اسرائیل کا نام ہی شامل نہیں ہے۔‘
خواجہ آصف کا یہ بیان صدر ٹرمپ کی سوشل میڈٰیا پوسٹ کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکی، مصر، اردن سمت دیگر مسلم ممالک ایران کے ساتھ معاہدے کے بعد ابراہم معاہدے میں شامل ہوں۔
-
پاکستانی سینیٹ میں مبینہ اسرائیل، بھارت گٹھ جوڑ کے خلاف مذمتی قرارداد منظور
سینیٹ آف پاکستان نے اسرائیل اور بھارت کے مبینہ گٹھ جوڑ کے خلاف قرارداد منظور کرتے ...
بين الاقوامى -
اسرائیل کا مغربی کنارے میں زمین کی رجسٹریشن کا فیصلہ، سعودی عرب اور پاکستان کی مذمت
پاکستان اور سعودی عرب نے مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک بڑے حصے میں اسرائیل کی جانب سے ...
مشرق وسطی -
پاکستان سمیت سات مسلم ممالک کی غرب اردن میں اسرائیل کے متنازع اقدامات کی مذمت
وزارت خارجہ پاکستان کی طرف سے منگل کو جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام ...
مشرق وسطی