پاکستانی تاجروں کا انتباہ: کاروباری پابندیاں دوبارہ لگائی گئیں تو ملک گیر احتجاج کریں گے

عید الاضحی کے موقع پر بازاروں کو تادیر کھلا رکھنے کی نرمی دی گئی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اتوار کے روز ایک ممتاز پاکستانی تاجر یونین نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے بازاروں کو جلد بند کرنے کا فیصلہ دوبارہ نافذ کیا تو ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔ یونین نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ توانائی کے تحفظ کے لیے لاک ڈاؤن کے اقدامات مستقلاً ختم کر دیں۔

یاد رہے کہ اپریل کے اوائل میں پاکستان کی حکومت نے مہنگے درآمدی ایندھن کی بچت کے لیے کفایت شعاری منصوبہ اختیار کیا جس کے تحت دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز رات آٹھ بجے تک جبکہ ریستوران، بیکری، اشیاء ضروریہ کی دکانیں اور شادی ہالز کو رات 10 بجے تک بند کرنے کی ہدایت کی تھی۔ تاہم اس ماہ کے شروع میں حکومت نے عید الاضحیٰ کی خریداری اور مصروفیت کی بنا پر 31 مئی تک پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا تھا۔

کفایت شعاری کے اقدامات امریکہ-ایران جنگ کے بعد نافذ کیے گئے تھے کیونکہ ایندھن کی رسد مشکل اور قیمتوں میں اضافہ ہو گیا تھا۔ پاکستان نے

آبنائے ہرمز کی بندش کی بنا پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بھی کیا۔

ملک میں تاجروں کی مرکزی انجمن کے صدر کاشف چوہدری نے ایک بیان میں کہا، "ایران-امریکہ جنگ ختم ہو جانے کے بعد لاک ڈاؤن کا اب کوئی جواز نہیں رہا۔ اگر یکم جون کے بعد لاک ڈاؤن نافذ ہوا تو ہم ملک گیر احتجاجی تحریک دوبارہ شروع کریں گے۔"

مارکیٹ کی جلد بندش پر پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تاجروں نے شکایت کی ہے کہ لاک ڈاؤن کے ایسے اقدامات سے ان کی آمدنی کو نقصان پہنچا ہے۔

چوہدری نے وزیرِ اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ یکم جون کو پابندیاں مستقلاً ہٹانے کا اعلان کرتے ہوئے ایک نوٹیفکیشن جاری کریں۔ انہوں نے پورے ملک کے تاجروں پر زور دیا کہ وہ یکم جون کے بعد اپنے کاروبار کھلے رکھنے کی تیاری کریں۔

انہوں نے کہا، "شدید گرمی کے موسم میں کاروباری سرگرمیاں شام سات بجے کے بعد شروع ہوتی ہیں۔ دکانیں رات آٹھ بجے بند کرنے پر مجبور کرنا کاروبار کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔"

انہوں نے مشاہدہ کیا کہ تاجر اور عام لوگ بجلی کے زیادہ نرخ ادا کرتے ہیں۔

چوہدری نے کہا، "ایندھن اور بجلی کی بلند قیمتوں کے ساتھ ساتھ مہنگائی نے 120 ملین لوگوں کی قوتِ خرید ختم کر دی ہے۔ حالانکہ کاروبار کھلے رہتے ہیں لیکن عوام میں خریداری کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔"

حکومتِ پاکستان نے کہا ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد توانائی کا استعمال کم کرنا، بجلی کے پیداواری اخراجات کنٹرول کرنا اور آبادی کے کم آمدنی والے طبقات کو ایندھن کی بلند قیمتوں سے بچانا ہے کیونکہ پاکستان اپنی توانائی کی زیادہ تر ضروریات درآمد کرتا ہے۔

پاکستان نے عید کے تیسرے دن پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 22 روپے فی لیٹر کمی کی اور اسے عید کے تہوار پر عوام کے لیے تحفہ قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں