پاکستان کے احتسابی ادارے نیب نے ہفتے کے روز ساڑھے چار ملین ڈالر کے غیر ملکی اکاؤنٹس کو منجمد کر لیا ہے۔ یہ اکاؤنٹس مبینہ طور پر بحریہ ٹاؤن سے متعلق ہیں ، جس کے بانی ملک کے بڑے پراپرٹی ٹائیکون ریاض حسین ہیں۔ جنہیں بڑی بڑی اعلیٰ حکومتی اور ریاستی شخصیات سے گہری قربت اور دوستی کا حامل تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔
انہوں نے اپنے انہی تعلقات کی وجہ سے اپنے نجی ہاؤسنگ منصوبے کا نام بحریہ سے جوڑ کر اس پراجیکٹ کو نیک نامی دلائی اور پر پھر بلدیہ کے کے ایک ٹھیکے دار سے پاکستان کا انتہائی مؤثر فرد بن گیا ، ایک پراپرٹی ٹائیکون۔ مگر اب کچھ عرصے سے اس کے باوجود زیر عتاب ہے کہ اس کے ساتھ دوستی رکھنے والی کئی شخصیات ملک میں اس وقت بھی انتہائی اعلیٰ عہدوں پرفائز ہیں۔ اس لیے ملک کا احتسابی ادارہ ' نیب ' بحریہ ٹاؤن کے اس بانی کے خلاف تحقیقات کر رہا ہے۔
ان پر الزام ہے کہ انہوں نے منی لانڈرنگ کی ہے۔ اتفاق سے ان کے بحریہ ٹاؤن کے بنانے سے بعد ازاں کتنے لوگوں کے ساتھ مبینہ دھوکہ اور فراڈ ہوتا رہا وہ ابھی زیر انکوائری نہیں ہے۔ کیونکہ وہ مبینہ طور پر عام لوگوں کی جمع پونجی کے ساتھ تو بے رحمانہ سلوک کرتے ملک کے بڑوں کو اسی بحریہ ٹاؤن میں بڑے بڑے فارم ہاؤس اور محل بنا کر گفٹ کرتے اور اپنا کام اپنی مرضی کے مطابق چلانے پر قادر ہو جاتے۔
نیب کا کہنا ہے کہ ملک ریاض کے خلاف کئی مقدمات ہیں جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ ان میں منی لانڈرنگ کا مقدمہ بھی شامل ہے۔ منی لانڈرنگ کے ایک کیس کی رو سے انہوں نے پہلے رقم دبئی منتقل کی پھر ماریشس لے گئے۔ نیب کے مطابق نیب بیورو کراچی میں کامیابی کے ساتھ ان کے خلاف انکوائری میں دو فارن اکاؤنٹس کو دیکھا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں بحریہ ٹاؤن کے سربراہ احمد علی ملک اور ان کی اہلیہ مبشرہ کا نام بھی شامل ہے۔ احمد علی ملک ، ملک ریاض حسین کے بیٹے اور مبشرہ بہو ہیں۔
نیب کے مطابق بحریہ ٹاؤن حوالے اور ہنڈی کے کام بھی ملوث رہا ہے۔
نیب کے مطابق جن دو فارن اکاؤنٹس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں ان میں ساڑھے چار ملین ڈالر کی خطیر رقم جمع ہے۔ اب ان اکاؤنٹس کو منجمد کر دیا گیا ہے۔ نیز نیب نے دفتر خارجہ کی مدد سے اپنی کارروائی کو بیرون ملک تک بھی پھیلایا ہے۔
یاد رہے نیب کے سربراہ جنرل نذیر احمد بٹ نے ماہ اپریل میں بتایا تھا کہ ملک ریاض حسین کے خلاف انٹر پول کے ذریعے کارروائی آگے بڑھائی جا رہی ہے۔ ملک ریاض اپنے خلاف مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں۔