پاکستان اور سعودی عرب نے ہفتے کے روز امریکہ ایران جنگ بندی معاہدے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ اس موقع پر دونوں طرف سے پائیدار امن کے قیام پر زور دیا گیا۔ یہ بات پاکستان کے دفتر خارجہ نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہی ہے۔
یہ بیان وزیر اعظم شہباز شریف کے اس پوسٹ کے فوری بعد سامنے آیا جو انہوں نے امریکہ اور ایران کی جنگ بندی معاہدے کےحوالے سے جاری کی تھی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ امکان ہے کہ یہ معاہدہ اگلے 24 گھنٹوں میں حتمی شکل اختیار کر لے گا۔ اس معاہدے پر الیکٹرانکلی دستخط کرنے کی پاکستان تیاری میں ہے۔
واشنگٹن اور تہران نے بھی حالیہ دنوں میں یہ اشارے دیے ہیں کہ کئی ہفتوں کے ڈیڈ لاک کے بعد معاہدہ قریب آلگا ہے۔ پاکستان نے اس سلسلے میں ثالثی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔
ایران کے خلاف امریکہ اور ایران کی مشترکہ جنگ کا آغاز 28 فروری کو ہوا تھا۔ وزیر خارجہ پاکستان اسحاق ڈار نے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان کے ساتھ فون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور امریکہ ایران کے درمیان ہونے والی پیش رفت سے اپ ڈیٹ کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے پیش رفت کا خیر مقدم کیا۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ثالثی کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کی تحسین کی۔ دوسری جانب پاکستان کے دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ نے قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن جاسم الثانی کے ساتھ بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔