سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے بنوں میں 7 افراد جاں بحق، متعدد زخمی
لاشیں اور زخمی ہسپتال منتقل، تحصیلدار سب ڈویژن وزیر عابد اللہ کی گاڑی بھی زد میں آئی، جسے نقصان پہنچا، تاہم وہ خود محفوظ رہے
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس کے مطابق ہفتے کی صبح یکے بعد دیگرے دو آئی ای ڈی دھماکوں میں سات افراد جان سے گئے جبکہ تین زخمی ہو گئے۔
اس حوالے سے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) بنوں یاسر آفریدی نے بتایا کہ دھماکے کی زد میں ایک وین اور ایک گاڑی آئی ہے، مسافر وین گاؤں ہاتھی خیل سے بنوں آ رہی تھی،وین میں سوار 5 افراد اور گاڑی میں سوار 2 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، لاشوں اور زخمیوں کو خلیفہ گل نواز ٹیچنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ڈی پی او یاسر آفریدی نے کہا کہ دھماکا خیز مواد سڑک کنارے نصب کیا گیا تھا واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ پولیس نے بتایا ہے کہ دھماکا آئی ای ڈی کا تھا، جس سے مسافر گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق مسافر ڈاٹسن ہاتھی خیل گاؤں سے مسافروں کو لا رہی تھی۔ آئی ای ڈی دھماکے میں تحصیلدار سب ڈویژن وزیر عابد اللہ کی گاڑی بھی زد میں آئی، جسے نقصان پہنچا، تاہم وہ خود محفوظ رہے۔بنوں ہسپتال انتظامیہ کے مطابق دھماکے کے بعد لائے گئے زخمیوں میں کمسن بچے بھی شامل ہیں۔
علاقے کو سکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لے لیا،قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
وزیراعلیٰ نے شہریوں کی اموات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کے غم میں صوبائی حکومت برابر کی شریک ہے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
تاحال کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔
بنوں عمومی طور پر خیبر پختونخوا کے شدت پسندی سے متاثرہ اضلاع میں شامل ہے جہاں ماضی میں عسکریت پسندوں نے متعدد حملے کیے ہیں۔
پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق بنوں میں وزیرستان کے بعد عسکریت پسندوں کی جانب سے سب سے زیادہ حملے ہوئے ہیں، جن میں مختلف تھانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔