پاک افغان سرحدی کشیدگی میں نیا اضافہ، چیک پوسٹوں پر جھڑپیں اور آمدورفت متاثر
افغانستان میں طالبان حکومت نے کہا ہے کہ اس نے پاکستان کی سرزمین پر فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اس کی فورسز نے بلوچستان کے جنوبی، معدنی وسائل سے مالا مال علاقے میں چار ابتدائی نوعیت کے ڈرونز کو روک کر مار گرایا ہے۔
منگل کو ہونے والی یہ جھڑپیں جنوبی ایشیا کی دونوں ہمسایہ ریاستوں کے درمیان کشیدگی کی تازہ ترین کڑی ہیں۔
افغانستان کی وزارتِ دفاع کے مطابق اس کی فورسز نے بلوچستان کے علاقے سارانان میں جو پاک افغان سرحد کے قریب واقع ہے، داعش کے ایک مبینہ مرکز کو نشانہ بنایا، جبکہ خیبر پختونخوا میں بھی کچھ دیگر اہداف پر حملے کیے گئے۔
پاکستانی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نے ان ڈرونز کو فوری طور پر شناخت کر کے تباہ کر دیا۔ حکام نے بھی ڈرون حملے کی تصدیق کی اور بتایا کہ ایک ڈرون سارانان میں ایک سرکاری اسکول کے قریب دیکھا گیا۔ حکام کے مطابق اس واقعے میں دو افراد زخمی ہوئے۔
لندن میں قائم انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے اعداد و شمار کے مطابق افغانستان کے پاس کوئی جنگی طیارے موجود نہیں، تاہم اس کے پاس کم از کم چھ طیارے اور 23 ہیلی کاپٹر ہیں۔ یہ بھی معلوم ہے کہ طالبان کے پاس ڈرونز موجود ہیں، جنہیں انہوں نے پاکستان کے ساتھ لڑائی میں بھی استعمال کیا ہے۔
پاکستان افغانستان پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ ایسے مسلح گروہوں کو پناہ دیتا ہے، جو پاکستانی حدود میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، تاہم طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے اور کہتی ہے کہ پاکستان میں جاری بغاوت ایک اندرونی مسئلہ ہے۔
اسی تناظر میں پیر کے روز پاکستان کی جانب سے سرحدی علاقوں پر کیے گئے فضائی حملوں میں کم از کم 28 شہری ہلاک اور 49 افراد زخمی ہوئے۔
اسلام آباد نے ان کارروائیوں کو اپنی سرزمین پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کا جواب قرار دیا۔سابق اتحادی اور اب حریف بننے والے دونوں ممالک کے درمیان اس تنازع میں رواں سال سینکڑوں افراد جان سے جا چکے ہیں، جبکہ کشیدگی کم کرنے کے لیے چین کی قیادت میں ہونے والی ثالثی کی کوششیں تاحال کوئی مؤثر نتیجہ نہیں دے سکیں۔