پاکستان کے وزیر داخلہ نے عالمی سطح پر پولیس کے ایک مربوط اور مضبوط نظام کے لیے شراکت داری پر زور دیا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس سلسلے میں بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو عالمی سطح پر چیلنج قبول کرنےکے لیے کہا۔ تاکہ دہشت گردی، انسانی سمگلنگ، سائبر کرائم ایسے مسئلوں سے باہم اشتراک اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نمٹا جا سکے۔
وہ نیو یارک میں اقوام متحدہ کی طرف سے اقوام متحدہ کے رکن ملکوں کے پولیس چیفس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس کانفرنس میں پولیس کے سربراہان کے علاوہ مختلف ممالک سے سینیئر وزراء بشمول وزرائے داخلہ بھی اکٹھے ہوئے ہیں۔
پاکستان خود بھی اس وقت دہشت گردی کی بد ترین لہر کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ دہشت گردی جو پاکستان کے لیے سالہا سال سے ایک چیلنج بنی ہوئی ہے۔ پاکستان اس دہشت گردی کے لیے بھارت اور افغانستان پر الزام دیتا ہے۔ لیکن عالمی سطح سے بھارت یا افغانستان کے خلاف اس سلسلے میں کوئی ایسا اقدام سامنے نہیں آیا ہے۔
پچھلے ایک ہفتے کے دوران صرف چار دنوں میں 42 سیکیورٹی اہلکاروں کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہمیں ایک دوسرے سے اطلاعات کی فوری منتقلی کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی حمایت بھی کرنا ہوگی تاکہ دہشتگردی کا مقابلہ کیا جا سکے۔
بین الاقوامی سطح پر پولیس کے نظام کے لیے اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں ہونے والی اس کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گرد جدید ٹیکنالوجی کا استعامل کر رہے ہیں۔
کانفرنس سے خطاب کے بعد محسن نقوی نے کانفرنس کی سائیڈ لائنز میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی ملاقات کی اور دلسچپی کے دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا۔
اس دوران عالمی سطح پر پاکستان کے امن مشنوں کے لیے کردار اور شراکت داری کے ایشو پر بھی بات چیت کی۔ نیز امریکہ ایران کے ردرمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرانے اور جنگ رکوانے میں کردار کو سراہا گیا۔