نئی چار سالہ پالیسی کے تحت تین لاکھ آٹھ ہزار پاکستانیوں کی رجسٹریشن مکمل

طویل المدت حج پالیسی 2027-2030 کے لیے اندراج تین ہفتے قبل شروع ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سرکاری میڈیا نے پیر کو بتایا کہ ملک کی اولین چار سالہ حج پالیسی کے تحت اندراج کے ابتدائی تین ہفتوں کے اندر 2027 تا 2030 کے لیے 308,000 سے زیادہ پاکستانیوں نے حج کرنے کے لیے رجسٹریشن کروائی ہے۔

سابقہ سالانہ فریم ورک کی جگہ لینے والے یہ اندراجات 22 جون کو شروع ہوئے اور پاکستان کی نئی چار سالہ حج پالیسی اور 2027-2030 کے حج منصوبے کا حصہ ہیں۔ اس پالیسی میں 2030 تک مسلسل رجسٹریشن، حج خدمات کی زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹلائزیشن، حجاج کرام کے لیے لازمی تربیت اور طویل مدتی آپریشنل منصوبہ بندی متعارف کروائی گئی ہے جن کا مقصد حج کی سہولیات اور انتظام کو بہتر بنانا ہے۔

ترجمان وزارتِ مذہبی امور نے سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے ایک بیان میں کہا، "کل 222,000 درخواست دہندگان نے سرکاری حج سکیم جبکہ 86,000 نے نجی حج سکیم کے تحت رجسٹریشن کروائی ہے۔"

نئے رجسٹریشن سسٹم کا مقصد اسلام آباد کو مستقبل کے حج کوٹے پر سعودی حکام سے بات کرنے، طویل مدتی منصوبہ بندی کو بہتر بنانے اور حجاج کے لیے خدمات کو ہموار کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

وزارت نے کہا کہ رجسٹر ہونے والوں میں 181,000 مرد اور 127,000 خواتین تھیں۔

تقریباً 119,000 افراد کی عمریں 33 سے 44 سال کے درمیان ہیں جو درخواست دہندگان کا سب سے بڑا گروپ ہے جبکہ تقریباً 40,000 کی عمریں 61 سال سے زیادہ ہیں۔

رجسٹر ہونے والوں کے تعلیمی پروفائل میں تقریباً 3,500 پی ایچ ڈی، 53,000 ماسٹرز ڈگری اور 71,000 بیچلرز ڈگری کے حامل افراد شامل ہیں۔

ترجمان نے کہا، وزارت رجسٹریشن کے اگلے مرحلے میں حج فیس کی آن لائن ادائیگی کا نظام لانے پر بھی غور کر رہی ہے۔

وزارت کے مطابق رجسٹریشن آن لائن حج پورٹل اور پاک حج موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے کی جا رہی ہے جسے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے تعاون حاصل ہے۔ اس کے ذریعے عازمینِ حج کے لیے تمام عمل گھر بیٹھے مکمل کرنا ممکن ہو گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں