سولہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی، پاکستان بھی عالمی بحث میں شامل ہو گیا

نوجوانوں کے لیے عمر کی جانچ، والدین کی رضامندی متعارف کروائی جائے: قرارداد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اس ہفتے پنجاب اسمبلی کی ایک قانون ساز نے وفاقی حکومت سے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس محدود کرنے اور عمر کی تصدیق کے لازمی اقدامات متعارف کروانے کے لیے ایک قرارداد پیش کی جس کے بعد پاکستان بھی سوشل میڈیا تک بچوں کی رسائی پر بڑھتی ہوئی عالمی بحث میں شامل ہو گیا ہے۔

یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تمام دنیا کی حکومتیں بچوں کو آن لائن تحفظ فراہم کرنے کے لیے پابندیاں سخت کر رہی ہیں۔ آسٹریلیا گذشتہ سال بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پابند کرنے والا پہلا ملک بن گیا کہ وہ 16 سال سے کم عمر کے صارفین کو اکاؤنٹس رکھنے سے روکنے کے لیے اقدامات کریں۔ برطانیہ نے بھی ایسی ہی پابندی لگانے کا منصوبہ بنایا ہے اور یورپی یونین بچوں کی ذہنی صحت، آن لائن حفاظت اور نقصان دہ مواد کی نمائش پر بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان عمر کی بنیاد پر پابندیوں پر غور کر رہی ہے۔

پاکستان میں اس وقت سوشل میڈیا استعمال کرنے کی کم از کم عمر مقرر کرنے کا کوئی قانون نہیں ہے۔ پنجاب اسمبلی کی رکن سارہ احمد کی جمع کروائی گئی قرارداد ازخود کوئی قانون نہیں بناتی بلکہ یہ پنجاب حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے اس معاملے پر قانون سازی کا تقاضہ کرے۔ ٹیلی کمیونیکیشن اور آن لائن پلیٹ فارمز کی ضابطہ کاری وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں یعنی کسی بھی پابند قانون کی ملک کی پارلیمنٹ سے منظوری درکار ہو گی۔

قرارداد کہتی ہے، "اس بات کے پیشِ نظر کہ بچوں کی جسمانی، ذہنی، نفسیاتی اور اخلاقی نشوونما کا تحفظ ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے اور یہ کہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال بچوں کو سائبر بدمعاشی، آن لائن جنسی استحصال، نامناسب مواد اور دیگر سنگین خطرات سے دوچار کر رہا ہے، یہ ایوان تجویز کرتا ہے کہ وفاقی حکومت سولہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مؤثر قانونی پابندی عائد کرے"۔

قرارداد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے تقاضہ کرے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عمر کی تصدیق کا لازمی نظام نافذ کرنے، نابالغ افراد کے لیے والدین کی رضامندی اور فعال نگرانی کو یقینی بنائے، نقصان دہ مواد اور آن لائن استحصال کے خلاف حفاظتی اقدامات کو مضبوط بنانے کے لیے پلیٹ فارمز سے ضروری اقدامات کا مطالبہ کرے اور والدین اور اساتذہ کے لیے ملک گیر ڈیجیٹل آگاہی مہم شروع کرے۔

یہ قرارداد بچوں کی آن لائن حفاظت پر مربوط وفاقی قانون سازی کی تجویز بھی پیش کرتی اور کہتی ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کا نوجوان صارفین کے لیے ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔

پنجاب اسمبلی سے منظوری کی صورت میں یہ قرارداد صوبائی مقننہ کی رائے کی نمائندگی تو کرے گی لیکن اس کے پاس قانون کی طاقت نہیں ہو گی۔ اس کے بجائے یہ وفاقی حکومت کے لیے ایک باضابطہ سفارش کا کام دے گی کہ وہ قانون سازی کے مسودے پر غور کرے اور کسی بھی ملک گیر پابندی کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری درکار ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں