پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں احتجاجی مظاہروں میں نو افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے حامیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تازہ جھڑپوں میں نو افراد ہلاک اور ایک درجن زخمی ہو گئے، ایک اہلکار نے بدھ کو بتایا۔

معاشی اور گورننس اصلاحات کا مطالبہ کرنے والی تحریک جے اے اے سی کے حامیوں نے اس ہفتے سرکاری انتباہات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے علاقائی دارالحکومت مظفرآباد کی طرف مارچ کرنے کا عزم کیا۔

مظاہرے کافی حد تک ضلع پونچھ میں مرتکز ہیں جہاں کے اعلیٰ سویلین اہلکار سردار وحید نے اے ایف پی کو بتایا، "منگل کو شروع ہونے والے تشدد کے دوران سات شہری، ایک نیم فوجی اہلکار اور ایک پولیس افسر ہلاک ہو گئے۔"

انہوں نے مزید کہا، "اگر مظاہرین نے دارالحکومت کی طرف بڑھنے کی کوشش کی تو حکام مارچ روک دیں گے۔"

جون میں انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت جے اے اے سی پر مقامی حکومت کی پابندی کے بعد یہ بدامنی واقع ہوئی ہے جس میں سرکاری اعداد و شمار کی بنیاد پر اے ایف پی کے مطابق مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں 22 افراد ہلاک ہوئے۔

گروپ کے حامیوں نے "دہشت گردی" کا الزام مسترد کرتے ہوئے اسے "عوام کے خلاف ظلم" کا عمل قرار دیا اور اصرار کیا ہے کہ ان کی مہم جائز معاشی اور سیاسی حقوق کے لیے ہے۔

علاقے کے مختلف حصوں میں مظاہرین کے دھرنے ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہیں اور حکام نے جے اے اے سی کا مرکزی دفتر سیل کر کے سینکڑوں حامیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

پورے ضلع پونچھ میں دکانیں وسیع پیمانے پر بند اور عوامی نقل و حمل معطل رہی کیونکہ مظاہرین نے سڑکیں بند کر دیں۔

جے اے اے سی نے مقامی مقننہ کی 12 نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو ان لوگوں کے لیے مختص ہیں جو کشمیر کا بھارت کے زیرِ انتظام حصہ چھوڑ چکے ہیں۔

جے اے اے سی نے کہا ہے کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں مقامی پارلیمنٹ کی اپنے حق میں تشکیل کے لیے ان نشستوں کا استعمال کرتی ہیں اور جن مہاجرین کے لیے یہ نشستیں مخصوص ہیں، وہ زیادہ تر علاقے سے باہر رہتے ہیں۔

علاقائی انتخابات جولائی کے آخر میں ہونے والے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں