پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کو بعض چیلنجز کا سامنا ہے؛ تاہم اسلام آباد سمجھتا ہے کہ خطے میں امن کے لیے یہ دستاویز ایک مؤثر فریم ورک ہے۔ پاکستان قطر کے ساتھ 22 جون 2026 کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق تمام فریقوں پر مذاکرات کی بحالی پر زور دیتا رہے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ اور صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے، مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل اور آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کے لیے پاکستان بدستور اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ طاہر اندرابی کے بہ قول اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں امن کے لیے ایک مؤثر فریم ورک ہے، جبکہ پاکستان قطر کے ساتھ 22 جون 2026 کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق تمام فریقوں پر مذاکرات کی بحالی پر زور دیتا رہے گا۔
🔴LIVE: Spokesperson's Weekly Press Briefing 16-07-2026 at Ministry of Foreign Affairs, Islamabad https://t.co/v76caqFugZ
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) July 16, 2026
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ تمام تنازعات اور اختلافات کا پائیدار حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں امن، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے خصوصاً ترقی پذیر ممالک شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان عالمی توانائی کی فراہمی، تجارت، خوراک کے تحفظ اور دیگر اقتصادی شعبوں پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے بخوبی آگاہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال جلد معمول پر آئے گی اور بحری جہازوں کی محفوظ، آزاد اور بلا تعطل آمدورفت یقینی بنائی جائے گی۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران پاکستان نے اہم علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطے برقرار رکھے ہیں تاکہ کشیدگی میں کمی، مذاکرات کے فروغ اور تنازعات کے پرامن حل کی راہ ہموار کی جا سکے۔