.

محمد مرسی، الظواہری اور اوباما

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ کے رہنما ڈاکٹر ایمن الظواہری چودہ سال کی عمر میں اخوان المسلمون میں شامل ہو گئے تھے لیکن جوانی کی دہلیز میں قدم رکھنے کے بعد انہوں نے اخوان کو چھوڑ دیا۔ اخوان سیاسی جدوجہد کے ذریعہ مصر میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے کوشاں تھی لیکن جمال عبدالناصر کے دور حکومت میں اخوان پر پابندی لگادی گئی۔ اس پابندی نے اخوان کے حامی بہت سے نوجوانوں کو مزاحمت پر اکسایا ، کچھ کی مزاحمت کو حکومت نے بغاوت قرار دے کر جیلوں میں ڈال دیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔

جیل میں تشدد کا نشانہ بننے والوں میں ڈاکٹر ایمن الظواہری بھی شامل تھے۔ جیل سے نکلنے کے بعد انہوں نے مصر میں حکومت کی تبدیلی کے لئے سیاسی جدوجہد کی بجائے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کرلیا اور اپنے پرانے اخوانی ساتھیوں سے کہا کہ وہ سیاست و جمہوریت کے راستے مصر میں اسلامی نظام نافذ نہیں کرسکتے ،کیونکہ ریاست پر سیکولر عناصر کا غلبہ ہے اور یہ سیکولر عناصر اپنا اقتدار بچانے کے لئے دنیا کا ہر ظلم جائز سمجھتے ہیں لہٰذا ان ظالموں کا مقابلہ ووٹ سے نہیں بندوق سے کرنا چاہئے۔کچھ نوجوان ڈاکٹر ایمن الظواہری کے ساتھ جاملے لیکن اکثر اخوانیوں نے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھی۔2012ء میں اخوان نے فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے نام سے مصر کے انتخابات میں اکثریت حاصل کی اور محمد مرسی مصر کے صدر بن گئے۔

محمد مرسی کے صدر بننے کے کچھ عرصے کے بعد ڈاکٹر ایمن الظواہری نے ایک طویل آڈیو پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے مرسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ فلسطین کی آزادی کے لئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھا رہے۔ الظواہری کا اصل نشانہ مرسی نہیں بلکہ ان کی پرانی جماعت اخوان المسلمون تھی۔ الظواہری نے58منٹ لمبے آڈیو پیغام میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ جمہوریت ایک دھوکہ ہے اور اخوان المسلمین کی قیادت جمہوریت کے ذریعہ مصر میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکتی۔ مرسی کو ایک طرف ڈاکٹر ایمن الظواہری کی تنقید کا سامنا تھا تو دوسری طرف مصر کی فوج اور عدلیہ بھی ان کے ساتھ تعاون نہ کررہی تھی۔ عوام کے مسائل بھی حل نہ ہوپائے اور ایک سال کے اندر اندر فوج، عدلیہ اور محمد البرادی نے النور پارٹی کو اپنے ساتھ ملا کر محمد مرسی کی منتخب حکومت ختم کردی۔محمد مرسی کی منتخب حکومت کے خاتمے پر امریکہ اور اقوام متحدہ کی خاموشی سے یہ تاثر لیا گیا کہ مصر کے فوجی جرنیلوں نے عالمی طاقتوں کی آشیرباد سے محمد مرسی کی حکومت ختم کی۔محمد مرسی میں بہت سی خامیاں تھیں لیکن جس انداز میں ان کی حکومت ختم ہوئی اس انداز نے انہیں مصری عوام کی اکثریت کی نظروں میں مظلوم بنادیا ہے۔ اب یہ سوال اہم نہیں ہے کہ وہ عہدہ صدارت پر بحال ہوتے ہیں یا نہیں اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ3جولائی 2013ء کو مصر میں فوجی بغاوت کے بعد جو خانہ جنگی شروع ہوئی ہے اس کے کیا نتائج نکلیں گے؟

میری ناچیز رائے میں مصر کی خانہ جنگی کا سب سے زیادہ فائدہ ڈاکٹر ایمن الظواہری اٹھائیں گے۔ اس خانہ جنگی کے اثرات پاکستان اور افغانستان سمیت کئی مسلم ممالک پر مرتب ہونگے۔ مصر میں اسلام پسندوں کی منتخب حکومت کو ٹینک اور بندوق کی طاقت سے ختم کرنے والوں نے ڈاکٹر ایمن الظواہری کے اس موقف کو سچا ثابت کردیا کہ جمہوریت کے ذریعہ تبدیلی نہیں لائی جاسکتی۔ہم اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرسکتے کہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کا تعلق مصر کے ایک ایسے خاندان سے ہے جس کی شہرت بہت اچھی ہے ۔ ان کے والد ڈاکٹر ربیع الظواہری قاہرہ یونیورسٹی میں میڈیکل کے پروفیسر تھے۔ اس خاندان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ایمن الظواہری خود بھی سرجن بنے۔ وہ مصرکے انتہائی پڑھے لکھے طبقے سے تعلق رکھتے تھے لیکن ریاستی جبر و تشدد کے ردعمل میں القاعدہ سے جاملے۔

اپریل 1996ء میں ڈاکٹر ایمن ا لظواہری اور اسامہ بن لادن سوڈان میں مقیم تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اسامہ بن لادن اور ان کے ساتھی سوڈان میں بیٹھ کر دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو جہاد کی طرف مائل کررہے تھے۔ انہی دنوں سوڈان میں عام انتخابات ہوئے تو اسامہ بن لادن نے حسن الترابی کی بھرپور مدد کی۔ترابی نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور سوڈان کی پارلیمنٹ کے سپیکر بن گئے لیکن اس دوران سوڈان کے صدر عمر البشر نے امریکی دباؤ پر اسامہ بن لادن کو سوڈان چھوڑنے کا حکم دیدیا۔حسن الترابی پارلیمنٹ کا سپیکر ہونے کے باوجود اسامہ بن لادن کی مدد نہ کرسکے اور مئی1996ء میں اسامہ بن لادن سوڈان سے ا فغانستان آگئے۔مجھے یاد ہے کہ مارچ1997ء میں میری اسامہ بن لادن کے ساتھ ملاقات ہوئی تو ان کے ہمراہ مصر کے نابینا عالم عمر عبدالرحمان کے ایک صاحبزادے بھی موجود تھے۔ عمر عبدالرحمان امریکہ میں قید ہیں۔ انہوں نے بھی اخوان المسلمون کے ذریعہ سیاسی جدوجہد شروع کی لیکن پابندیوں کا سامنا کرنے کے بعد مصری حکومت کے خلاف اعلان جہاد کردیا۔ مئی1998ء میں اسامہ بن لادن سے قندھار میں ملاقات ہوئی تو ڈاکٹر ایمن الظواہری بھی ا ن کے ہمراہ تھے۔ڈاکٹر صاحب نے مجھے الجزائر کی مثال دی اور کہا کہ اسلامک سالویشن فرنٹ نے انتخابات میں اکثریت حاصل کرکے حکومت بنائی لیکن الجزائر کی فوج نے اسلام پسندوں کی حکومت ختم کردی اور اسلامک سالویشن فرنٹ کا انجام دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کے لئے ایک سبق ہے۔

گیارہ ستمبر2001ء کو نیویارک اور واشنگٹن میں القاعدہ کے حملوں کے دوماہ کے بعد افغانستان میں اسامہ بن لادن اور ڈاکٹر ایمن الظواہری سے ایک اور تفصیلی ملاقات ہوئی تو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں فوجی بغاوت کو غداری کہا گیا ہے لیکن پاکستان میں فوجی بغاوت کرنے والوں کو آپ کی عدلیہ باغی قرار نہیں دیتی بلکہ ان کی بغاوت کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دیتی ہے لہٰذا آپ کا آئین ایک مذاق ہے اور اس قسم کا مذاق نہ تو جمہوریت بچا سکتا ہے نہ پاکستان کو بچا سکتا ہے، پاکستان کو صرف جہاد بچا سکتا ہے۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے بحث نہیں کی۔کچھ عرصہ پہلے ڈاکٹر ایمن الظواہری کی ایک کتاب”الصبح و القندیل“شائع ہوئی جس کا اردو ترجمہ ”سپیدہ سحر اور ٹمٹماتا چراغ“ کے نام سے سامنے آیا۔ اس کتاب میں ا نہوں نے پاکستان کے آئین کو کفر قرار دیدیا کیونکہ اس آئین کی دفعہ38میں سود ختم کرنے کا وعدہ کیا گیا لیکن یہ وعدہ پورا نہ ہوا، نیز صدر پاکستان کو سزائے موت معاف کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔میں ڈاکٹر ایمن الظواہری کی رائے سے اتفاق نہیں کرتا کیونکہ ہماری پارلیمنٹ چاہے تو سود ختم کرسکتی ہے اور یہ اختیار آئین میں موجود ہے۔ پارلیمنٹ چاہے تو سزائے موت معاف کرنے کا اختیار صدر سے چھین سکتی ہے اور راستہ آئین میں موجود ہے۔قصور آئین کا نہیں ہمارے منتخب ارکان پارلیمنٹ کا ہے لیکن مجھے تشویش اس بات کی ہے کہ جمہوریت کو فوجی جرنیلوں کی سازشیں ناکام کریں یا سیاستدانوں کی نااہلی اور مفاد پرستی ناکام کرے فائدہ ان لوگوں کو ہوگا جو بندوق اور بم کے ذریعہ تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔

مت بھولئے کہ اخوان المسلمون صرف مصر میں نہیں بلکہ سوڈان، لیبیا، صومالیہ، تیونس، الجزائر، یمن، کویت، عراق، اردن، شام، بحرین، موریطانیہ اور انڈونیشیا میں مختلف ناموں سے انتخابی سیاست میں حصہ لیتی ہے۔ فلسطین میں حماس کو بھی اخوان کا حامی سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں جماعت اسلامی بھی اخوان المسلمون کی توسیع کہلاتی ہے۔ محمد مرسی کی حکومت کا خاتمہ ان تمام ممالک کے ناراض نوجوانوں کو عسکریت پسندی کی طرف مائل کرے گا وہ لوگ جو افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کو بندوق کا راستہ چھوڑ کر آئین کے اندر رہ کر مذاکرات کی تلقین کرتے ہیں انہیں محمد مرسی کے انجام پر زیادہ تشویش ہے۔ فرض کریں کہ افغان طالبان بندوق چھوڑ کر آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کردیتے ہیں ، انتخابات میں اکثریت بھی حاصل کر لیتے ہیں لیکن اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ عالمی طاقتیں ان کے ساتھ وہ نہیں کریں گی جو انہوں نے الجزائر اور مصر کے اسلام پسندوں کے ساتھ کیا؟ منتخب حکومت الیکشن کے ذریعہ آتی ہے اور الیکشن سے جاتی ہے۔ امریکہ اور اقوام متحدہ نے محمد مرسی کی منتخب حکومت کے خاتمے پر خاموشی اختیار کرکے دنیا بھر کے اسلام پسندوں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ وہ جمہوریت کے راستے پر چلتے رہیں یا اس راستے کو چھوڑ دیں؟ کوئی مانے یا نہ مانے محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد قطر میں افغان طالبان کے نمائندوں اور امریکی حکومت میں مذاکرات کا آگے بڑھنا مشکل ہوگیا ہے۔ امریکی حکومت کی پالیسی نے ڈاکٹر ایمن الظواہری کو سچا ثابت کردیا ہے۔ افغان طالبان کس پر اعتماد کریں؟ الظواہری پر یا اوباما پر؟ بہتر ہوگا کہ اوبامہ مصر میں محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے کی کھل کر مذمت کریں۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.