.

کیا ہم احسان فراموش ہیں؟

محمد بلال غوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعرات 8صفرالمظفر 1435ھ بمطابق 12دسمبر2013ء کی صبح اخبار کھولا تو ’جنگ‘‘ کے ادارتی صفحہ پر ایک مراسلہ دیکھ کر بے ربط دل کے تار چھڑ گئے اور ایک ہی دھن سماعتوں پر ہتھوڑے برساتی نظر آئی کہ اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لو ،اب یہاں کوئی نہیں ،کوئی نہیں آئے گا۔ایک وکیل نے اپنے مراسلے میں چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی ہے کہ آپ عوامی نوعیت کے معاملات پر سوموٹو نوٹس لیا کرتے ہیں ،براہ کرم اس پر بھی از خود نوٹس لیں کہ وکلاء کی آئے دن ہڑتالوں کے باعث سستے انصاف کی بروقت فراہمی کا خواب پورا نہیں ہو پا رہا اور لوگ قانون ہاتھ میں لینے پر مجبور ہیں۔

حضور! آپ بھی کمال کرتے ہیں ،چیف تیرے جانثار ،بیشمار بیشمار کے نعرے لگانے والوں نے جاتے جاتے عدلیہ کے ’’افتخار‘‘کی جو عزت افزائی کی ،کیا اس کے بعد بھی کوئی آپ پر انگلی اُٹھانے کی جسارت کر پائے گا؟آپ کا بال تو جسٹس افتخار بھی بیکا نہ کرپائے،ہاں البتہ جانے سے کچھ ہفتے پہلے سپریم کورٹ میں توڑ پھوڑ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دے گئے،یہی وجہ ہے کہ سب جانثار ان سے برسر پیکار ہو گئے۔ ڈر لگتا ہے کہ جسٹس افتخار کے ساتھ ہی سوموٹو کی اصطلاح بھی ریٹائر ہو گئی ہے، یہ بھی خوف ہے کہ اب اس اختیار پر نظرثانی ہو گی اور پہلے سے موجودعرضیاں دیمک کی خوراک بنیں گی۔اب خطرہ ہے کہ ایئر پورٹ پر کسی کے بیگ سے شراب برآمد ہو یا کراچی سے بھتے کی پرچیاں نکلیں ،کوئی ازخود نوٹس نہیں ہو گا۔ مزید اندیشہ ہے کہ اب حکومت پیٹرول کی قیمت بڑھائے،بجلی کے بلوں پر نت نئے ٹیکس لگائے،ڈالر مہنگا ہوجائے،کوئی لاپتہ ہو یا مر کھپ جائے،کوئی باز پرس نہیں ہو گی کیونکہ یہ سب تو حکومت کے کرنے کے کام ہیں۔اس دن پہلی بار شہر اقتدار میں جشن طرب برپا ہوا ہو گا اوراپنے دفاتر میں بیٹھے وفاقی وزراء نے سکھ کا سانس لیا ہو گا،بیوروکریٹس نے کسی پنج تارا ہوٹل میں سرد گرم مشروبات سے جی بہلاتے ہوئے اپنی آزادی کی پہلی شام منائی ہوگی،پارٹ ٹائم وزیر دفاع خواجہ آصف نے لاپتہ افراد سے متعلق اعداد و شمار یاد رکھنے کے لئےجو پرچیاں اپنی جیب میں ڈال رکھی تھیں ،وہ ڈسٹ بن کی زینت بن گئی ہوں گی،اٹارنی جنرل جیسا نفیس اور باضمیر انسان عدالتوں کے چکر لگانے کے بجائے اپنے دفتر میں بیٹھا سوچ رہا ہو گا کہ جھوٹ سے گریز اور سچ سے اجتناب کی آزمائش ختم ہوئی اور آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں زیر علاج آئی جی ایف سی میجر جنرل اعجاز شاہد کو ان کے معالجین نے ڈسچارج کرنے کا فیصلہ کر لیا ہو گا۔

نئے چیف جسٹس کی تقریب حلف برداری کے بعد وزیراعظم نے اپنے مشیروں کو طلب کیا ہو گا اور 31وزارتوں کے 167محکموں کے سربراہان کی تقرری کے لئے مشاورت کی ہوگی۔اب جسےچاہیں چیئرمین پی سی بی لگا دیں ،پی ٹی وی کے چیئرمین کا تقرر کریں ،سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کی سربراہی کا فیصلہ کریں ،چیئرمین نیپرا کی تعیناتی کریں،سول ایوی ایشن اتھارٹی کی سربراہی کسی دہری شہریت کے حامل شخص کے سپرد کردیں ،ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین کا تقرر کریں ،سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کا سربراہ لے آئیں ،نیشنل ہائوسنگ اتھارٹی کا چیئرمین لگائیں،چیئرمین ڈرگز ریگولیٹری اتھارٹی کے منصب پر من پسند فرد کی تعیناتی کریں ،نیشنل آرکائیوز پاکستان کی سربراہی کا نوٹیفیکیشن جاری کریں ، کوئی ان تقرریوں پر سوال نہیں اُٹھائے گا۔ جن افراد کو یہ پریشانی تھی کہ سی ڈی اے، ٹیلی کام فائونڈیشن،انٹیلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن،پاکستان ورکس ڈیپارٹمنٹ ،پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس ،پاکستان سینٹرل کاٹن کمپنی اور پاکستان ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن جیسے ادارے کئی ماہ سے سربراہان کے بغیر چل رہے ہیں ،ان کی پریشانیوں کا مداوا جلد ہی ہو جائے گا اور ان سب خالی آسامیوں پر میرٹ کے مطابق باصلاحیت افراد کی تعیناتیاں جلد ہی کردی جائیں گی۔

چیف جسٹس افتخار چوہدری کے رخصت ہوتے ہی ان پر تنقید و تعریض کی گرد اُڑانے والوں کی دشنام طرازی دیکھ کر خیال آتا ہے کہ کوفی تو ناحق بدنام ہیں وگرنہ کوفیوں کی سی روش اور جبلت تو بہت سے لوگوں نے پائی ہے۔چڑھتے سورج کے پجاریوں کو ڈھلتا اور غروب ہوتا آفتاب کیسے بھائے،یہ تو سورج مُکھی کے پھول ہیں ،ڈھلتی کرنوں کے ساتھ ہی بدل جاتے ہیں ۔کہنے کو تو یہ بھی چیف تھے مگر وہ والے چیف نہیں جنہیں گارڈ آف آنر دیکر رُخصت کیا جاتا ہے اور نہ ہی اس قبیل کے چیف کہ جن کے بارے میں تاثر ہے کہ مرا ہوا ہاتھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے۔افسوس ہم نے ایک بار پھر یہ ثابت کردیا ہے کہ ہم بے وفا اور احسان فراموش قوم ہیں، ہمیں اپنے محسنوں کو رُسوا کرنے کی علت ہے۔ آپ ماضی کے جھروکوں میں جھانکنے کی زحمت نہ کریں ،یہ تو کل کا قصہ ہے اور آج اک درد بھرے ماضی کا حصہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا گیا؟بھارت نے اپنے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر زین العابدین عبدالکلام کو صدر مملکت کی مسند پر بٹھایا اور ہم نے انہیں یوں اپنی نظروں سے گرایا کہ وہ ہار کے خوف سے انتخابات میں حصہ ہی نہ لے پائے۔

صادقین برصغیر کے عظیم مصور اور خطاط تھے،ان کے فن کے قدردان پوری دنیا میں موجود ہیں ۔10فروری1987ء میں ان کا انتقال ہواتو ان کے وارثوں کے پاس واحد اثاثہ کراچی کے سیکٹر ناظم آباد کا گھر تھا۔اگر یہ عظیم انسان کسی اور ملک کا باسی ہوتا تو حکومت یہ گھر خرید کر اسے آرٹ گیلری میں تبدیل کر دیتی۔مگر ان کے فن پاروں کا امین یہ گھر ان کے وارثین کو بیچنا پڑا اور وہاں کمرشل بلڈنگ بنادی گئی۔ مہدی حسن جیسا گلوکار جس کے بارے میں بھارت والے کہتے ہیں کہ اس کے گلے میں بھگوان بولتا ہے۔وہ عظیم فنکار علیل ہوا تو کسی نے در خور اعتناء نہ گردانا اور ایک بھارتی تاجر امیت سنگھ نے دہلی بلا کر اپنے خرچ پر علاج کرایا۔حفیظ جالندھری جیسا شاعر جس نے پاک سرزمین شاد باد کے ترانے لکھے ،اس کے بیٹے لاہور کے اچھرہ پُل پر باپ کی کتابیں بیچتے نظر آئے،حبیب جالب کے ساتھ جو بے رُخی اور بے اعتنائی روا رکھی گئی ،وہ کسے یاد نہیں ۔جوش ملیح آبادی اپنے زمانے کے عظیم شاعر تھے،وہ پاکستان آنے لگے تو جواہر لعل نہرو نے روکنے کے لئے لاکھ جتن کیئے،لیکن پاکستان کی محبت میں آیا یہ شاعر گمنامی کی موت مر گیا۔صرف شعراء اور ادیبوں پر ہی کیا موقوف،احسان فراموشی کا یہ رویہ ہر شعبہ زندگی میں واضح نظر آتا ہے۔شاہد آفریدی کی پرفارمنس اچھی ہو تو ہیرو،ایک آدھ میچ یا سیریز میں ناکامی ہو تو زیرو۔ہم سر چڑھانے اور کندھوں پر بٹھانے میں دیر لگاتے ہیں نہ نیچے پٹختے وقت کچھ سوچتے ہیں۔

عدلیہ میں بھی حق گوئی و بیباکی پر ڈٹ جانے والوں کی فہرست میں کئی لوگ ہیں۔جسٹس رُستم کیانی،جسٹس سعیدالزماں صدیقی بھی تو عدلیہ کا افتخار تھے مگر ہم نے فراموش کردیا۔کیا افتخار چوہدری کو بھی بھلا دیا جائے گا؟میرا خیال ہے اپنی تمام تر بشری کمزوریوں اور خطائوں کے باوجود افتخار چوہدری عوام کے دلوں کی دھڑکن ہے۔ان کی تلواریں بیشک ساتھ نہ ہوں مگر دل افتخار چوہدری کے ساتھ ہیں ۔لیکن اگر ہم نے اپنی اس محبت کو آشکار نہ کیا اور ہوا کے دوش پر چلنے والوں کی تنقید کا جواب نہ دیا تو مورخ ہمیں بھی ان کے ساتھ احسان فراموش اور بے وفا شمار کرے گا۔آپ سوچ رہے ہوںگے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔آپ جسٹس افتخار چوہدری کے لیے کوئی ملین مارچ نہیں کر سکتے ،کوئی جلوس نہیں نکال سکتے لیکن یہ تو کر سکتے ہیں کہ اپنے شہر کے کسی چوراہے کو افتخار اسکوائر کا نام دیں ،وہاں جسٹس افتخار کی ایک بڑی تصویر لگائیں۔ ہر شخص ایک گلدستہ لیکر اس پر یہ جملہ لکھے’’تم واقعی ہمارا افتخار ہو‘‘ اور اس گلدستے کو اس چوراہے میں رکھ آئے۔اسلام آباد اور راولپنڈی کے رہائشی جوڈیشل کالونی کے بنگلہ نمبر 12کارُخ کریں اور ان کے گھر کے باہر گلدستوں کا ڈھیر لگا دیں۔فیس بک استعمال کرنے والے چند دن کے لئے افتخار چوہدری کی تصویر کو اپنی ڈی پی کی جگہ دیدیں۔ٹوئٹر استعمال کرنے والے ٹرینڈ بنائیں،جسٹس افتخار تجھے سلام۔کیا ہم اپنے چیف جسٹس کے لئے اتنا بھی نہیں کر سکتے؟کیا ہم یہ چاہتے ہیں کہ تاریخ ہمیں ایک بے وفا اور احسان فراموش قوم کے طور پر یاد کرے؟؟

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.