.

ایردوان اور بلدیاتی انتخابات

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں مقامی انتخابات کی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور 30 اپریل کو ترکی بھر میں بلدیاتی انتخابات ہوں گے۔ یہ انتخابات کئی لحاظ سے بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان انتخابات میں وزیراعظم ایردوان کی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (آق پارٹی) کو حذمت تحریک کے بانی فتح اللہ گؤلن حوجہ کی حمایت حاصل نہیں بلکہ اس بار فتح اللہ گؤلن حوجہ کی ہمدردیاں آق پارٹی کی مخالف جماعتوں کو حاصل ہیں اور آق پارٹی کو بائیں بازو کی ری پبلکن پیپلز پارٹی (CHP)، دائیں بازو کی نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی (MHP)، کردوں کی پیس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی (BDP) کے ساتھ ساتھ فتح اللہ گؤلن حوجہ کی بھی مخالفت کا سامنا ہے۔اس سے قبل ہونے والے تمام انتخابات میں فتح اللہ گؤلن حوجہ کے پیروکاروں نے ہمیشہ ہی آق پارٹی کا ساتھ دیا لیکن پہلی بار وہ آق پارٹی کے خلاف اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ اس سے قبل ترک باشندے ہمیشہ ہی دائیں بازو اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے دو مختلف محاذوں پر ایک دوسرے سے برسر پیکار رہے ہیں اور کبھی ایک دوسرے کے قریب آنے کی کوشش نہیں کی ہے لیکن ان بلدیاتی انتخابات میں پہلی بار دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے بائیں بازو میں اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے دائیں بازو کی سیاسی جماعت میں شامل ہونے میں کوئی عار محسوس نہیں کررہے ہیں۔ انقرہ اس کی بہترین مثال ہے۔

انقرہ سے آق پارٹی کے امیدوار ابراہیم ملیح گیوکچیک (جو گزشتہ بیس سال سے مسلسل میئر منتخب ہوتے چلے آ رہے ہیں) کے مقابلے میں بائیں باوز کی ری پبلکن پیپلز پارٹی نے جس امیدوار کو کھڑا کیا ہے ماضی میں ان کا تعلق ہمیشہ ہی سے دائیں باوز کی نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی سے رہا ہے لیکن اب وہ بائیں بازو کی جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر سے انقرہ کی میئر کے امیدوار ہیں۔ پیپلز پارٹی بھی اس بات سے اچھی طرح آگاہ ہے کہ انقرہ میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ووٹروں کی تعداد بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ووٹروں سے زیادہ ہے تو انہوں نے اس طریقے سے آق پارٹی کو زیر کرنے کی کوشش کی ہے۔ پارٹی کے چیئرمین کمال کلیچدار اولو نے دراصل جوا کھیلا ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس میں کس حد تک کامیاب رہتے ہیں۔

کہنے والے تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پارٹی کے امیدوار منصور یاواش کا نام فتح اللہ گؤلن حوجہ ہی نے پیش کیا جسے ری پبلکن پیپلز پارٹی نے قبول کرتے ہوئے اپنے مقاصد کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ انقرہ میں وزیراعظم ایردوان کو دھچکا پہنچایا جا سکے۔ اس سلسلے میں بائیں بازو کی ری پبلکن پیپلز پارٹی اور دائیں بازو کی نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی کے درمیان خفیہ سمجھوتہ بھی طے پا چکا ہے تاہم نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی نے کاغذی کارروائی کے طور پر اپنا امیدوار کھڑا کردیا ہے۔ ان انتخابات میں انقرہ کے میئر کیلئے صرف آق پارٹی اور ری پبلکن پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے درمیان ہی مقابلہ ہوگا جبکہ تیسری جماعت کے امیدوار کو برائےنام ہی ووٹ حاصل ہوں گے کیونکہ تیسری جماعت کے امیدوار کو جانے والے ووٹ ری پبلکن پیپلز پارٹی کے نقصان کا باعث بنتے چلیں جائیں گے۔ اس لئے انقرہ میں اگر ری پبلکن پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی تو اس کا سہرا MHP کے سر پر ہوگا۔ انقرہ میں ری پبلکن پیپلز پارٹی تنہا آق پارٹی کو شکست سے دوچار نہیں کر سکتی ہے۔ اس وقت ترکی کے جن بڑے شہروں میں سخت مقابلہ ہونے کی توقع ہے ان میں انقرہ سرفہرست ہے۔

البتہ استنبول میں موجودہ میئر قادر توپ باش اپنی پوزیشن مضبوط بنائے ہوئے ہیں اور وزیراعظم ایردوان نے استنبول میں دو ملین سے زائد مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے اس سبقت پر اپنی مہر ثبت کردی ہےحالانکہ یہاں پر ری پبلکن پیپلز پارٹی کے امیدوار مصطفیٰ ساری گؤل کو فتح اللہ گؤلن حوجہ کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں ان انتخابات میں آق پارٹی کا مقابلہ دیگر تمام جماعتوں کے اتحاد ( چاہے یہ کھلا اتحاد ہو یا خفیہ اتحاد ہو) سے ہوگا اور وہ ان انتخابات میں اس اتحاد کے مقابلے میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کس حد تک کامیاب رہتی ہے۔ اگر ان انتخابات میں آق پارٹی کو پورے ترکی میں 36 فیصد سے کم ووٹ ملے تو پھر آق پارٹی کیلئے خطرے کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو جائیں گی اور پھر پارٹی کے اندر شکست و ریخت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا جس کو روکنا آق پارٹی کے بس کا روگ نہیں رہے گا تاہم وزیر اعظم ایردوان کے جلسوں اور ان جلسوں میں عوام کی جوق در جوق شرکت اور کرائے جانے والے جائزوں سے پتہ چلا ہے کہ آق پارٹی کو بیالیس فیصد سے زائد ووٹ حاصل ہو جائیں گے جو کہ اس جماعت کی کامیابی ہی تصور کی جائے گی کیونکہ چار سال قبل ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں آق پارٹی نے 39 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے۔ اس طرح انتالیس فیصد سے زائد ووٹ آق پارٹی کی کامیابی کی عکاسی کریں گے تاہم ہمیں بلدیاتی انتخابات اور عام انتخابات کے فرق کو ذہن میں رکھنا ہو گا کیونکہ بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کے ساتھ ساتھ امیدوار کی اپنی پوزیشن بھی بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے جبکہ عام انتخابات میں عوام امیدوار سے زیادہ پارٹی کے حق میں ووٹ ڈالتے ہیں۔

یہ انتخابات وزیراعظم ایردوان اور صدر عبداللہ گل دونوں کے مستقبل کے لحاظ سے بھی بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ اگر ان انتخابات میں آق پارٹی 48 فیصد کے لگ بھگ ووٹ حاصل کرتی ہے (ملک کی تین بڑی انتخابی جائزے مرتب کرنے والی کمپنیوں نے سینتالیس فیصد سے انچاس فیصد تک آق پارٹی کو ووٹ پڑنےکے اعداد وشمار پیش کئے ہیں) تو پھر وزیراعظم ایردوان ماہ اگست میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں لازمی طور پر حصہ لیں گے لیکن اگر ان بلدیاتی انتخابات میں ان کو بیالیس فیصد یا اس سے کم ووٹ پڑتے ہیں تو وزیراعظم ایردوان صدارتی امیدوار کے طور پر اپنا نام پیش نہیں کریں گے بلکہ صدر عبداللہ گل کے نام کو اگلی مدت کے لئے پیش کریں گے۔ یاد رہے اگلے صدارتی انتخابات میں عوام اپنے ووٹوں سے براہ راست صدر کا انتخاب کریں گے۔ اس لئے آق پارٹی کو عبداللہ گل کو دوبارہ سے صدر منتخب کرانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑے گا۔ ایردوان کی جانب سے عبداللہ گل کو صدارتی امیدوار کھڑا کئے جانے کے بعد وزیراعظم ایردوان اپنے پارٹی منشور میں تبدیلی کراتے ہوئے (آئین کی رو سے ان کے چوتھی بار وزیراعظم کے طور پر انتخابات میں حصہ لینے کی کوئی پابندی نہیں ہے لیکن پارٹی منشور کے مطابق ان کو چوتھی بار وزیراعظم بننے کی اجازت نہیں ہے) اگلے سال ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لیں گے۔

آق پارٹی کو دیگر جماعتوں پر ایردوان ہی کی وجہ سے برتری حاصل ہے۔ ترکی کی تاریخ میں آج تک وزیراعظم ایردوان جیسا مقرر سامنے نہیں آیا ہے۔ جنہیں عوام سے خطاب کے دوران حاضرین میں جوش و خروش پیدا کرنے کے فن سے پوری آگاہی حاصل ہے ایک دن میں تین تین مختلف شہروں میں لاکھوں کے مجمعے کو اپنا اسیر بنانے میں ثانی نہیں رکھتے ہیں۔وزیراعظم ایردوان نے بلدیاتی انتخابی مہم کے دوران فتح اللہ گؤلن حوجہ اور ان کے اتحادی تین کے ٹولے کو ایک ہی پلڑے میں ڈال کر ان سب سے نبٹنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ وزیراعظم ایردوان نے جلسوں میں فتح اللہ گؤلن حوجہ کے خلاف بھی تقریریں کی ہیں اور مبصرین کا خیال ہے کہ وہ صورتحال کو اپنے حق میں بدلنے میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ مبصرین ہی کے اندازوں کے مطابق اگرچہ آق پارٹی اس بار بھی بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہے گی لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آق پارٹی حزب اختلاف کی ری پبلکن پیپلز پارٹی کے ناقابلِ تسخیر قلعے ازمیر میں نقب لگانے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں؟

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.