.

اسلام آباد کا مارچ اور واشنگٹن کا انقلابی اجتماع

عظیم ایم میاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ میں بیٹھ کر پاکستان میں عمران خان کے ’’آزادی مارچ‘‘ اور علامہ طاہر القادری کے ’’انقلاب مارچ‘‘ جیسی تاریخی کیفیت کا پاکستانی الیکٹرونک میڈیا اور امریکی میڈیا کے ذریعے چشم دید اور دانشورانہ تجزیوں کے ذریعے مشاہدہ کرنا نہ صرف محفوظ اور غیرجانبدارانہ مشاہدے اور تجزئیے کا موقع فراہم کر رہا ہے کہ بلکہ ’’موبوکریسی‘‘ یعنی ہجوم کی سیاست اور خوف سے بچتے ہوئے وسیع اور عالمی تناظر میں پاکستان کے مستقبل پر آئین سے بالاتر ہو کر ہجوم کی سیاست کے ممکنہ منفی اثرات پر بھی نظر ڈالنے کا موقع ملتا ہے۔ عالمی طاقت امریکہ کے حکومتی اور حساس ادارے بھی ایٹمی پاکستان کی صورتحال کو نہ صرف لمحہ بہ لمحہ مانیٹر کر رہے ہیں بلکہ ’’آزادی مارچ‘‘ اور ’’انقلاب مارچ‘‘ ’’عوامی پارلیمنٹ‘‘ کے فیصلوں کے ممکنہ نتائج کے حوالے سے اپنے آپشن بھی تیار کر چکے ہیں۔ 20 کروڑ آبادی کے پاکستان میں دونوں مارچ میں شرکاء کی تعداد نصف ملین یعنی پانچ لاکھ سے بھی کم ہے اور علامہ طاہر القادری گھر میں بیٹھے خاموش تماشائی پاکستانیوں کا گھر میں بیٹھنے کے عمل کو ’’حرام‘‘ عمل قرار دینے کا فتویٰ جاری کر دیا ہے جبکہ عمران خان نے گھروں میں بیٹھےکروڑوں پاکستانیوں کو شریک آزادی مارچ ہونے کا ’’فرمان‘‘ بھی جاری کر دیا ہے۔ ’’آزادی مارچ‘‘ اور ’’انقلاب مارچ‘‘ کی ممکنہ کامیابی کی صورت میں پاکستانی قوم کے لئے ایک ایسی ’’آزادی‘‘ اور ایسی ’’انقلابی‘‘ تبدیلی دیکھ رہا ہوں کہ جو پاکستان کو ایک نظام اور آئین کے احترام سے خالی غیرذمہ دار اور خودسر ہجوم کے گروہوں والا ملک قرار دے کر پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو خطرات لاحق اور عالمی امن کے لئے خطرہ قرار دے کر پاکستان کو ایٹمی اثاثوں کی حفاظت سے ’’آزادی‘‘ دے کر انہیں عالمی تحویل میں لینے کا مرحلہ بھی آسکتا ہے تاکہ ایٹمی اثاثوں سے محروم ہو کر آزاد پاکستان ایک انقلاب شدہ پاکستان اپنی تبدیل شدہ سمت میں سفر کر سکے۔

اگر یہ صورت پیدا ہوئی تو شمالی وزیرستان اور پاکستان کے داخلی محاذوں پر بھی مصروف کار پاکستانی فوج عالمی برادری کے سامنے کیا جواز پیش کرے گی؟ ’’آزادی مارچ‘‘ اور ’’انقلاب مارچ‘‘ کے قائدین دیگر اثرات کے علاوہ پاکستانی قوم کے خون اور ہڈیوں کی قربانیوں سے کمائے ہوئے ایٹمی اثاثوں اور پاکستان کے مستقبل پربھی نظر رکھیں۔ مگر عمران خان اور طاہر القادری تو اب خود اپنے ہی جمع کردہ ہجوموں کے جذبات اور نعروں کے ہاتھوں ’’اغوا‘‘ ہو چکے ہیں لہٰذا دھرنے کی اس سیاست میں وہ قائدِ اعظم کی طرح قانون اور نظام کے دائرے میں رہ کر فیصلے کرکے قیام پاکستان جیسے مدبرانہ اور جرأت مندانہ فیصلے کیسے کر سکتے ہیں؟ جوش قیادت و خطابت میں تو گھر میں بیٹھنے والے کروڑوں پاکستانیوں کو تو علامہ طاہر القادری ’’حرام‘‘ عمل کے مرتکب قرار دے چکے جبکہ گھر بیٹھے کروڑوں پاکستانی عمران خان کے فرمان کی حکم عدولی کا ارتکاب بھی کر رہے ہیں۔ ایک اور سوال یہ ہے کہ اگر گھروں میں بیٹھے کروڑوں پاکستانی دونوں لیڈروں کے ساتھ باہر نہیں آئے تو پھر ان دونوں مارچوں میں شامل ’’پاکستانی عوام‘‘ کی تعداد کتنی ہے؟ یہ تو دونوں کے حامیوں کا اجتماع ہے۔

آج یہ آئین اور نظام کو نہ مانیں تو کل کوئی ان سے بھی بڑا حامیوں کا ہجوم ’’پاکستانی عوام‘‘ کا روپ دھار کر نئے انقلاب اور آزادی کا جواز پیدا کرلے گا۔ ’’موبو کریسی‘‘ کے اس ماحول میں کامن سینس‘‘ کی بات اور سوالات ’’نان سینس‘ کا خطاب پاتے ہیں۔ ’’عوامی پارلیمنٹ‘‘ لگانے والے برطانیہ کے کرامویل کے انجام پر بھی نظر رکھیں۔ چلّی میں ’’انقلاب‘‘ اور تباہی پر بھی نظر ڈال لیں۔ لائبریا، کانگوا ور دیگر ملکوں میں ہجوموں اور گروہوں کی حالیہ سیاست کے نتائج پر بھی نظرڈال لیں۔ مذہبی لیڈر ٹیری جونز اور اس کے معتقدین کے مجمع کے المناک انجام پر بھی نظر ڈال لیں۔ التحریر اسکوائر کے اجتماع اور اس کے مصری قائدین کا انجام عالمی ماحول اور ضرورتوں کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ عمران خان نے اوورسیز پاکستانیوں سے بھی زرمبادلہ پاکستان نہ بھیجنے کی اپیل کی ہے۔ اور آئی ایم ایف کو بھی نئے قرضے ادا نہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ کیا یہ سب کچھ صرف چند اشخاص کو اقتدار سے محروم کرنے کی جدوجہد عالمی سطح پر پاکستان کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف نہیں۔ مجھے اور میری طرح لاکھوں اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان میں اقتدار کی دوڑ، حکومتی شخصیات یا اپوزیشن سے کہیں زیادہ دلچسپی پاکستان کے جغرافیائی تشخص اور تسلسل سے ہے۔ نواز شریف، شہباز شریف، عمران خاں جب کبھی امریکہ آئے انہوں نے ہمیشہ باہمی احترام اور عزت کے سلوک کے ساتھ انٹرویو بھی دیئے اور ذاتی ملاقات اور تبادلہ خیال بھی کیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو، جنرل (ر) پرویزمشرف، یوسف گیلانی اور امریکہ آنے والے بیشتر قائدین (ماسوائے ضیا الحق) ناموافق خبروں پر شکایات کے باوجود باہمی عزت و احترام کے ماحول میں خبری اور ذاتی طور پر میرے کرم فرما رہے ہیں۔

اپنے تاریخی فتوے کے نیو یارک میں اجرأ پر ان کی نظر میں ناموافق میری رپورٹنگ اور کالم کے باوجود دو ماہ قبل نیویارک میں ایک لنچ پر ملاقات اور خوشگوار تبادلہ خیال مجھ سے کر کے علامہ طاہر القادری لنچ کے منتظمین کو حیران فرما چکے ہیں۔ جہاں میں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے آئینی نظام سے باہر رہ کر ’’موبوکریسی‘‘ یعنی حامیوں کے ہجوم کے ذریعے ملک کے کرپٹ نظام اور حکومتی ایوانوں میں شخصیات کو ماورائے آئین تبدیل کرنے کا مخالف ہوں وہاں میں وزیر اعظم کےایک سال اقتدار میں رہنے کے دوران قانون سازی نہ کرنے، بعض مشیروں اور وزیروں کی موجودہ بحران کی غلط ہینڈلنگ، اوورسیز پاکستانیوں سے وعدے پورے نہ کرنے اور کرپشن کے خاتمہ کے لئے قانون سازی نہ کرنے پر ان حکومت پر بھی سخت تنقید و احتجاج کر رہا ہوں۔ اگر نواز شریف اور ان کے معاونین ان امور پر توجہ دیتے تو شاید عمران خان اور طاہر القادری دونوں کے لئے آئین سے بالاتر رہ کر مارچ اور ایجی ٹیشن کی صورت ہی پیش نہ آتی۔ لہٰذا شخصی مخالفت و حمایت کی بجائے اصول، اجتماعیت، ملک و قوم کے حال اور مستقبل کے تناظر میں اظہار خیال کر کے تصویر کا غیرطرفدارانہ اور غیر خوشامدانہ رخ پیش کرنا مجھ جیسے اوورسیز پاکستانی کیلئے زیادہ مفید ہے۔ اوورسیز پاکستانی یہی سوچتے ہیں۔

اِدھر وہائٹ ہائوس اور پنٹاگون سے تھوڑے فاصلے پر واشنگٹن میں امریکہ کے پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم ’’اپنا‘‘ نے بھی اس سال پاکستان کی یوم آزادی پر دو ہزار کمروں اور کئی بڑے بڑے ہالوں پر مشتمل ایک خوبصورت ’’ریزارٹ‘‘ کے اندر ایک چار روزہ ’’انقلابی‘‘ دھرنا دیا۔ ’’انقلابی‘‘ یوں کہ امریکہ میں پاکستانی نژاد ڈاکٹروں کی مؤثر تنظیم ’’اپنا‘‘ (A.P.P.N.A) نے اپنے انتخابی شیڈول اور 36 سال سے ہونے والے سالانہ کنونشن کے شیڈول میں پہلی بار تبدیلی کرکے کنونشن پاکستان کے یوم آزادی کی سالگرہ کے موقع پر کیا۔

تبدیلی اور انقلاب یہ بھی تھا کہ صحافیوں اور میڈیا کو فاصلے پر رکھنے اور امتیازی سلوک کا طویل ریکارڈ رکھنے والی تنظیم ’’اپنا‘‘ نے اپنے موجودہ صدر ڈاکٹر آصف رحمٰن اور ان کے معاون ساتھیوں کی کوششوں اور تحریک سے پہلی مرتبہ محترم حسن نثار، سہیل وڑائچ اور فیصل عزیز خاں جیسے نامور صحافیوں کو مدعو کرکے ایک سوشل فورم منعقد کیا جس میں سابق سفیر حسین حقانی بھی شامل مذاکرہ تھے۔ ڈاکٹر جبار، ڈاکٹر سہیل چیمہ اور خالد علی کی مہمان صحافیوں کی دیکھ بھال اور قابل تعریف انداز ایک نئی اور خوشگوار ابتدا ہے۔ پاک۔ امریکہ تعلقات کے حوالے سے بھی ایک اور اہم مذاکرہ بعنوان ’’پاکستان میں امن اور جمہوریت‘‘ مذاکرہ میں ایسی امریکی شخصیات کو مدعو کیا گیا جو پاک۔ امریکہ تعلقات کے خفیہ اور اعلانیہ ڈپلومیسی اور حقائق سے بخوبی واقف تھے۔ امریکی سی آئی اے اور اس سے قبل نیشنل سیکورٹی ایجنسی کے سابق سربراہ اور فوراسٹار امریکی جنرل (ر) مائیکل ہیڈن، پاکستان آفیسرز کے محکمہ خارجہ میں ڈائریکٹر جو ناتھن پراٹ، اور دو امریکی تھنک ٹینکوں کے دانشور شامل مذاکرہ تھے۔ یہ ایک اچھا عمل ہے۔ ڈائو میڈیکل یونیورسٹی اور دیگر اداروں کے فارغ التحصیل ڈاکٹروں نے سوشل فورم بھی منعقد کئے اور پاکستان میں ڈاکٹروں کے قتل کے خلاف احتجاج بھی کیا۔ مشاعرہ ،فیشن شو، فنکاروں کے پروگرام پر مشتمل یہ چار روزہ پروگرام کئی لحاظ سے ماضی سے بہتر اور انقلابی تھا مگر بعض معا ملات میں قابل تنقید بھی ہے۔ انقلابی تبدیلیوں کے باوجود ’’اپنا‘‘ میں جمہوری تسلسل بھی کارفرما ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.