.

اعزازات کی لوٹ سیل

محمد بلال غوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہر سال 14 اگست اور 23 مارچ کے موقع پر ایوان صدر یا وزیر اعظم ہائوس میں تقسیم اعزازات کی تقریب ہوتی ہے ۔چند روز قبل ایک قاری نے ای میل کے ذریعے سوال کیا: "جناب! حکومت ہر دوسرے دن جو ایوارڈ اور تمغے دیتی ہے مجھے تو آج تک سمجھ نہیں آئی کہ یہ ایوارڈ کس بنیاد پر دیئے جاتے ہیں آپ باخبر کالم نگار ہیں کچھ روشنی ڈالیں اس معاملے پر۔" کسی بھی ملک کے حکمرانوں کی سوچ اور اپروچ معلوم کرنے کی ایک کسوٹی ایوارڈز اور اعزازات کی تقسیم بھی ہے اور مجھے تو اس ضمن میں ایک ہی پیمانہ نظر آتا ہے وہ ہے ذاتی پسند ناپسند۔ ہمارے ہاں آج تک جتنے بھی سول ایوارڈ دیئے گئے ہیں ان میں سے چند ایک کے سوا باقی سب یا تو غیر ملکیوں کو خوش آمد اور چاپلوسی کے پیش نظر دیئے گئے یا پھر اندھے کی طرح اپنوں میں ریوڑیاں بانٹی گئیں۔ اگر کسی ملک کے حکمرانوں کی ترجیحات کو جانچنا ہو یا سوچ کو پرکھنا ہو تو بس یہ حساب لگا لیں کہ سرکاری اعزازات کن لوگوں میں اور کن بنیادوں پر تقسیم کئے گئے۔ ہم اداروں کے استحکام، پالیسیوں کے تسلسل، جمہوری نظام اور معاشی حکمت عملی کے لحاظ سے تو ہمسایہ ملک بھارت سے موازنہ کرتے ہی رہتے ہیں کیوں نہ آج سول ایوارڈز کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کا تقابل کر کے دیکھیں۔

بھارت رتنا بھارت کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ہے جس کا اجرا 2جنوری 1954ء کو ہوا اور اب تک 57 سال کے دوران 41 شخصیات کو یہ ایوارڈ دیا گیا۔ ان 41 شخصیات میں سے 6 بھارتی سربراہان مملکت (گورنر جنرل راج گوپال اچاریہ، صدر رادھا کرشن، ڈاکٹر راجندر پرشاد، ڈاکٹر ذاکر حسین، وی دی گری اور اے پی جے عبدالکلام ) ہیں۔ 6 وزرائے اعظم (جواہر لعل نہرو، لعل بہادر شاستری، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، مرار جی ڈیسائی اور گلزاری لعل نندہ) ہیں۔ 4 وزرائے اعلیٰ (وزیر اعلیٰ بنگال پی سی رائے، وزیر اعلیٰ مدراس کے کامراج، وزیر اعلیٰ تامل ناڈو ایم جی راما چندرن اور وزیر اعلیٰ آسام گوپی ناتھ بردولی) شامل ہیں۔ 4 وزرا (وزیر داخلہ گوئندو لبھ نیت، وزیر داخلہ پائی پٹیل، وزیر تعلیم ابوالکلام آزاد اور وزیر زراعت چدم برمرسبرامینئم) کو اس اعزاز سے نوازا گیا ہے اسی طرح چھ سماجی کارکنان اور تحریک آزادی کے کارکنان کو بھارت رتنا کا حقدار سمجھا گیا۔ اسی طرح 5 موسیقاروں، ایک فلم ساز، ایک صنعتکار، ایک ادیب، ایک اسکالر، ایک ماہر اقتصادیات، ایک سول انجینئیر اور ایک ماہر طبیعات کو یہ اعلیٰ ترین سول ایوارڈ دیا گیا۔ بھارت رتنا حاصل کرنے والوں میں صرف 2 غیر ملکی (خان عبدالغفار خان اور نیلسن منڈیلا) شامل ہیں جبکہ باقی 39 بھارتی شہری ہیں۔

اب آجائیں پاکستان کی طرف۔ پاکستان کے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ نشان پاکستان کا آغاز 19مارچ 1957ء کو ہوا۔ اب تک جن 82 شخصیات کو یہ اعلیٰ ترین سول ایوارڈ دیا گیا ہے ان میں صرف 3 پاکستانی ہیں جبکہ باقی سب کے سب وہ غیر ملکی حکمران ہیں جنہیں خوش کرنے کے لئے سول ایوارڈز کی لوٹ سیل لگائی گئی۔ یہ 3 پاکستانی بھی وہ ہیں جنہوں نے خود اپنے آپ کو ایوارڈ دے دیا۔ جب صدرا سکندر مرزا، وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین اور ء1962 میں چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ایوب خان کے لئے اس ایوارڈ کا اعلان ہو اس وقت وہ خود برسراقتدار تھے۔ غیر ملکی شخصیات میں سے کئی شخصیات تو ایسی ہیں جنہیں ہماری حکومتوں نے 2، 2 مرتبہ نشان پاکستان سے نوازا۔ مثلا ملکہء برطانیہ کو 1960ء میں جنرل ایوب نے یہ اعزاز دیا اور 1997ء میں میاں نواز شریف نے۔ تھائی لینڈ کے بادشاہ بھومی بھول کو اور ان کی اہلیہ کو ء1962 میں ایوب خان نے نشان پاکستان عطا کیا اور ء1987 میں جنرل ضیاء الحق نے دوبارہ یہ ایوارڈ دیا، سعودی عرب کے شاہ عبداللہ کو 1998ء میں میاں نواز شریف کی حکومت میں نشان پاکستان ملا اور 2006ء میں جنرل مشرف نے ایک بار پھر یہ اعلیٰ ترین سول ایوارڈ دیا، اردن کے شاہ حسین کو 1966ء میں نشان پاکستان ملا اور پھر 1988ء کو یہ اعزاز دوبارہ ان کی خدمت میں پیش کیا گیا۔

اسی طرح جاپان کے شہنشاہ ہیروپیٹو کو 2 مرتبہ نشان پاکستان دیا گیا، ان کے ولی عہد اکی پیٹو کو بھی یہ ایوارڈ دیا گیا، قطر کے امیر شیخ حماد الثانی بھی ان افراد میں شامل ہیں جنہیں 2 مرتبہ نشان پاکستان ملا۔ مجموعی طور پر ترکی کے چھ صدور اور وزرائے اعظم، سعودی عرب کے 5 بادشاہ یا ولی عہد، ایران کے ڈکٹیٹر رضا شاہ پہلوی کے علاوہ 2 ایرانی صدور، چین کے 4 صدر اور وزرائے اعظم، جرمنی کے 3، چانسلر، فرانس، سوڈان، فلپائن اور ملائشیا کے دو دو حکمرانوں کو جبکہ نیپال کے 2 بادشاہوں کو نشان پاکستان کا ایوارڈ ملا۔

بھارت نے کسی پاکستانی حکمران کو ایوارڈ نہیں دیا لیکن ہم نے بھارتی وزیر اعظم جی ڈیسائی کو بھی نشان پاکستان سے نوازا۔ لیجنڈ بھارتی اداکار یوسف خان المعروف دلیپ کمار کو ابھی تک بھارتی حکومت نے بھارت رتنا کا حقدار نہیں سمجھا مگر حکومت پاکستان 1997ء میں انہیں نشان امتیاز دے چکی ہے۔ نشان پاکستان اس قدر فراخدلی سے تقسیم کئے گئے کہ افریقی ملک گنی، نائجیریا، گیمبیا، موریطانیہ، مینیگال، زیمبیا، کینیا اور ایتھوپیا سمیت شاید ہی کسی ملک کا ڈکٹیٹر اس پاکستانی سویلین ایوارڈ سے محروم رہا ہو یہاں تک کہ بنگلہ دیشی ڈکٹیٹر حسین محمد ارشاد کو بھی نشان پاکستان دیا گیا۔ گزشتہ برس 14 اگست کو ایوان صدر کی جانب سے جن 277 شخصیات کو سول اعزاز دینے کا اعلان ہوا اور 23 مارچ 2011ء کو ایک پروقار تقریب میں جنہیں ایوارڈز دیئے گئے ان میں 20 غیر ملکی شامل ہیں ایک جرمن باشندے کو نشانِ قائداعظم ملا۔ 2 چینی شہریوں اور ایک سعودی شخصیت کو ہلال پاکستان دیا گیا، ایک برطانوی کو ہلال امتیاز، 4 غیر ملکیوں کو ستارہ ء امتیاز، ایک کینیڈین کو پرائیڈ آف پرفارمنس، چین جاپان ناروے اور اٹلی کے ایک ایک شہری کو ستارہ ء امتیاز، ایک آئرش شخصیت کو ستارہء خدمت، 2 غیر ملکیوں کو تمغہء امتیاز، ایک جرمن کو تمغہ ء قائداعظم، ایک چائنیز اور ایک ڈچ شخصیت کو تمغہء خدمت دیا گیا۔

سرکاری اعزازات کی لوٹ سیل میں سب سے زیادہ نوازشات امریکہ پر ہوئیں۔ امریکی صدور نکسن اور آئزن ہاور کو تو نشان پاکستان ملا ہی مگر اس کے بعد ہر ایرے غیرے کو قومی اعزازات یوں دیئے گئے جیسے پرتپاک استقبال کے لئے پھول نچھاور ہوتے ہیں۔ امریکی معاون وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر کو ہلال قائداعظم ملا، امریکہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک کو ہلال پاکستان عطا کیا گیا، سنیٹر جو بائیڈن اور سنیٹر جان کیری کو ہلال پاکستان کے اعزازات سے نوازا گیا۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ بھی منفرد واقعہ ہے کہ ایک منتخب وزیراعظم نے اس وقت کے آرمی چیف کو اس لئے تمغہ جمہوریت دیا کہ اس نے مارشل لاء نہیں لگایا۔ اگر اس روایت کو بدلنا ہے تو پارلیمان کا مشترکہ سیشن ایک قرارداد پاس کر کے مخدوم جاوید ہاشمی کو تمغہ جمہوریت دے جس کی بغاوت نے جمہوریت کی ڈوبتی کشتی کو غرقاب ہونے سے بچایا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.