.

ہم سب صحافی ہیں!

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ نیوز چینل میں اپنی ملازمت کی تکمیل کے بعد بھی کئی سوالات ذہن میں اُبھر رہے ہیں۔کیا ہم وہ لوگ ہیں جو عوام کو ان کی ضرورت کے مطابق ذہنی خوراک دیتے ہیں یا وہ دھوبی ہیں جو ذہنوں کو غسل دیتے ہیں اور پھر انھیں استری کرتے ہیں؟اس سوال کا اگر غیر جانبداری سے جواب دیا جائے تو پھر ایک اور لازمی سوال پیدا ہوتا ہے اور یہ سوال باربار پوچھا جاتا ہے:کیا ابلاغ کے نئے ذرائع نے میڈیا میں افراتفری پیدا کی ہے یا تمام رکاوٹیں توڑ دی ہیں اور آزادی کو پھیلا دیا ہے؟

غیر جانبداری ایک بہت بڑا دانشورانہ عمل ہے اور میں یہ دعویٰ کرسکتا ہوں کہ میں نے اپنے کام کو اپنی رائے میں مدغم کرنے کی کوشش نہیں کی ہے اور اسی طرح اپنی رائے کو کام کے ساتھ گڈمڈ کرنے کی بھی کوشش نہیں کی۔اول الذکر عمل کرنا نسبتاً آسان ہے۔تاہم میں یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ میں موخرالذکر کام میں کامیاب رہا ہوں کیونکہ آراء قدرتی طور پر ہم پر حاوی ہوتی ہیں اور ہماری رہ نمائی کرتی ہیں۔

میں نے دس سال قبل جب روزنامہ الشرق الاوسط کو چھوڑا اور العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر کی حیثیت سے ذمے داریاں سنبھالیں تومیں نے یہ فیصلہ کیا کہ میرے مضامین العربیہ نیوز چینل کے پریس راؤنڈ اپ پروگرام میں شامل نہیں ہوں گے کیونکہ مفادات کا تصادم ہوسکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں ٹیلی ویژن کے بحث ومباحثوں سے دور رہا ہوں۔

کام کی نوعیت کے اعتبار سے یہ اقدام کرنا بہت آسان ہے جیسے دودھ سے کریم نکالی جاتی ہے۔تاہم اس کا ایک مطلب یہ بھی تھا کہ جب میں خبری واقعات کو دیکھ رہا ہوتا تھا تو اپنی آراء کو مقیّد کر لیا کرتا تھا۔میں نے محسوس کیا کہ یہ جذباتی فاصلہ تو دراصل انسانیت ہی کو جذبات سے عاری کرنا ہے بالکل ایسے جیسے دودھ سے تمام مکھن بلو لیا جائے اور اس کو بالکل بے ذائقہ اور بے اثر کردیا جائے۔

میں کیونکہ صحافت کا ایک گریجوایٹ ہوں،صحافت کے شعبے کا طالب علم ہوں اور مجھے اس پیشے میں اپنے سے زیادہ تجربے کار لوگوں سے معاملہ کرنا ہوتا ہے،اس لیے میں نے خبر کو رائے سے الگ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن میں اس میں کوئی زیادہ کامیاب نہیں ہوسکا ہوں۔ میں اس طویل عرصے تک کام کرنے کے بعد مطمئن ضمیر کے ساتھ یہ اعتراف کرتا ہوں کہ '' صرف خبر''بنانا اور ''صرف میڈیا ورک'' پروڈیوس کرنا محض ایک تھیوری ہے۔

اس نتیجے تک پہنچنے کی کچھ وجوہ ہیں۔اوّل یہ کہ کم وبیش ہم تمام لوگوں کی آراء ہوتی ہیں اور جس کی کوئی رائے نہیں ہے،وہ ایک مجہول غلام ہے۔دوم،یہ درست ہے کہ حقائق کومن وعن رپورٹ کرنا ہمارا فرض ہے لیکن ایک اہم بات آپ کے ذہن نشین رہنی چاہیے کہ سچ کے بہت سے چہرے ہوتے ہیں۔

آج میڈیا کی شخصیات کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خود کو ممیّز کرسکیں۔ماضی میں دوسروں کے لیے یہ قابل قبول تھا کہ وہ جب ہماری رائے یا خبر کو پسند نہیں کرتے تھے تو ہم پر پتھر پھینک سکتے تھے کیونکہ میڈیا پر ہماری اجارہ داری تھی مگر اب ایسی صورت حال نہیں رہی ہے اور ہمیں خود کو اس کا قصوروار ٹھہرانے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔اب تمام لوگ ہی میڈیا کی شخصیات ہیں۔لاکھوں لوگ اب سمارٹ فونز کے ساتھ ہمارے پیشے کا عملی کام کررہے ہیں۔ خبر کی تشہیر وابلاغ ،اس پر تبصرہ اور اپنے اپنے معاشروں میں اثرونفوذ اب رو بہ عمل ہے۔اب میڈیا صرف چند صحافیوں تک ہی محدود ہو کر نہیں رہ گیا ہے اور یہ مالکان یا میڈیا ذرائع کی اجارہ داری بھی نہیں رہ گیا ہے۔

لوگوں کی آزادیوں میں اضافے کے ساتھ ان کے مسائل میں بھی اضافہ ہوا ہے۔اس میں فطری اور ایک قسم کا منفی ربط ہے۔لوگوں پر بوجھ اور ذمے داریوں میں اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ ان کے درمیان معلومات کے تبادلے میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔اس اضافت کے ساتھ ساتھ اب قوانین میں ترامیم کی جارہی ہیں،عدالتیں قائم کی جارہی ہیں اور جیلوں میں بھی توسیع کی جارہی ہے کیونکہ نامناسب تبصرے کرنے والوں،گم راہ کن معلومات دینے یا تعصب کا مظاہرہ کرنے والوں کو بھی تو کہیں رکھنا ہے۔

اب ہر چیز تبدیل ہوچکی ہے۔حتیٰ کہ اب کرداروں پر بھی نظرثانی کی جارہی ہے اور تبدیل کیے جارہے ہیں۔پہلے کبھی ہم خبر کا ذریعہ ہوا کرتے تھے لیکن اب عوام ذریعہ ہیں۔ماضی میں ہم جولوگ اخبار پڑھتے تھے یا ٹیلی ویژن دیکھتے تھے ،انھیں مستفید کار (فائدہ کنندہ) کہا کرتے تھے لیکن آج وہ ہمارے شراکت دار ہیں۔ وہ خبر کا انتخاب کرتے ہیں،کاپی کرتے ہیں،پرنٹ کرتے ہیں،اس کو سکین کرتے، ایڈ یا حذف کرتے ہیں اور مرتب کرتے ہیں۔ہم تمام لوگ ہی آج کی میڈیا شخصیات ہیں۔فرق ہے تو صرف یہ کہ ایک جز وقتی ہے اور شراکت دار ہے اور دوسرا پیشہ ور اور تجربے کار ہے۔

میرا تجربہ مجھ سے یہ سوال پوچھتا ہے کہ ایک ذمے دار میڈیا کیا ہوا ؟کیا لاکھوں لوگوں کی مداخلت کے نتیجے میں یہ ہاتھ سے نکل چکا ہے؟ اگرچہ ''ذمے دار میڈیا'' ہمارے حلقوں میں ایک قابل نفرت اظہاریہ ہے کیونکہ یہ سنسرشپ کی ایک ملفوف اصطلاح ہے۔اب ڈیم کے ٹوٹنے اور معلومات کا سیلاب آجانے کے بعد اس کے بہت سے مطالب ہیں۔عمومی لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو سنسرشپ اپنی قدر کھو بیٹھی ہے اور سنسر کرنے والوں سے پورے احترام سے یہ کہنا ہے کہ اگر کوئی میڈیا کا ادارہ کوئی خبر یا ویڈیو نشر نہیں کرتا اور اس کو یوٹیوب پر پوسٹ کرسکتا ہے تو اس کا کیا مطلب ہے؟اخبارات میں جو کچھ شائع نہیں کیا جا سکتا ہے ،وہ ویب سائٹس پر چڑھا دیا جاتا ہے یا ای میل کے ذریعے عام ہوجاتا ہے۔اب آپ اپنے ناظرین تک ہر وہ خبر پہنچاسکتے ہیں جو آپ پہنچانا چاہتے ہیں۔

روایتی میڈیا میں روزناموں سے لے کر ٹیلی ویژن چینلز تک میں مستقبل سے متعلق خوف بڑھ رہا ہے اور دوسرا متبادل ٹیکنالوجی کا ہوّا ان پر سوار ہے،اس ٹیکنالوجی کا انھوں نے مقابلہ نہیں کیا تو وہ انھیں تہس نہس کردے گی۔تاہم مجھے اعتماد ہے کہ اگر وہ اس کو کام کی جگہوں پر بروئے کار لائیں گے توان کی قدر واہمیت ہی میں اضافہ ہوگا۔ یہاں میری رائے ذاتی تجربے پر مبنی ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ جو چیز ہماری سب سے زیادہ معاون ہوسکتی ہے اور جو ہمیں ہماری حدود سے ماورا لے گئی ہے ،وہ یہی جدید دور کا سوشل میڈیا ہے۔وہی سوشل میڈیا ،جس کو ایک وقت میں ہم زہرآلود خنجر خیال کیا کرتے تھے۔

(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔وہ حال ہی میں اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش ہوئے ہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.