.

ایردوان کا اپنے محافظوں پر جاسوسی کا الزام

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں نئے سال کے موقع پر ہمیشہ صرف ایک ہی سرکاری چھٹی کا اعلان کیا جاتا ہے اور کرسمس پرکسی سرکاری چھٹی کا کوئی تصور نہیں ہے تاہم اس بارحکومت نے نئےسال کے موقع پر جمعہ کی سرکاری چھٹی کا اعلان کرتے ہوئے اسے اواخر ہفتہ کی چھٹیوں سے ملا دیا لیکن اس کے باوجود صدر رجب طیب ایردوان کی جاسوسی کرنے کے الزام میں ان کے تیرہ محافظوں پر مقدمے کی کارروائی کا آغاز ہوا۔ ان تیرہ محافظوں کو قومی راز چرانے کے الزام میں 36 سال سے 43 سال تک قید کی سزا دینے کو کہا گیا ہے۔ ایردوان نے کیونکر اپنے قریبی محافظوں اور ان کے ڈائریکٹر پر جاسوسی کا الزام عائد کیا ہے ؟

ایردوان جنہوں نے 2001ء میں مرحوم نجم الدین ایربکان کی رفاہ پارٹی سے علیحدگی اختیار کرکے ہوئے جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (آق پارٹی) تشکیل دی تھی اس وقت انہیں درپردہ مشہور مذہبی شخصیت فتح اللہ گؤلن اور ان کے حامیوں کی بھی مکمل حمایت حاصل تھی کیونکہ فتح اللہ گؤلن ہمیشہ ہی مرحوم ایربکان سے دو رہے اس کی وجہ دونوں کا ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنا تھا۔ گؤلن تحریک یا جماعت نے اس دور میں حالات کا فائدہ اٹھا کر بڑے منظم طریقے سے خفیہ طور پر محکمہ پولیس اور وزارتِ تعلیم میں اپنی گرفت مضبوط بنالی اورحکومت کو گؤلن حوجہ کے ایسی کا رروائیوں میں مصروف ہونے کی کانوں کان خبر تک نہ ہوئی بلکہ اس وقت کے وزیراعظم مرحوم بلنت ایجویت مختلف حلقوں اور فوج کی جانب سے دبائو ڈالے جانے کے باوجود فتح اللہ گؤلن حوجہ کی غیر ممالک میں ترک اسکولوں کے قیام کی کاوشوں کو سراہتے رہے۔ حالانکہ اس وقت سب اچھی طرح جان چکے تھے کہ فتح اللہ گؤلن کو امریکہ کی جانب سے دل کھول کر امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

فتح اللہ گؤلن حوجہ نے امریکہ سے اپنی قربت کا فائدہ اٹھا کر ایردوان کی قیادت میں نئی حکومت اور امریکہ کو بھی ایک دوسرے کے قریب لاتے ہوئے ایردوان کے دل میں اپنے لئے جگہ بنا لی۔ ایردوان حکومت کے بر سر اقتدار آنے پر سب سے زیادہ فائدہ گؤلن حوجہ اور ان کی تحریک سے وابستہ لوگوں نے اٹھایا ۔ ایردوان حکومت کو ابتداء میں تجربہ کار بیورو کریٹس جو کہ مختلف حکومتوں کے دور میں گؤلن حوجہ سے اپنی قربت کو خفیہ رکھ کر اعلیٰ عہدوں تک پہنچ گئے تھے نے اب کھل کر گؤلن حوجہ کے پیرو کار ہونے کا اعلان کر دیا اور ایردوان کی کابینہ اور قریبی ساتھیوں میں شامل ہو گئے۔ اس طرح تقریباً تمام ہی اداروں پر گؤلن تحریک کے حامیوں نے اپنی گرفت مضبوط بنالی اور پولیس کو اپنے مکمل کنٹرول میں لینے کے بعد پولیس اہلکاروں کو استعمال کرتے ہوئے فوج کے اندر سے خفیہ اطلاعات جمع کرنا شروع کر دیں اور پھر ان اطلاعات کے بھروسے پر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ انہوں نے ترکی کی تاریخ کی مضبوط ترین فوج کو اپنی انگلیوں پر نچانا شروع کر دیا اور پھر انہوں نے پولیس کی خفیہ اطلاعات پر فوج پر حکومت کا تختہ الٹنے کی کارروائیوں میں مصروف ہونے کے شواہد اورثبوت عدلیہ کو پیش کرتے ہوئے گؤلن تحریک کی راہ روکنے والے تمام فوجی جنرلوں کو جیلوں کی راہ دکھائی اور عمر قید کی سزا دلوانے کے لئے عدالتوں میں اپنے پیرو کار ججوں کا استعمال کیا۔

ایردوان حکومت کو طویل عرصے بعد اس بات کا احساس ہوا ہے کہ گؤلن تحریک نے صرف فوج سے انتقام لینے کی غرض سےاس کے جنرلوں کے خلاف جھوٹے شواہد اور ثبوت فراہم کرتے ہوئے ان کو پھنسایا ہے جس پر اب حکومت نے فوج کے خلاف قائم مقدمات کو نئے سرے چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاکہ گؤلن تحریک کی وجہ سے فوج پر لگنے والے دھبے کو صاف کیا جاسکے۔

وزیراعظم ایردوان اور فتح اللہ گؤلن حوجہ کے درمیان تعلقات اس وقت کشیدہ ہوئے جب وزیراعظم ایردوان نے ترکی کی خفیہ سروس کے سربراہ کے طور پر اپنے قابلِ اعتماد ساتھی حقان فدان کو متعین کیا جبکہ گؤلن حوجہ امریکہ کی خواہشات کے مطابق ترکی کی خفیہ سروس MIT کے سربراہ کو متعین کروانے کے خواہاں تھے۔خفیہ سروس کے سربراہ کی تعیناتی دونوں رہنماؤں کے درمیان وجہ تنازع بن گئی۔ گؤلن تحریک کی ترکی کی خفیہ سروس کو اپنے کنٹرول میں لینے کی اصلی وجہ ترکی کے دیگر تمام اداروں پر بھی اپنی مکمل گرفت قائم کرنا تھا تاکہ بعد میں وقت آنے پر وزیراعظم ایردوان کا بوریا بستر گول کرنے میں کسی قسم کی کوئی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ایردوان کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لئے گؤلن تحریک نے بڑا زبردست منصوبہ بنا رکھا تھا اور اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مناسب وقت کا انتظار کیا جانے لگا۔ گؤلن تحریک وزیراعظم ایردوان کے 26 نومبر 2011ء میں ہونے والے نظامِ ہاضمہ کے آپریشن سے متعلق آگاہی حاصل کر چکی تھی اور اسے یہ بھی معلوم ہو چکا تھا کہ وزیراعظم ایردوان کو چھ ماہ بعد دوبارہ سے ایک بار پھر اسی آپریشن کے عمل سے گزرنا ہوگا۔ اس تحریک نے ایردوان کو انکے عہدے سے ہٹانے کیلئے اسی دوسرے آپریشن کی تاریخ کا انتظار کرنا شروع کر دیا۔

وزیراعظم ایردوان نے جیسے ہی اس دوسرے آپریشن کیلئے ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ لیا تو گؤلن تحریک نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کارروائی کا آغاز کر دیا ۔ وزیراعظم ایردوان نے اپنایہ آپریشن کرانے کے لئے، کابینہ اور قریبی ساتھیوں تک کو اطلاع دئیے بغیر صرف اپنے ایک محافظ اورکار ڈرائیور کے ہمراہ ایک پرائیویٹ گاڑی میں ٹھیک ساڑھے چار بجے مرمرہ یونیورسٹی اسپتال کا رخ اختیار کیا ۔ ان کو پانچ بجے اسپتال کے مریضوں کے لئے بند ہونے کے وقت پہنچنا تھا تاکہ کسی کو ان کے اس آپریشن کے بارے میں کوئی بات معلوم نہ ہو۔ وزیراعظم ایردوان نے راستے میں ڈرائیور کو اسپتال جانے کی بجائے اپنے ایک دوست کے ہاں جانے اور گاڑی کا رخ اس طرف کرنے کے بعد ڈاکٹر کو مزید نصف گھنٹہ انتظار کرنے کی ہدایت کی۔

اس دوران ٹھیک چار بج کر چون منٹ پر انقرہ عدلیہ کے پراسیکیوٹر صدر الدین ساری قایا نے خفیہ سروس کے سربراہ حقان فدان کو ٹیلی فون کرکے فوری طور پر بیان دینے کی غرض سے عدالت پہنچنے کے احکام جاری کئےجنھیں حقان فدان نے پہلے تو مصروفیت کا بہانہ کر ٹالنے کی کوشش کی لیکن پراسیکیوٹر کے شدید دبائو کی وجہ سے ان کے پاس عدالت جانے کے سوا کوئی اور چارہ کار باقی نہ بچا تھا۔ حقان فدان عدالت جانے کے لئے گاڑی میں سوار ہوئے اور اسی دوران انہوں نے وزیر اعظم کے محافظ کو ٹیلی فون کرتے ہوئے صورتِحال سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم ایردوان نے فوری طور پر خفیہ سروس کے سربراہ حقان فدان کو ٹیلی فون کرتے ہوئے کسی بھی صورت انقرہ عدلیہ کے پراسیکیوٹر کے پاس نہ جانے کے احکامات جاری کیے۔

حقان فدان نے گاڑی واپس اپنے آفس کی جانب موڑ لی جبکہ وزیراعظم ایردوان نے اسپتال جا کر چیک اپ پر اکتفا کیا اور آپریشن کو کسی اگلی تاریخ تک کے لئے ملتوی کروا دیا۔ اس دوران عدالت نے گؤلن حوجہ کے پیروکار ججوں اور پراسیکیوٹرز نے خفیہ سروس کے سربراہ حقان فدان سمیت خفیہ سروس کے ساڑھے تین سو ملازمین کو حراست میں لینے کا پلان بنا رکھا تھا تاکہ ان پر دباؤ ڈالتے ہوئے وزیراعظم ایردوان کے خلاف ان کو استعمال کیا جا سکے اور وزیراعظم کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے ان کو وزارتِ اعظمیٰ سے الگ کر دیا جائے اور آق پارٹی کے اندر ہی سے گؤلن حوجہ اور ان کی تحریک کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے رکن پارلیمنٹ کو ملک کا نیا وزیراعظم منتخب کیا جاسکے لیکن خدا کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔

وزیراعظم ایردوان آخری لمحوں میں اپنے ایک خاص دوست کے ہاں نہ جاتے اور آپریشن کو ملتوی نہ کراتے تو شاید آج گؤلن تحریک کا کو ئی ہمدرد یا پیرو کار عنانِ حکومت اپنے ہاتھوں میں لئے ہوئے ہوتا لیکن وہ کہتے ہیں نا خدا کو کچھ اور ہی منظور ہوتا ہے۔ بندہ بناتا ہے اور خدا ڈھاتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.