آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا...

حامد میر
حامد میر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی نے تحریک انصاف کے چار ارکان کے استعفے قبول کرلئے ہیں۔ سپیکر سندھ اسمبلی کے اس فیصلے کے بعد یہ شعر یاد آنے لگا کہ؎

ریختہ کے تمہی استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

آپ سوچیں گے کہ سندھ اسمبلی میں تحریک انصاف کے چار ارکان کے استعفے قبول کرنے کے پیچھے آغا سراج درانی کی کیا استادی ہوسکتی ہے؟ یہ استادی آغا سراج درانی کی نہیں بلکہ ان کے استاد آصف علی زرداری کی ہے۔ تحریک انصاف نے بہت دن پہلے قومی اسمبلی، پنجاب اسمبلی اور سندھ اسمبلی سے استعفے دے دئیے تھے لیکن خیبر پختونخوا اسمبلی سے استعفے نہیں دئیے تھے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب عمران خان اور طاہر القادری نے پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے دھرنا دے رکھا تھا۔ کچھ ٹی وی اینکر فوج کو اقتدار پر قبضے کی دعوت دے کر اپنی جرأ ت و بہادری کے جھنڈے گاڑنے کی کوشش میں تھے اور عمران خان نجانے کس ایمپائر کی انگلی اٹھنے کا انتظار کر رہے تھے۔ وزیر اعظم نواز شریف سے استعفیٰ مانگا جا رہا تھا لیکن انہوں نے استعفیٰ نہیں دیا۔ پیپلز پارٹی سمیت پارلیمنٹ میں موجود تمام اہم جماعتیں وزیر اعظم کے استعفے کے خلاف تھیں۔

اس صورتحال میں عمران خان نے قومی اسمبلی اور دو صوبائی اسمبلیوں سے استعفے دے کر سب کو حیران کر دیا لیکن مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے فیصلہ کیا کہ تحریک انصاف کے استعفے قبول نہیں کئے جائیں گے۔ پھر طاہر القادری دھرنے سے غائب ہوئے اور کچھ عرصہ کے بعد عمران خان نے بھی دھرنا ختم کر دیا۔ عمران خان کا دھرنا ختم ہونے کے بعد عوام کا خیال تھا کہ حکومت ان کے مسائل حل کرنے پر توجہ دے گی اور مذاکرات کے ذریعہ تحریک انصاف کے ساتھ مفاہمت کے ذریعہ ملک میں سیاسی استحکام لائے گی لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہوا۔ حکومت نے تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات میں کوئی مثبت پیش رفت نہیں کی بلکہ اپنی بدانتظامی کے باعث ملک میں پٹرول کا بحران پیدا کر دیا۔ پٹرول کے بحران کے ساتھ ہی ایک طرف ایم کیو ایم نے ملک میں مارشل لاء کی باتیں شروع کردیں اور دوسری طرف عمران خان نے حکومت کے خلاف نئی تحریک کی دھمکی دے ڈالی، یہ خبریں بھی آئی کہ عمران خان اور طاہر القادری کی سعودی عرب میں ملاقات ہونے والی ہے۔

آصف علی زرداری کو یہ بھی پتہ چل چکا تھا کہ بدھ کو ایم کیو ایم سندھ اسمبلی کے اجلاس میں ہنگامہ آرائی کرے گی۔ اس خطرے کو بھانپتے ہوئے انہوں نے کچھ ساتھیوں سے مشورہ کیا کہ کیوں نہ تحریک انصاف کے ساتھ جارحانہ رویہ اختیار کیا جائے اور اس کے قول و فعل کے تضاد کو سامنے لایا جائے؟ فیصلہ ہوا کہ تحریک انصاف کے چار ارکان کے ا ستعفے قبول کرلئے جائیں تاکہ وہ اخلاقی طور پر دبائو میں آکر قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں واپس نہ جائے اور سینٹ کے الیکشن میں بھی حصہ نہ لے۔ تحریک انصاف جب صرف خیبر پختونخوا اسمبلی کی کارروائی میں حصہ لے گی اور صرف ایک ہی صوبے میں سینٹ کا الیکشن لڑے گی اور پنجاب کے ایک رہنما کو خیبر پختونخوا سے سینیٹر بنوانے کی کوشش کرے گی تو تحریک انصاف کے اندر اختلافات بڑھیں گے اور یہ کمزور ہوجائے گی۔ آصف زرداری چاہتے ہیں کہ ان کی پارٹی کے وہ لوگ جو سندھ اور پنجاب میں تحریک انصاف میں شامل ہونا چاہتے ہیں انہیں روکا جائے۔

تحریک انصاف جب بھی اسلام آباد میں دبائو بڑھاتی ہے تو ایم کیو ایم کراچی میں دبائو بڑھادیتی ہے۔ آصف علی زرداری تحریک انصاف پر دبائو بڑھا کر ایم کیو ایم کے دبائو سے نکلنا چاہتے ہیں لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اب قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کے سپیکر پر یہ دبائو آئے گا کہ وہ بھی تحریک انصاف کے استعفے قبول کریں، اگر استعفے قبول نہ کئے گئے تو کیا جمہوریت ایک مذاق نہیں بن جائے گی؟ اگر استعفے قبول ہوگئے تو پھر حکومت اور تحریک انصاف میں مفاہمت کے امکانات کم ہوجائیں گے۔ تحریک انصاف سڑکوں پر آجائے گی اور خبر یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک بھی استعفے دے دیں گے۔ ہم ایک دفعہ پھر اسی موڑ پر کھڑے ہوں گے جہاں 15 دسمبر 2014ء کو کھڑے تھے۔ 16دسمبر کے سانحہ پشاور نے جو اتحاد پیدا کیا تھا وہ کہیں نظر نہیں آئے گا۔ عمران خان ایک دفعہ پھر اوئے اوئے کررہے ہوں گے اور نواز شریف اس اوئے اوئے پر میر تقی میر کے ان الفاظ میں احتجاج کریں گے؎

یوں پکارے ہیں مجھے کوچۂ جاناں والے
ادھر آبے، ابے او چاک گریباں والے

شیخ رشید احمد کی شعلہ بیانیاں ایک دفعہ پھر حکمرانوں کے دل و دماغ پر بجلی بن کر گریں گی۔ سراج الحق گھبرا کر شیخ صاحب سے کہیں گے؎

آ عندلیب صلح کریں جنگ ہوچکی
لے ،اے زباں دراز تو سب کچھ ، سوائے گُل

لیکن سینیٹر پرویز رشید اینٹ کا جواب اس کنکر سے دیں گے۔

نہ بک شیخ اتنا بھی واہی تباہی
کہاں رحمت حق، کہاں بے گناہی

ہوسکتا ہے کہ میر تقی میر کی زبان میں نظر آنے والی بدزبانی آپ کو ناگوار گزرے لیکن میر صاحب کے کئی اشعار ان کے دور کی افراتفری اور بے چینی کے غماز ہیں۔ ان کے کئی اشعار کو آج حالات کی روشنی میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ شیخ رشید احمدیہ کہہ سکتے ہیں کہ نواز شریف حکومت کسی بیماری کا علاج نہیں بلکہ تمام بیماریوں کی وجہ ہے لہٰذا اس حکومت سے کسی اچھی دوا کی توقع نہ کی جائے؎

میر کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں

یہ مت کہئے گا کہ میر تقی میر کے شعر میں لڑکے کا نہیں بلکہ لونڈے کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ نواز شریف حکومت کے کچھ وزراء پٹرول کی کمی کے حالیہ بحران کا ذمہ دار وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی کو سمجھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ عوام کے غم و غصے کو کم کرنے کے لئے وزیر پٹرولیم کی قربانی دے دی جائے لیکن بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی۔ سینیٹ کے الیکشن سے پہلے پہلے سیاست میں بدزبانی اور بے اعتدالی کا تناسب کافی بڑھ جائے گا اور اگر سیاستدانوں کے باہمی اختلافات حد سے بڑھ گئے تو فائدہ انہیں پہنچ سکتا ہے جنہیں آج کل پھانسیوں پر لٹکایا جارہا ہے اور جن کے لئے فوجی عدالتیں قائم کی جا رہی ہیں۔ فوجی عدالتوں کا مستقبل سپریم کورٹ کے ہاتھ میں ہے لیکن نواز شریف حکومت کا مستقبل اس کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ عمران خان نہ پہلے حکومت کا کچھ بگاڑ پائے نہ آئندہ بگاڑ پائیں گے۔ نواز شریف حکومت اپنے آپ کو خود بگاڑ رہی ہے اور وہ وقت دور نہیں جب آصف علی زرداری جمہوریت کے نام پر نواز شریف کے ساتھ زیادہ دیر کھڑے نہ ہوسکیں گے۔ آخر میں میر کے ایک مشہور شعر کا اصل لیکن گمشدہ چہرہ پیش ہے۔

راہِ دور عشق میں روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا


بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں