بن لادن کے خلاف امریکی کارروائی
سیمور ہرش نے 2 مئی کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی رہائش گاہ پر امریکہ بحریہ Seals کے چھاپے اور ان کے قتل کے بارے میں امریکی صدر اوباما کے قوم کے نام اس اعلان کو جھوٹا قرار دیا ہے کہ یہ کارروائی حکومت، افواج پاکستان کو اعتماد میں لیے بغیر اس لیے کی گئی تھی کہ ہمارا آئی ایس آئی اسامہ کو خفیہ طور پر اس گھر سے منتقل کر دے۔ امریکی صحافی کا انکشاف پاکستان اور امریکی خفیہ ایجنسیوں کے دو سابق گمنام افسران پر مبنی ہے لیکن اس میں پاکستانی افسر کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ وہ 2010ء میں اسلام آباد میں واقع امریکی سفارت خانے میں داخل ہوتے ہیں۔
پاکستان میں مامور سی آئی اے کے علاقائی سربراہ رسوائے زمانہ Jonathan Bank سے ملا اور فوراً خود کو فروخت کرنے کی پیشکش کر دی۔ اس نے بھی بیوپاری کی طرح اس سے سودے بازی شروع کر دی کہ اگر وہ اسے اسامہ بن لادن کی رہائش گاہ کی نشاندہی کر دے تو اسے القاعدہ کے رہنما کے سر پر اعلان کردہ اڑھائی کروڑ ڈالر انعام میں سے کتنا ملے گا؟ لیکن امریکیوں نے کوئی سودا طے کرنے سے پہلے اسے خوب ٹھوک بجا لیا کہ آیا وہ سچ بول رہا ہے یا انہیں دھوکا دے رہا ہے۔ اس کے لیے انہوں نے جھوٹ کی سراغ لگانے والی مشین کے ذریعے اس کا معائنہ کیا تو اس نتیجے پر پہنچنے کہ وہ سچ بول رہا ہے لہٰذا سودا طے ہو گیا۔ اس پر امریکیوں کو پاکستان کی افواج اور آئی ایس آئی کے سربراہوں جنرل اشفاق پرویز کیانی اور جنرل شجاع پاشا پر غصہ آیا کہ اسامہ کئی سال سے آئی ایس آئی کی قید میں تھا لیکن انہوں نے امریکیوں کو نہیں بتایا۔
پاکستانی جاسوس کی اطلاع کے مطابق آئی ایس آئی نے اسامہ بن لادن کو جو اپنے بیوی بچوں کے ساتھ 2001ء سے 2006ء تک ہندوکش کے کوہستان میں مقیم تھا چند مقامی باشندوں کو رقم دے کر وہاں سے اغوا کرایا اور پاکستان میں قید کردیا۔ سعودی حکومت نے اسامہ بن لادن کو خفیہ طور پر پاکستان میں رکھنے کے سارے اخراجات برداشت کیے اور حکومت پاکستان کو تاکید کر دی کہ اس کی بھنک امریکہ کو نہ ہو۔ اس کی وجہ سیمور ہرش یہ بتاتے ہیں کہ سعودی عرب یہ نہیں چاہتا تھا کہ امریکہ کو ان کے اور اسامہ کے بارے میں کوئی معلومات ہونے پائے لیکن جب پاکستانی جاسوس کے ذریعے امریکہ کو معلوم ہو گیا کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں آئی ایس آئی کی قید میں ہے اور ان کی اجازت کے بغیر کہیں نقل و حرکت نہیں کر سکتا تو پاکستانی حکام کو امریکیوں سے ان کی موجودگی کا اعتراف کرنا پڑا اور ان پر چھاپہ مارنے کے لیے منصوبہ سازی میں سی آئی اے سے تعاون کیا۔
سیمور ہرش کے مطابق آئی ایس آئی نے امریکہ کو مشورہ دیا کہ اسامہ بن لادن کو ہندوکش کے کوہستانی علاقے میں ہلاک کر دیا جائے تا کہ پاکستان یا افغانستان دونوں میں سے کسی پر ان کی ہلاکت کا الزام نہ آسکے۔ اس مقصد کے لیے سی آئی اے نے بلال ٹاؤن میں اسامہ بن لادن کے مکان کے قریب ایک مکان کرائے پر لے لیا اور سیٹلائٹ جاسوسی نظام قائم کر دیا جبکہ آئی ایس آئی نے تربیلا کے علاقے غازی میں ایک اڈہ قائم کیا جہاں امریکی بحریہ کا ایک کمانڈو اور دو رابطہ کار اسامہ بن لادن پر شب خون مارنے کی مشق کیا کرتے تھے۔ جب اوباما کو اسامہ بن لادن کی موجودگی کی اطلاع ملی تو اس نے سراغ رسانوں کو سخت تاکید کی کہ وہ ان کی موجودگی کا ناقابل تردید ثبوت پیش کریں جب ہی وہ ان کے خلاف کارروائی کا حکم دے گا۔
سو آئی ایس آئی نے ڈاکٹر میجر عامر عزیز کو اسامہ بن لادن کے علاج پر مامور کر دیا جس نے ان کا DNA نمونہ لیا جو اوباما کے پاس بھیج دیا گیا۔ اس وقت اوباما نے ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارنے کا حکم دے دیا۔ اطلاعات مظہر ہیں کہ اسامہ بن لادن بستر مرگ پر پڑے ہوئے تھے جنہیں بے دردی سے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا اور میڈیا نے یہ خبر نشر کر دی کہ حملے کے وقت اسامہ نے AK-47 رائفل اٹھانا چاہی مگر Nay Seal کے سورماؤں نے انہیں گولی چلانے سے پہلے ہی نشانہ بنا دیا۔
یہ خبر اس لیے گڑھی گئی تھی تا کہ یہ راز افشا نہ ہونے پائے کہ امریکی بحریہ کے سورماؤں نے ایک معذور شخص پر گولی چلائی جو بستر مرگ پر پڑا ہوا تھا۔ اس انکشاف سے امریکیوں کی نہ صرف بزدلی ثابت ہوئی ہے بلکہ ان کے جنگی جرائم کے ارتکاب کی ناقابل تردید شہادت فراہم کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے امریکیوں نے ان کی لاش کی بے حرمتی کرتے ہوئے اسے سمندر برد کر دیا جبکہ قانون جنگ کی رو سے دشمن کے متوفین کو احترام کے ساتھ دفن کیا جانا چاہیے۔
سیمور ہرش نے کہا ہے کہ یہ خیال کہ پاکستان کی مسلح افواج اور آئی ایس آئی کے سربراہان کو اسامہ بن لادن کی رہائش گاہ پر امریکی حملے کا علم نہیں تھا سراسر جھوٹ ہے۔ اس طرح بین الاقوامی سطح پر افواج پاکستان کے بارے میں یہ تاثر قائم ہونے لگا کہ یہ خراب فوج ہے جبکہ افواج پاکستان بہت اچھی ہے۔
سیمور ہرش کے مطابق اس واردات کے بعد امریکی اور پاکستانی افواج کے درمیان بڑی تلخی پیدا ہو گئی لیکن رفتہ رفتہ دور ہو گئی۔ اس کی وجہ سیمور ہرش یہ بتاتا ہے کہ پاکستان کی فوج کو انسداد دہشت گردی کی مد میں دی جانے والی امداد کی سخت ضرورت ہے جو بحال کر دی گئی ۔ مذکورہ مصنف کے مطابق اس امدادی رقم سے آئی ایس آئی کے افسروں کو پر آسائش رہائش گاہوں، مسلح محافظ، بلٹ پروف گاڑیوں کے علاوہ برائے ترغیب زیر میز Under the Table رقوم بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ سو اب دونوں میں حسب سابق اعتماد اور تعاون بحال ہو گیا ہے اور دونوں ڈرون حملوں کے لیے خفیہ اطلاعات کا تبادلہ کرتے رہے ہیں۔ (ڈان پیر 11 مئی 2015ء)
سیمور ہرش کی اس بات سے میں شرمندگی سے زمین میں گڑ گیا۔ اور میری غیرتِ قومی سخت مجروح ہو گئی۔ کیا ان امریکیوں کی نظر میں ہماری افواج کی یہ وقعت ہے کہ خاکم بدہن ڈالروں کے عوض انسداد دہشت گردی میں جانیں قربان کر رہی ہیں؟ کیا اس جنگ میں جو امریکہ نے ہم پر تھوپی ہے اپنے ہم وطنوں کی جان و مال بچانے کے لیے جن ہزاروں شہداء نے اپنی زندگیاں مشت بھر ڈالر کے لیے نچھاور کیں؟ ڈالر، پونڈ اور یورو کے لیے تو امریکی اور یورپی لڑتے ہوں گے جبکہ وہ مسلم ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی ۔
البتہ ڈرون حملوں کے بارے میں ہمیں اُن جیسی کالی بھیڑوں کی غداری پر شک ضرور ہوتا ہے جو امریکی سفارت خانے میں جاکر سی آئی اے کے ایس ایچ او (Stationchief) کو ریاست کا راز فروخت کرتے ہیں یا جو امریکی فوج کو پاکستان چوکی افواج پر حملہ کرنے کا خط لکھتے ہیں اور امریکی تخریب کاروں کو بلا امتیاز ملک میں داخل ہونے کا اجازت نامہ (Visa) جاری کرتے ہیں۔ افواج پاکستان بحیثیت ادارہ دنیا کی بہترین افواج میں سے ہیں جن کے جوانوں کے دل جذبہ اسلامی و حب الوطنی سے سرشار ہیں۔
لیکن اس واقعہ سے ہمیں بحیثیت قوم یہ سبق ضرور ملتا ہے کہ امریکہ کے تسلط سے آزاد ہونا انتہائی لازمی ہے۔
بشکریہ روزنامہ 'نئی بات"