نیشنل ایکشن پلان۔ کتنا عمل ہوا؟…
حکومت نے اسے نیشنل ایکشن پلان کے نام سے پکارا، میں نے اسے اس وقت نیشنل ری ایکشن پلان کہا تھا۔ حکومتی ترجمانوں کے نزدیک وہ ایک تریاق تھا، میرے نزدیک وہ کینسر کا علاج ہیومیوپیتھک اور حکیمی دوائیوں کا ایک مرکب تھا کہ جو کینسر کے علاج کے لئے نہیں بلکہ پیٹ کے علاج کے لئے استعمال ہوتاہے۔ حکومت کے نزدیک وہ ایک جامع پلان تھا تو ہم جیسے طالب علموں کے نزدیک وہ ادھورا پلان تھا جس میں ’’کُل‘‘ نہیں بلکہ ’’جز‘‘ کو مدنظر رکھا گیا تھا۔ حکومتی ترجمانوں کا دعویٰ تھا کہ اس پلان پر من وعن عمل کیا جائے گا لیکن ہم جیسوں کا اصرار تھا کہ اس حکومت کے ہاں عزم ہے، صلاحیت اور نہ وہ رجال کار اس کی ٹیم میں شامل ہیں، جو اس پلان پر عمل کرسکے ۔ حکمران چونکہ مقتدر تھے اور اس معاملے میں عمران خان جیسے ناقد بھی ان کے ہمنوا تھے، اس لئے ان کی مانی اور سنی گئی اور ہم خاموش ہوکر انتظار کرنے لگے ۔ پاکستان کے اہل سیاست اور ہم اہل سیاست تو آگے دوڑ پیچھے چھوڑ کے عادی ہوگئے ہیں اور اہم سے اہم ایشو کا بھی پیچھا نہیں کرتے لیکن شکر ہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس جواد ایس خواجہ صاحب نے ایک سماعت کے دوران ایکشن پلان کی طرف توجہ مبذول کراکر اس پر عمل درآمد نہ ہونے کی حقیقت آشکار کر دی لیکن ماشاء اللہ موجودہ حکومت اہم ترین معاملات سے متعلق عمل درآمد میں جتنی سست ہے ، میڈیا پر جواب دینے میں اتنی تیز ہے ۔ چنانچہ اگلے دن وزارت داخلہ کے ترجمان نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے ایسا نقشہ پیش کیا کہ جیسے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد تو حسب توقع ہورہا ہے لیکن وہ جج صاحب کی نظروں سے پوشیدہ ہے ۔ اس تناظرمیں، آج کے کالم میں نیشنل ایکشن پلان کا شق وار آپریشن ضروری سمجھا تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔
نیشنل ایکشن پلان بیس نکات پر مشتمل تھا۔ پہلی شق یہ تھی کہ عدالتوں سے سنائی جانے والی سزائوں پر عمل کیا جائے ۔اس شق پر کسی حد تک عمل ہوا لیکن عدالت کی طرف سے حکم امتناع کے بعد مزید پھانسیاں رک گئیں۔ گویا اس شق پر عمل ہوا۔ دوسری شق دہشت گردوں کے کیسز کی سماعت کے لئے خصوصی (فوجی) عدالتوں سے متعلق تھی۔ فوجی عدالتیں بن گئی تھیں اور اس حوالے سے اگر کوئی رکاوٹ آئی تو حکومت یا فوج کی طرف سے نہیں بلکہ عدلیہ کی طرف سے آئی۔ گویا اس شق پر بھی کسی حد تک عمل ہوا۔تیسری شق یہ تھی کہ ملک میں کسی مسلح ملیشیا کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس نکتے پر عمل درآمد کے لئے فوجی آپریشن ہورہے ہیں اور گویا اس نکتے پر بھی کسی حد تک عمل ہو رہا ہے ۔ چوتھی شق میں کہا گیا تھا کہ نیکٹا (NACTA) کو فعال اور مضبوط بنایا جائے گا۔ اس شق پر ذرہ بھر عمل درآمد نہیں ہوا۔
نیشنل ایکشن پلان سے قبل نیکٹا کی صرف ویب سائٹ فعال تھی لیکن اب وہ بھی زیرتعمیر ہوگئی ہے۔ پانچویں شق میں انتہاپسندانہ مواد اور تقاریر کے خاتمے کی بات کی گئی تھی لیکن اس شق پر بھی رتی بھر عمل نہیں ہوا۔ چھٹی شق میں دہشت گردوں اور ان کی تنظیموں کے مالی وسائل کو ختم کرنے کا کہا گیا تھا اور اس شق پر بھی عمل نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ساتویں شق میں کالعدم تنظیموں کےدوسرے ناموں سے فعال ہونے کے عمل کے تدارک کا عزم ظاہر کیا گیا تھا اور یہ عمل بھی حسب سابق جاری ہے ۔ گویا اس شق پر بھی کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔ آٹھویں شق میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انسداد دہشت گردی کیلئے خصوصی اور مستعد فورس (Counter Terrorism Force) بنائی جائے گی ۔ وہ فورس اگر کسی نے دیکھی ہو تو ہمیں بھی مطلع کریں ۔ نویں شق میں عزم ظاہر کیا تھا کہ مذہبی بنیادوں پر امتیاز اور استحصال کے عمل کو روکا جائے گا۔ اس عمل کے تدارک کیلئے بھی کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ دسویں شق میں عزم ظاہر کیا گیا تھا کہ مدارس کی رجسٹریشن اور ریگولیشن کو یقینی بنایا جائیگا۔
عمل درآمد تو درکنار موجودہ حکومت آج تک یہ فیصلہ بھی نہ کرسکی کہ یہ کام مذہبی امور کی وزارت نے کرنا ہے، تعلیم کی وزارت نے یا پھر وزارت داخلہ نے ۔ گیارہویں شق پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے متعلق تھی جس میں کہا گیا تھا کہ یہاں دہشت گرد تنظیموں کو پرکشش بناکر پیش کرنے کا عمل روک دیا جائے گا۔ اس شق پر جزوی عمل ہورہا ہے اور عسکری اداروں کے خوف سے ایک طرح کے عسکریت پسندوں کا بلیک آئوٹ کردیا گیا ہے لیکن ایک اور حوالے سے وہ کام حسب سابق جاری ہے ۔ بارہویں شق میں حسب سابق فاٹا ریفارمز کا سہانا خواب دکھایا گیا تھا لیکن نہ ریفارمز ہوئیں او رنہ ہوتی نظر آرہی ہیں ۔ تیرہویں شق میں دہشت گردوں کے کمیونیکیشن نیٹ ورک کو ختم کرنے کی بات کی گئی تھی اور یہ معاملہ بھی حسب سابق جوں کا توں ہے ۔ چودھویں شق انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے سے متعلق تھی لیکن یہاں بھی حالات مکمل طور پر جوں کے توں ہیں ۔ پندرہویں شق میں پنجاب کے اندر سے عسکریت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی بات کی گئی تھی لیکن وہاں جو تنظیمیں جیسی فعال تھیں، اب بھی ہیں ۔ سولہویں شق کراچی آپریشن سے متعلق تھی اور اس شق پر حسب وعدہ فوج اور رینجر زعمل کر رہی ہے۔
حکومت نے اس کی نگرانی کے لئے ایک کمیٹی بنانے کا وعدہ کیا تھا جو آج تک نہ بناسکی ۔ سترہویں شق بلوچستان میں مفاہمت (Reconciliation) سے متعلق تھی اور اس ضمن میںبھی پیش رفت صفر ہے ۔ اٹھارویں شق میں فرقہ وارانہ تنظیموں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا گیا تھا لیکن ایک بھی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ انیسویں شق افغان مہاجرین کے مسئلے کو حل کرنے سے متعلق تھی اور یہاں بھی آزادکشمیر میں ان کے خلاف پولیس کی بے ہنگم اور ظالمانہ کارروائی کے سوا ، کوئی دوسری سرگرمی دیکھنے کو نہیں ملی ۔ بیسویں اور آخری شق میں وعدہ کیا گیا تھا کہ پورے کریمینل جسٹس سسٹم کی تشکیل نو کی جائے گی لیکن اس حوالے سے بھی کسی قسم کی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اب مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بیس شقوں میں سے صرف پانچ پر مکمل یا جزوی عمل ہوا ہے جبکہ پندرہ شقوں پر ذرہ بھر عمل نہیں ہوا۔ جن شقوںپر عمل ہوا ہے ، وہ بھی وہی ہیں کہ جو فوج سے متعلق ہیں ۔ جن پندرہ شقوں پر ذرہ بھر عمل نہیں ہوا، وہ حکومت کے دائرہ اختیار والی شقیں ہیں۔
اسی طرح جن پانچ شقوں پر مکمل یا جزوی عمل ہوا ہے ، وہ مسئلے کی شاخوں سے متعلق ہیں لیکن جن پر عمل نہیں ہوا وہ Root Causes سے متعلق ہیں ۔وزارت داخلہ نے فوجی آپریشن اور اس کے نتیجے میں دہشت گردوںکی ہلاکتوںکا ذکر کیا ہے تو یہ آپریشن پچھلے دس سال سے جاری ہے اور اس میں گزشتہ سالوں میں بھی اسی طرح کے نتائج حاصل ہوتے رہے ۔ اسی طرح پولیس کے ہاتھوں گرفتاریوں کا ذکر قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے ضمن میں کیاگیا ہے حالانکہ یہ گرفتاریاں ایکشن پلان کی منظوری سے پہلے بھی ہوتی رہیں اور سب سے زیادہ پرویز مشرف کی حکومت میں 2002ء میں ہوئی تھیں۔ موجودہ حکومت سازشی عناصر کو مشیر بناکر روزگار دینے میں تیز واقع ہوئی ہے یا پھر کمیٹیاں بنانے کے لئے ۔ نیشنل ایکشن پلان کی منظوری کے بعد اس پر عمل درآمد کی نگرانی کے لئے بھی وزیراعظم نے اپنی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی تھی ۔ وزیر داخلہ ، وزیر دفاع، وزیر اطلاعات ، وزیر منصوبہ بندی و ترقی اور مشیر خارجہ اس کے ممبر نامزد کئے گئے تھے ۔ یہ کمیٹی 26 دسمبر 2014ء کو تشکیل دی گئی تھی ۔ میرے علم کے مطابق تاسیسی اور نمائشی میٹنگ کے سوا آج تک اس کمیٹی کی کوئی میٹنگ نہیں ہوئی ۔ اگر ہوئی ہو تو حکومت کے نصف درجن سے زائد ترجمان ہمیں بھی آگاہ کریں ۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ موجودہ حکومت اس ایکشن پلان پر عمل درآمد میں کتنی سنجیدہ ہے؟
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘