.

مشرق وسطیٰ۔ آرمیگڈن کی طرف؟

عبداللہ طارق سہیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ان دنوں ہر جگہ لاہور کے ضمنی الیکشن میں چھائے ہیں۔ اس نکتے پر بات ہورہی ہے کہ مسلم لیگ ہار گئی تو کیا ہوگا۔ انکم سپورٹ پروگرام سے مستقل فیض یافتگان اینکر یہ جواب دیتے ہیں کہ ایاز صادق ہار گئے تو مسلم لیگ کی حکومت بھی ختم، مسلم لیگ بطور جماعت ختم اور تخت لاہور بھی ختم۔ لاہور کی اب تک کوئی متفقہ ڈیفی نیشن سامنے نہیں آ سکی لیکن اتنا واضح ہے کہ اگر شریف خاندان کی حکومت نہ رہے تو تخت لاہور تو پھر بھی رہے گا لیکن اسے طعنے کے طور پر کوئی استعمال نہیں کرے گا۔ مزے کی بات ہے کہ تخت لاہور کے سارے باغیوں کا تعلق شمالی پنجاب سے ہے لیکن وہ جنوبی پنجاب کی فی سبیل اللہ نمائندگی کے دعویدار ہیں۔ الیکشن پر پہلے انہوں نے جو فضا باندھی تھی اس سے لگتا تھا کہ جنوبی پنجاب میں مسلم لیگ کو ایک ووٹ بھی نہیں ملے گا لیکن نتیجہ آیا تو پتا چلا کہ باغی جنوبی پنجاب کی ایک آدھ سیٹ چھوڑ کر ساری کی ساری تخت لاہور لے اڑا۔ اصولا اسکے بعد یہ طعنہ ختم ہو جانا چاہئے تھا لیکن وہ باغی ہی کیسا جو کسی اصول کو مانے اور باغی بھی پھر ایسے جنکی بغاوت انکم سپورٹ فنڈ کے ایندھن سے چلتی ہو۔ چت بھی میری پت بھی میری اور انٹ تو ہے باپو جی کا۔

سچی بات یہ ہے کہ اس حلقے کا نتیجہ کچھ بھی ہو، فائدہ تحریک انصاف کا ہی ہے۔ جیت گئی تو کہے گی، دھاندلی پر ہمارا کیس ٹھیک نکلا۔ ہار گئی تو کہے گی، دیکھا ہم نہ کہتے تھے دھاندلا ہوگا۔ ہوگیا ناں۔

چلو اب یہ سارا نظام سمیٹو، نئے الیکشن کراؤ اور حکومت ہمارے حوالے کرو، چلئے اب تو دو تین روز کی بات رہ گئی۔ ایک پردہ اٹھے گا، ورنہ آگرے گا، دیکھتے ہیں، انکم سپورٹ فنڈ کے مستقل کلائنٹ اسکے بعد کونسا چاٹ مصالحہ لے کر آتے ہیں۔

لیگی رہنما دانیال عزیز نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان کو کئی غیر ملکی کمپنیوں سے میلینز آف ڈالرز کی رقم ملتی ہے۔ تحریک انصاف کو فنڈ دینے والی کمپنیوں میں ایک یہودی کمپنی بیری شپسنٹ نام کی ہے۔ ان سے پہلے خود تحریک انصاف کے کچھ باغیوں کے حوالے سے یہ الزام سامنے آیا تھا کہ بھارت اور اسرائیل سے بھی فنڈ آتے ہیں۔

دھرنے کا ایک مقصد پاک چین کاریڈور کی تعمیر روکنا بھی بتایا جاتا ہے اور یہ کاریڈار امریکہ کی نظر میں بھی اتنا ہی کھٹکتا ہے جتنا کہ بھارت کو۔ لیکن یہ سوال جماعت اسلامی سے کرنے کی گنجائش بہر حال ہے کہ آپ کا تحریک انصاف سے اتحاد ہے اور آپ اسرائیل کے مخالف بھی ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف سابقہ جہاد (اب دہشتگردی) میں بھی مددگار رہے ہیں تو کیا آپ کچھ وقت نکال سکتے ہیں کہ دانیال عزیز اور دیگر حلقوں کی طرف سے آںے والے اس الزام (چلئے ، اسے جھوٹا ہی کہہ لیجئے) کے بارے میں کچھ تحقیقات کر لیں۔ برسبیل تذکرہ، یہ معاملے مولانا فضل الرحمن کے پہلے ہی علم میں ہیں۔ شاید ان سے رابطہ کوئی مدد دے سکے؟

الطاف حسین کی تیسری بار ضمانت ہوگئی ، منی لانڈرنگ کیس میں۔ عمران فاروق قتل کیس تو ابھی پہلی سیڑھی ہی نہیں چڑھا۔ اسے تو ایک طرف رکھئے اور تسلی رکئے کہ یہ ایک طرف ہی رکھا رہے گا یہاں تک کہ کوئی اٹھا کر اسے داخل دفتر کر دے گا۔ یہ کوئی طنز نہیں حقیقت نگاری ہے برطانوی سکاٹ لینڈ یارڈ کسی کیس کو اتنے برس میں بھی حل نہ کر سکے تو تفتیشی سائنس یہ کہتی ہے کہ وہ کبھی حل نہیں ہوگا۔ یا پھر مان لیجئے کہ پاکستان نے جو گواہ ترپ کے پتے کی طرح چھپا کر رکھا ہوا ہے، وہ ترپ کا نہیں، پان کا پتہ ہے اور اگر کوئی بضد ہے کہ نہیں یہ پان کا نہیں، ترپ کا پتہ ہے تو پھر یہ راز کونسا شرلاک ہومز کھولے گا کہ یہ پتہ پھر اتنا چھپا چھپا کر کیوں رکھا جارہا ہے۔

ایسا لگتا ہے گویا متحدہ کیلئے کوئی بلانازل ہونے کا ڈر نہیں۔ کراچی میں آپریشن سے متحدہ کی مقبولیت پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ سادہ نتیجہ یوں نکلے گا کہ متحدہ 2018ء کا الیکشن بھی دھوم دھام سے جیت جائے گی۔ لیکن جی ہاں، یہاں ایک لیکن بھی ہے اور ہو یہ کہ الطاف حسین کی صحت تب تک کیسی ہوگی؟ 2018ء کے الیکشن میں متحدہ کے پاس متبادل قیادت کا ہونا ضروری ہے ورنہ حکمت عملی نہیں بن سکے گی۔

دو سال قبل بلکہ سال بھر پہلے تک کسی کے خیال میں بھی نہیں تھا کہ مشرق وسطی میں یہ حال ہوجائے گا کہ ترکی کی جنوبی سرحد سے لے کر یمن تک جنگ کے شعلے پھیل جائیں گے۔ اب تو جو تصویر بنی ہے شبہ گزارا ہے کہ کہیں یہ سارا ماجرا آرمیگڈن کی طرف تو نہیں جا رہا جسکا ذکر بائبل میں بھی ہے اور احادیث مبارکہ میں بھی اور اگر ابھی وہ مرحلہ نہیں آیا تو کہیں تیسری عالمی جنگ کا راستہ تو نہیں بن رہا۔

ساری شروعات شام میں ہوئی جہاں تین برس قبل عرب بہار کے زیر اثر دمشق کے نواحی شہر میں سکول کے کچھ بچوں نے دیوار پر الحریۃ کا لفظ لکھ دیا۔ الحریۃ یعنی حریت جسے ہم آزادی بھی کہتے ہیں۔ خفیہ پولیس نے تفتیش کی کہ یہ نعرہ کس نے لکھا۔ سراغ نہ مل سکا تو مشتبہ سکول کے سارے بچوں کو گرفتار کر کے انکے ہاتھوں کی انگلیاں کاٹ ڈالیں۔ اس پر والدین نے جلوس نکالا۔ پولیس فائرنگ سے بیسیوں افراد ڈھیر ہو گئے۔ پھر مظاہروں کا سلسلہ چل نکلا اور ہر روز بیسیوں افراد پولیس کی گولیوں سے مرنے لگے۔ کئی مہینے یہ سلسلہ چلا پھر اس نے تحریک مزاحمت کی شکل اختیار کر لی جسکا رنگ پہلے مذہبی نہیں تھا، پھر ہوگیا۔ تین سالہ جنگ میں تین لاکھ شہری بشار الاسد کی بیرل بمباری اور فائرنگ میں مارے گئے ستر ہزار شامی فوجوی ہلاک اور ایک لاکھ زخمی ہوئے جبکہ تحریک مزاحمت کے پچاس ہزار گوریلے بھی مارے گئے۔ یہ اب سے چند ماہ پہلے تک کا نقشہ تھا۔ پچھلے چھ مااہ سے امریکہ، برطانیہ، فرانس اور آسٹریلیا کے طیارے داعش پر ہر روز اوسطا تیس بمباریاں کرتے ہیں۔ اس دوران شامی فوج ختم ہوتی گئی اور ایران کے دسیوں ہزار فوجی اور رضاکار شامی فوج کی وردی میں شام آگئے۔ تحریک مزاحمت نے ان میں سے بیشتر کا صفایا کر دیا۔

نئی تبدیلی غیر متوقع تھی یعنی روس کی آمد۔ بظاہر روس مین شام میں علویوں کی ایک پٹی بنانے آیا ہے تاکہ بشار حکومت اس میں قلعہ بند ہوجائے۔ اس میں سے بھی ایک دو فیصد رقبہ ہے۔ اگر صرف اتنا ہی مقصد ہے تو پھر روس طرطوس میں ایک نیول اڈہ کیوں بنا رہا ہے۔

یورپی ساحل مین ترکی بھی شامل ہے ۔ یورپ طاقتور ہے، عرب ممالک کسی گنتی میں نہیں چنانچہ بحیرہ روم یورپی جاگیر بن کر رہ گیا ہے۔ اسکے ساحل پر روسی نیول اڈے کے قیام کا مطلب ہے۔ یورپ کی جاگیر میں نقب لگانا۔

ترکی اس معاملے میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ پہلے اسے کردوں کے ذریعے جنگ مین الجھایا گیا اور سب جانتے ہیں کہ کردوں کا حامی اتحادی اور مشیر امریکا ہے۔ اب روس نے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی شروع کر دی ہے۔ روس نے کہا خلاف ورزی غلطی سے ہوئی لیکن اس اعتراف کے اگلے روس اس نے پھر خلاف ورزی کی۔ گویا کوئی بھی فضائی تصادم روس اور ترکی کو آمنے سامنے لا کھڑا کر سکتا ہے۔ لگتا ہے روس شامی آبادی کھدیڑنا چاہتا ہے۔ شام کی جنگ کا ایک تعلق یمن سے بھی بن گیا ہے اور سعودی عرب کے اندر بھی دہشت گردی شروع ہوگئی ہے۔ منٰی میں بھگدڑ کے بارے مٰن اب یہ بات صاف ہوگئی ہے کہ یہ حرم کعبہ کے اندر کوئی بڑی واردات کا انتدائی حصہ تھا جو حادثاتی طور پر قبل از وقت شروع ہونے کی وجہ سے منیٰ ہی میں ختم ہوگیا اور اس میں پاسداران انقلاب کے درجنوں عہدیدار مارے گئے اور لگتا ہے کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔ خدا رحم کرے۔
--------------------------------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’جہاں پاکستان‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.