.

کیا ایران بدل سکتا ہے؟

عادل الجبیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا اس وقت ایران پر نظریں جمائے ایسے اشاروں کی تلاش میں ہے جو کہیں سے بھی کسی تبدیلی کا پتہ دیتے ہوں، اس امید پر کہ وہ سرکش انقلابی ریاست سے بدل کر عالمی برادری کا ایک محترم رکن بن جائے گا۔ تاہم ایران نے خود کی پیدا کردہ تنہائی کا مقابلہ کرنے کے بجائے اپنی خطرناک فرقہ وارانہ اور توسیعی پسندانہ پالیسیوں کا سہارا لے لیا۔ ساتھ ہی دہشت گردی کے لیے اس کی سپورٹ، جس کے دوران مملکت سعودی عرب پر بے بنیاد الزامات بھی عائد کیے۔

یہ بات اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہے کہ ہم ان وجوہات کو سمجھیں جنہوں نے سعودی عرب اور اس کے خلیجی حلیف ممالک کو ایرانی توسیع کی مزاحمت کا پابند کیا اور ایران کی جانب سے کسی بھی جارحانہ اقدام کا سامنا کرنے کے لیے بھرپور جواب دینے پر زور دیا۔ بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ ایران (کے رویے) میں تبدیلی آئی ہے۔ ہمیں وہ ابتدائی اقدامات معلوم ہیں جو ایران نے اپنے نیوکلیئر پروگرام کو روکنے پر آمادگی سے متعلق کیے۔ ہمیں اس بات کا پورا یقین ہے کہ ایرانی عوام کی ایک بڑی تعداد داخلی سطح پر زیادہ کشادگی اور پڑوسی ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ زیادہ بہتر تعلقات چاہتی ہے، تاہم ایرانی حکومت ایسا نہیں چاہتی۔

1979 کے انقلاب سے لے کر اب تک ایران کا یکساں چلن رہا ہے۔ اس کا آئین انقلاب کو برآمد کرنے کا مقصد بیان صراحت کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ نتیجے کے طور پر ایران شدت پسند اور پرتشدد تنظیموں کو سپورٹ کرنے پر کمر بستہ ہوگیا جس میں لبنان میں "حزب اللہ"، یمن میں "الحوثی" اور عراق میں فرقہ وارانہ ملیشیائیں شامل ہیں۔ ایران یا اس کے ایجنٹوں پر دنیا بھر میں دہشت گرد حملوں کے بھی الزامات ہیں۔ ان کارروائیوں میں 1983 مین لبنان میں امریکی میرینز کے بیرکس اور 1996 میں سعودی عرب میں الخبر ٹاورز کو دھماکوں کا نشانہ بنانے کے علاوہ 1992 میں برلین کے "میکونوس" ریستوران میں ہونے والی ہلاکتیں شامل ہیں۔ بعض رپورٹوں کے مطابق ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں کے ہاتھوں عراق میں 2003 سے اب تک 1100 سے زیادہ امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔

ایران سفارتی مقامات پر حملوں کو اپنی خارجہ پالیسی کے ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ 1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر دھاوا اور اس کا کنٹرول تو صرف آغاز تھا۔ اس کے بعد سے اب تک برطانیہ، ڈنمارک، کویت، فرانس، روس اور سعودی عرب کے سفارت خانوں کو ایران یا بیرون ملک میں اس کے ایجنٹوں کے ہاتھوں حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں غیرملکی سفارت کاروں اور مقامی سیاسی مخالفین کو ہلاک کیا گیا۔

ایران کی قائم مقام "حزب اللہ" لبنان پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے اور ساتھ ہی شامی اپوزیشن کے خلاف جنگ میں بھی مصروف ہے۔ اس طرح وہ "داعش" کو پنپنے میں بھی مدد کررہی ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ ایران شام میں "بشار الاسد" کو اقتدار میں کیوں باقی رکھنا چاہتا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے 2014 میں جاری کی گئی دہشت گردی سے متعلق اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ "ایران حزب اللہ کو اسلحہ فراہم کرنے کے لیے شام کو ایک اہم راستے کے طور پر دیکھتا ہے"۔ رپورٹ میں اقوام متحدہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران نے بشار الاسد کی حکومت کو اسلحہ، مالی سپورٹ اور تربیت فراہم کی تھی جس کا مقصد شامی حکومت کے اس وحشیانہ کریک ڈاؤن میں مدد کرنا تھا جس کے دوران 1 لاکھ 91 ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

ادھر یمن میں، حکومت کے خلاف حوثیوں کی بغاوت کو سپورٹ کرنے کے نتیجے میں چھڑنے والی جنگ میں ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

ایران اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح دوستانہ تعلقات ہیں جب کہ اس کا رویہ ثابت کرتا ہے کہ اس کا برعکس درست ہے۔ ایران خطے کا سب سے زیادہ تنازع میں مصروف ملک ہے۔ اس کی کارروائیاں ایک طرف تو خطے پر کنٹرول کے عزائم کی عکاسی کرتی ہیں، اور دوسری طرف اس گہرے یقین کو بھی ظاہر کرتی ہیں کہ کوئی بھی دوستانہ اقدام صرف کمزوری کی جانب اشارہ کرتا ہے خواہ وہ ایران کی ہو یا اس کے معاندین کی۔

اسی نقطے سے ایران نے گزشتہ اکتوبر کی دس تاریخ کو بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا۔ یہ تجربہ نیوکلیئر پروگرام سے متعلق معاہدے پر دستخط کیے جانے کے چند ہی ماہ کے اندر کیا گیا جو سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ دسمبر کے مہینے میں ایرانی بحریہ کے جہاز نے بین الاقوامی پانیوں میں امریکا اور فرانس کی کشتیوں کے نزدیک میزائل فائر کیا۔ یہاں تک کہ نیوکلیئر معاہدے پر دستخط کے بعد سے ایرانی سپریم لیڈر "آیت اللہ علی خامنہ ای" نے ملک میں رچے بسے نعرے "امریکا مردہ باد" کا بھرپور دفاع کیا ہے۔

سعودی عرب ایران کو اجازت نہیں دے گا کہ وہ ہمارے یا ہمارے حلیفوں کے امن کو کمزور کرے۔ ہم اس طرح کی کسی بھی کوشش کو پسپا کردیں گے۔

ایک بے ڈھنگے جھوٹ میں، ایران تمام سعودیوں کو خوامخوا بدنام کرنے اور ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لیے کہتا ہے کہ میری قوم (حرمین شریفین کا دیس) انتہا پسندی پھیلانے کے لیے لوگوں کی ذہن سازی کرتی ہے۔ ہم وہ ریاست نہیں جسے دہشت گردی کا نگراں قرار دیا گیا ہو بلکہ وہ ایران ہے۔ ہم وہ نہیں جن کو دہشت گردی کی حمایت کرنے پر بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا ہے، وہ صرف ایران ہے۔ اور ہم وہ ریاست نہیں جس کے اہل کاروں کے نام دہشت گردی کی فہرستوں میں شامل ہوں، بلکہ وہ ایران ہے۔ ہمارا کوئی ایسا ایجنٹ نہیں جس کو نیویارک کی فیڈرل کورٹ نے 2011 میں واشنگٹن میں ایک سفیر کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے پر 25 سال قید کی سزا سنائی ہو، ہاں ایران کا ایسا ایجنٹ ضرور ہے۔

سعودی عرب اکثر ایران کے حلیفوں کے ہاتھوں دہشت گرد کارروائیوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ ہمارا ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہراول دستے میں ہے، اور اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر اس کا مقابلہ کررہا ہے۔

سعودی عرب نے دہشت گردی میں ملوث ہزاروں افراد کو گرفتار کیا اور ان میں سیکڑوں کے خلاف سزائے موت پر عمل درامد ہوا۔ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مملکت ان کثیرالقومی کوششوں کی قیادت کر رہی ہے جن کے ذریعے دہشت گردی میں ملوث عناصر، اس میں مالی معاونت کرنے والے عناصر اور انتہا پسند سوچ پھیلا کر دہشت گردی پر اکسانے والے عناصر کا تعاقب کیا جارہا ہے۔

تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا ایران بین الاقوامی نظام کے اصولوں کے تحت رہنا چاہتا ہے، یا پھر ایسی انقلابی ریاست کے طور پر باقی رہنا چاہتا ہے جو توسیع پسندی اور بین الاقوامی دھجیاں اڑانے کے لیے پرعزم ہو۔

آخر میں، ہم ایران سے چاہتے ہیں کہ وہ مسائل کے حل کے لیے ایسے طریقے سے کام کرے جس سے اقوام عالم امن کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ تاہم یہ امر ایران کی پالیسی اور رویے میں بڑی تبدیلی کا تقاضہ کرتا ہے، اور ہم اس کے منتظر ہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.