سعودی عرب امن ساز بننے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہے!

اَلون بن مئیر
اَلون بن مئیر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
12 منٹ read

اسرائیل اور فلسطینی کسی تیسرے فریق کی ثالثی کے بغیر اپنے تنازع کا حل تلاش نہیں کریں گے۔ ایسا فریق اب روایتی ثالث یعنی امریکا نہیں رہا ہے بلکہ سعودی عرب ہے۔ سعودیوں نے خطے میں ایک امید افزا جغرافیائی تزویراتی ماحول پیدا کیا ہے اور ان کے پاس کامیابی کے لیے وسائل اور سیاسی اثرو رسوخ موجود ہے جہاں باقی سب ناکام رہے ہیں۔

گذشتہ ایک سال کے دوران میں سعودی عرب نے مشرق اوسط میں ایک بڑی جغرافیائی حکمت عملی کا آغاز کیا ہے تاکہ تین مخصوص مقاصد حاصل کیے جا سکیں:

تنازعات سے دوچار خطے کو زیادہ سے زیادہ حد تک مستحکم کرنا۔
اس کے علاقائی اور بین الاقوامی اثر و رسوخ اور قدکاٹھ میں اضافہ کرنا۔
اور تیل کی مستحکم برآمدات کو یقینی بنانا۔

اس مقصد کے لیے الریاض نے حال ہی میں اپنے روایتی حریف ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کیے ہیں۔شام کے صدر بشارالاسد کو دوبارہ عرب ممالک کے سربراہ اجلاس میں مدعو کیا، اسرائیل کے ساتھ اپنے خاموش تعلقات کو وسعت دی، سوڈان میں متحارب جنگجو فریقوں کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی اور یوکرین اور روس کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھیں۔اس نے خاص طور پر بڑی طاقتوں، امریکا، روس اور چین کے ساتھ، اور عرب دنیا میں اپنے قائدانہ کردار کو مستحکم کیا ہے اور ہر لحاظ سے سعودی عرب مشرق اوسط کی سب سے بڑی ابھرتی ہوئی طاقت بن چکا ہے جس کا مقابلہ خطے کی کوئی بھی ریاست نہیں کر سکتی۔

یقینی طور پر سعودی عرب نے خود کو ایک منفرد پوزیشن میں رکھا ہے جہاں وہ دوسری جنگ عظیم کے بعد اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان طویل ترین اور شاید سب سے پیچیدہ تنازع کے حل میں ثالثی کرکے اپنے اثرورسوخ اور قائدانہ کردار کو استعمال کرسکتا ہے۔ سعودی سمجھتے ہیں کہ جب تک یہ تنازع جاری رہے گا، علاقائی استحکام کمزور رہے گا۔

مزید برآں، اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کسی بھی بڑے پیمانے پر تصادم سے سلامتی کے حوالے سے بڑے مضمرات ہوں گے جو سعودی عرب سمیت خطے کے ہر ملک کو متاثر کریں گے۔ اگرچہ ماضی میں دیگر ثالثوں خاص طور پر امریکا کو اس تنازع کا حل نہیں مل سکا تھا، لیکن سعودی عرب، بڑھتی ہوئی مقبولیت اور سیاسی اثرورسوخ کے ساتھ ایک جغرافیائی سیاسی طاقت کے طور پر، اب تنازع کی حرکیات کو تبدیل کرنے اور ممکنہ طور پر ایک ایسی کامیابی حاصل کرنے کے لیے ایک منفرد پوزیشن میں ہے جہاں دوسرے ناکام رہے ہیں۔

اسرائیل اور فلسطین کے تنازع پر نظر رکھنے والے بعض باخبر مبصرین ایک نئے سعودی اقدام کے خیال کو مسترد کر سکتے ہیں کیونکہ اسرائیل اور فلسطینیوں نے امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے ضروری رعایتیں دینے سے دہائیوں سے انکاری چلے آرہے ہیں۔کچھ دوسرے لوگوں کا اصرار ہے کہ دو ریاستی حل پر بات چیت میں بہت دیر ہو چکی ہے، کیونکہ زمینی حالات تیزی سے تبدیل ہو چکے ہیں اور اب اس طرح کے حل کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔ایسے لوگ بھی ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ درحقیقت ایک ریاست ہے جس کے دو قانونی نظام اسرائیل کی ضروریات کے مطابق ہیں، اور یہ کہ دائیں بازو کی اسرائیلی حکومتیں بستیوں کی توسیع، مزید فلسطینی علاقوں کو ضم کرنے اور کسی بھی صورت میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے کے لیے جوں کی توں صورت حال (اسٹیٹس کو) برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گی۔

اس کے باوجود، میں اس بات پر قائم ہوں کہ تنازع کی ناگزیریت اور زمینی حقائق سے قطع نظر، جس میں اسرائیلی بستیاں، یروشلم (مقبوضہ بیت المقدس) کی حیثیت اور دونوں عوام کی قومی سلامتی کے خدشات شامل ہیں، اس طرح کے سعودی اقدام کے لیے وقت اور حالات موزوں ہیں۔ درحقیقت، اس بات سے قطع نظر کہ اس میں کتنا ہی وقت لگ سکتا ہے، ایک فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے کیونکہ کسی نے بھی واضح طور پر یہ ثابت نہیں کیا ہے کہ فلسطینی کب، کیسے اور کن حالات میں اپنی ریاست قائم کرنے کے اپنے حق سے دستبردار ہوں گے۔ چھے پہلو ہیں جو اس تجویز کی مضبوطی سے حمایت کرتے ہیں۔

سب سے پہلے، کوئی بھی نیا سعودی اقدام 2002 کے عرب امن اقدام (اے پی آئی) کے مطابق ہوگا جسے ابتدائی طور پر سعودیوں نے تجویز کیا تھا اور بعد میں عرب لیگ نے اسے اپنایا تھا۔ تاہم، اس بار، سعودیوں کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے اپنی آمادگی کا عوامی طور پر اعلان کرنا چاہیے، بشرطیکہ اسرائیلی حکومت فلسطینیوں کے ساتھ نیک نیتی سے بات چیت کرے تاکہ دو ریاستی حل پر مبنی معاہدے تک پہنچ سکے۔ سعودی عرب امریکا کی حمایت سے ثالث کا کردار ادا کرسکتا ہے۔اس طرح کے اقدام سے سعودی عرب اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مستقبل میں ہونے والے کسی بھی مذاکرات میں اپنے قائدانہ کردار کو مزید مضبوط کرے گا۔

دوسری بات یہ ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو یا ان کا کوئی جانشین سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے سے زیادہ کچھ نہیں چاہتا۔ یہ پیش رفت ایک جامع عرب اسرائیل امن کی کلید بھی ہوسکتی ہے۔ اس سے سعودیوں کو بہت زیادہ فائدہ حاصل ہوسکتا ہے جسے وہ اسرائیلی حکومت کو فلسطینیوں کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے اور ضروری رعایتیں دینے پر راضی کرنے کے لیے مکمل طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔ نیتن یاہو کے لیے اس وقت میں خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا ان کے طویل سیاسی کیریئر کا زیور ہوگا۔

مزید برآں، نیتن یاہو اپنی حکومت کی کم ہوتی مقبولیت کے پیش نظر سعودی اقدام کو نظر انداز کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ بائیں بازو اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتیں مطالبہ کریں گی کہ اسرائیل کسی بھی سعودی اقدام کو سنجیدگی سے لے، بہ صورت دیگر نیتن یاہو کی حکومت کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔اسرائیل میں ایک نئے انتخابات کے انعقاد سے ممکنہ طور پر بائیں بازو اور مرکز کی سیاسی جماعتوں کو مخلوط حکومت تشکیل دینے کے لیے ایک نیا مینڈیٹ ملے گا جو فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے کہیں زیادہ ہم آہنگ ہوگا، جیسا کہ حزب اختلاف کے متعدد رہنماؤں نے کہا ہے۔ان میں دوسری سب سے بڑی جماعت کے رہنما یش عتید بھی شامل ہیں۔

تیسری بات یہ ہے کہ عرب ممالک کے ابھرتے ہوئے رہنما کی حیثیت سے سعودی عرب جانتا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے اور اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کے لیے کسی بھی آپشن کو ختم کرنے سے پہلے فلسطینی کاز کو ترک کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ مغربی کنارے میں فلسطینی یقینی طور پر سعودی عرب کے اس نئے اقدام کا خیر مقدم کریں گے کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ سعودی عرب ان کے لیے امن مذاکرات کے کسی بھی عمل میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

فلسطینیوں کے لیے سعودی عرب کی سیاسی حمایت اور مالی امداد مرکزی حیثیت رکھتی ہے جس کی وجہ سے سعودی عرب کو اب اور مستقبل میں فلسطینیوں پر زبردست برتری حاصل ہے تاکہ وہ مطلوبہ مراعات دے سکے۔بہ صورت دیگر سعودی اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے اور فلسطینیوں کو ان کے اپنے حالات پر چھوڑنے کے لیے آزاد ہو جائیں گے۔

چوتھی بات یہ ہے کہ سعودی عرب یقینی طور پر امریکی حمایت پر بھروسا کر سکتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ بائیڈن انتظامیہ اس موقع پر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان نئے امن مذاکرات شروع کرنے کی خواہش مند نہیں اور دو ریاستی حل کے امکانات پر زبانی جمع خرچ سے زیادہ کچھ نہیں کر رہی ہے۔ نیز امریکی حمایت کے علاوہ، یورپی یونین سعودی اقدام کی بھرپور حمایت کرے گی کیونکہ یورپی یونین نے اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کے لیے اپنی کوششوں کے ضمن میں مستقل مزاج رہی ہے۔

پانچویں بات یہ ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع خطے میں کافی عدم استحکام کا باعث ہے، سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے اور سعودی ایران سفارتی تعلقات کی بحالی سے یقینی طور پر پرسکون علاقائی اثرات مرتب ہوں گے اور الریاض یہی چاہتا ہے۔ اس سے نہ تو تہران کے جوہری پروگرام پر اسرائیل کے خدشات کم ہوں گے اور نہ ہی اسرائیل کے بارے میں تہران کے مخالفانہ رویے کو مکمل طور پر کم کیا جاسکے گا، لیکن اس سے اسرائیل کے بارے میں ایران کی آلہ کارلبنانی تنظیم حزب اللہ کے مؤقف میں نرمی آئے گی اور مستقبل میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے امکانات کم ہوجائیں گے۔

چھٹا، موجودہ فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کی قیادت میں اسرائیل کے ساتھ امن یا مغربی کنارے میں مستقبل میں اعتدال پسند حکومت سخت گیر فلسطینی تنظیموں حماس اور جہاد اسلامی کو اسرائیل کے بارے میں اپنے مؤقف کا ازسرنو جائزہ لینے پر مجبور کرے گی۔ انھیں یا تو فلسطینی اتھارٹی میں شامل ہونا پڑے گا اور ایک اتحاد کی حکومت تشکیل دینا ہوگی (بشرطیکہ وہ پہلے اسرائیل کے وجود کے حق کو تسلیم کریں) یا امن عمل کا حصہ بننے سے انکار کریں اورغزہ کی پٹی کی ناکا بندی کے تحت مشکلات کا شکار رہیں۔ حماس نے بہت پہلے ہی محسوس کر لیا تھا کہ اسرائیل کی حقیقت ناقابل تنسیخ ہے اور ایک بار جب سعودی اقدام سامنے آجاتا ہے تو اسے امن عمل میں شامل ہونے کا راستہ مل سکتا ہے، بالخصوص اب جب غزہ بہت سے محاذوں پر اسرائیل پر انحصار کر رہا ہے، اور غزہ کے ہزاروں شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی اسرائیل پرمنحصر ہیں۔

یقینی طور پر، سعودیوں کے پاس ایک سنہری موقع ہے کہ وہ 2002 کے اپنے امن اقدام کی تجدید کرکے تنازع کی حرکیات کو ڈرامائی طور پر تبدیل کریں۔یہ کہاجاتا ہے کہ یہ فرض کرنا حماقت ہوگی کہ سعودی عرب صرف دونوں فریقوں کو اکٹھا کر کے کوئی حل نکال سکتا ہے۔اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان گذشتہ کئی عشروں سے جاری گہری دشمنی، نفرت اور بداعتمادی کو سب سے پہلے مصالحت کے عمل کے ذریعے بڑی حد تک کم کرنا ہوگا۔ اس طرح کے عمل کی نگرانی سعودیوں اور امریکا کو کرنی چاہیے اور یہ عمل کئی سال تک جاری رہنا چاہیے بشرطیکہ دونوں فریق مذاکرات کے حتمی نتیجہ کے طور پر فلسطینی ریاست کے قیام پر پیشگی اتفاق کریں۔

کسی بدترین منظرنامے میں اگر اسرائیل اور فلسطینی کسی سعودی اقدام پر غور کرنے سے ہی انکار کرتے ہیں تو اس سے سعودی عرب کو کوششیں نہیں ترک کرنی چاہییں اور نہ اسے ایسا کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔ سعودی عرب مشرق اوسط میں ابھرتے ہوئے اورغیر متنازع رہ نما کی حیثیت سےاسرائیل اور فلسطین کے درمیان دیرینہ تنازع کو نظر انداز کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ خود خطے میں خوش حالی، سلامتی اور استحکام کا خواہاں ہے۔

اسرائیل اور فلسطینیوں دونوں کو سعودی عرب کی ضرورت ہے۔ اب یہ الریاض پر منحصرہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائے اور ایک علاقائی رہنما کی حیثیت سے اپنی پوزیشن کا اظہار کرے اور امن ساز ہونے کی ذمے داری سنبھالے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ مضمون پہلے سی این این عربی کی ویب گاہ پر شائع ہوا۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size