'عدلیہ' کا کیا کریں؟

نجم الحسن عارف
نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
11 منٹ read

یہ سوچ کر لرزہ محسوس ہوتا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ فاضل جج حضرات کے بارے میں یہ سوچ پیدا ہو سکتی ہے کہ اب 'کارآمد' نہیں ۔ اس لیے انہیں فاضل قرار دے کر باعزت گھر بھیج دیا جائے۔ اگر یہ سوچ آگے بڑھتی ہے تو ان چھ جج حضرات کا اس طرح اجتماعی طور پر ایک بھاری بھرکم شکایت کے ساتھ سامنے آ جانا عملاً خودکش حملے کی طرح ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ ’خودکش حملے' کی اصطلاح کیوں استعمال کی گئی۔ یہ سوال ذہن میں اٹھنا جائز ہے۔ اس کا جواب بھی حاضر ہے کہ چھ فاضل جج حضرات کی کوشش اس راستے سے غالباً ہٹا دی گئی ہے۔ جو اس بھاری اور بڑی شکایت کا حقیقی راستہ یا طریقہ ہو سکتا تھا۔ کیونکہ ان فاضل جج حضرات کے الزامات کو اتنی بھی وقعت نہیں مل سکی جتنی کسی عام شہری کی شکایت ان چھ میں سے کسی ایک یا چھ کے چھ ججوں کے خلاف اڑتی اڑتی سپریم جوڈیشل کونسل پہنچ جاتی اور پذیرائی پا لیتی۔

ایک مثال پر غور کریں۔ اگر کوئی فوجی سربراہ کسی سول حکومت کے خلاف بغاوت کر دے تو بغاوت کامیاب نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ باغی جرنیل مارا جاتا ہے، غدار قرارا پاتا ہے۔ اگر بغاوت کامیاب ہو جائے تو سول حکومت اور سول حکمران کی خیر نہیں ہوتی ہے۔ جی ہاں 'ملٹری کو' کی کامیابی کی صورت میں انقلاب کہلاتا ہے اور ناکامی کی صورت میں بغاوت، غداری اور آئین شکنی قرار پا کر باغی کی موت یا کم از کم جیل کا سبب بن جاتا ہے۔ اس معاملے میں دوسرا تاثر ابھی تک غالب ہے۔ جیسا کہ جناب چیف جسٹس سے غلط ہی سہی منسوب ہو چکا ہے کہ وہ ان چھ ججوں کو عدالیہ کے ہیرو ماننے کو تیار نہیں۔ اس لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزز جج صاحبان نے بھی اسی خود کش طرز کی بغاوت کی ہے ، پختہ عدالتی روایت سے انحراف کیا ہے ، یا کم از کم کمزور اور نوخیز سی روایت کوایک ادھورے عدالتی فیصلے کے بعد قدرے زیادہ پر امیدی اور جذباتیت کے ساتھ سہارا بنا بیٹھے۔

مگر ان جج حضرات نے کوئی ایسی 'آؤٹ آف باکس' بات نہیں کی۔ جو 'میرے عزیز ہم وطنو' کے کلچر کے حامل وطن عزیز میں معمول نہ رہا ہے۔ ہاں کبھی کم اور کبھی زیادہ کا معاملہ ضرور رہا ہے۔ اس کا انحصآر اس پر ہوتا ہے کہ ڈاکٹرائن کون سی بروئے کار ہے۔' اے پولیٹیکل' والی یا 'بی پولیٹیکل' والی ۔ 'اے پولیٹیکل والی ڈاکٹرائن ابھی نئی ایجاد ہے ، اس لیے تجربہ جلدی ناکام ہو گیا ۔ البتہ 'بی پولیٹیکل' والی روش دیرینہ ہے۔ ہاں بعض دوست اپنے تلفظ کی مجبوری کے باعث 'وی پولیٹیکل' کہہ لیں تو شاید مفہوم تلفظ کی کمزوری کے باوجود سمجھ میں خوب آ جائے گا۔ بات نئی اور پرانی ڈاکٹرائن کی ہو رہی تھی۔ اس لیے نواں نو دن کے مقابلے میں پرانا سو دن کی طرح پرانی ڈاکٹرائن ہی کامیاب و کامران ہے۔

بہر حال خود سپریم کورٹ کے جسٹس(ر) شوکت عزیز صدیقی سے متعلق فیصلے سے بھی پرانی ڈاکٹرائن جھلک رہی ہے۔ جسے بہتوں نے ادھورا فیصلہ قرار دیا ہے۔ شاید اسی فیصلے کے باعث اسلام آباد کے ان چھ جج حضرات کو بھی حوصلہ ملا کہ انہوں نے اس فیصلے سے قبل اپنی شکایات یا پریشانی کا اظہار محض بند دروازوں میں کیا تھا۔ مگر اب انہوں نے یہ جسارت بر سرعام سپریم کورٹ اور سپریم جوڈیشل کے نام خط لکھ کر کر دی۔

اس کی بعد کیا ہوا۔ چیف جسٹس پاکستان جناب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس سب کے خط کے مطالعہ اور تفصیلات پر غور کرنے کے بعد ضروری خیال کیا کہ ان تمام ججوں سے ملیں اور چھوٹی سی انکوائری نما سرگرمی کر لیں کہ آخر ان ججوں کو اچانک کیا سوجھی۔ جناب چیف جسٹس جن کا اسلوب ایک بہترین مگر الجھا دینے والے وکیل صفائی کے زیادہ قریب ہے کہ وہ ایسی جرح کرتے ہیں کہ مدعی خود کو ملزم سمجھنے لگتا ہے۔

بہر طور وہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے بھی ملے۔ پھر ضروری سمجھا کہ سپریم کورٹ کے جج حضرات کا 'ہاؤس فل اجلاس' بلا کر اس میں اس خط پر غور کریں۔ اس اجلاس کے ہونے تک کی ساری علامات یہ ہیں کہ چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے چھ ججوں کی ساری شکایات کو ایسا غلط یا الزام برائے الزام نہیں سمجھا۔ وگرنہ ایک کے بعد دوسری سرگرمی نہ کرتے چلے جاتے۔ لیکن بعد ازاں بادی النظر میں فاضل چیف جسٹس نے محسوس کیا کہ یہ کام کافی بھاری ہے۔ یہ 'منیرجسٹس' ٹائپ انصاف سے سنبھل نہیں پائے گا۔ اس لیے اس سے نکلنے کی عدالتی تدبیر کے بجائے کوئی دوسری صورت ہونی چاہیے۔ یہ منیر جسٹس کیا ہے؟ مطلب یہ ہے کہ آج کے پاکستان میں کوئی جسٹس منیر بن کر نہیں جینا چاہتا ، مگر 'منیر جسٹس' تو کر سکتا ہے۔ بس یہ سمجھیں کہ جس طرح' ڈوگر کورٹس' اور' کینگرو کورٹس' برداشت کر لی گئی تھیں۔ ' منیر جسٹس' بھی برداشت کر لیں۔ (ایسا انصاف جو جسٹس منیر کے انصاف جیسا ہو)

اگر یہ کمیشن بنانے کا معاملہ صرف وزیراعظم شہباز شریف یا کسی اور سیاستدان سے متعلق ہوتا تو با آسانی کہا جا سکتا تھا کہ وہ پتلی گلی سے نکل گئے اور چیلنج کا سامنا کرنے کے بجائے کمیشن کی آپشن لے لی۔ لیکن چونکہ معاملہ عدلیہ کا ہے اس لیے پتلی گلی کا ذکر گول کرتے ہیں۔

البتہ عدالتی اصطلاح کا سہارا لے کر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ انصاف کے ایوانوں میں بیٹھ کر ماورائے عدالت راستہ اختیار کرنے کی خواہش اور کوشش بروئے کار لائی گئی ہے۔ جب تک کمیشن بنے گا اور اپنی 'فائنڈنگ' دے گا۔ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہوگا۔ ہو سکتا ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ صاحب کا بطور چیف جسٹس منصب دکان اپنی بڑھا کر آگے بڑھ گیا ہو۔ اس لیے وزیراعظم اور چیف جسٹس کے درمیاں 'آؤٹ آف کورٹ ڈیل' کا رجحان سامنے آیا ہے۔ ہاں اس کی اہمیت اور زیادہ اس لیے ہوگئی ہے کہ یہ انصاف کے ایوانوں میں انصاف بانٹنے والوں کے ساتھ انصاف کا معاملہ ہے۔

ایک دو چیزیں اور بھی دلچسپ ہیں ۔ چھ ججوں کی ہاہا کار کے باوجود اسے ججوں کے تحفظ اور حقوق کا معاملہ بھی نہیں سمجھا جا سکا۔ انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کا معاملہ بھی نہیں اور بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ بھی نہیں۔ بس 'مردہ جلدی دفنانے' والا ماحول بنایا گیا ہے کہ مٹی پاؤ۔ یہ اس لیے کہ پارلیمان کی حالیہ ایک قانون سازی کے نتیجے میں سپریم کورٹ کے تین سینئیر جج حضرات کو فوقیت اور فضیلت دی گئی تھی ۔ ان میں سے تیسرے سینئیر ترین فاضل جج صاحب وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ملاقات میں بھی موجود نہیں تھے۔ گویا اس معاملے میں انہیں شریک مشاورت کرنا ضروری نہیں سمجھا گیا کہ کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔ چلیں ایک ہاہاکار والا شعر سنتے ہیں۔

یہ ہاہا کار کچھ ہے

غلط سرکار کچھ ہے

سیاست یار کچھ ہے

وطن سے پیار کچھ ہے

اگر تکنیکی اور میرٹس کے معاملے کو اس سلسلے میں ملا کر دیکھا جائے تو چھ جج حضرات کے خط میں کئی فریق موجود تھے۔ ان میں سے دو تو سیدھے سیدھے انتظامیہ کے سربراہ اور عدلیہ کے سربراہ تھے۔ دونوں فاضل شخصیات نے باہم مل کر اس معاملے کو خود طے کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ خالصتاً 'اتفاق کی برکات 'سے استفادے کی کوشش ہے۔ اتفاق اور برکات دونوں پر تنقید کی جسارت کوئی کیسے کر سکتا ہے۔ اتفاق کر لینے والے ہمیشہ فائدہ میں رہتے ہیں۔ وگرنہ اتفاق کی فاؤنڈری سب کچھ ' سکریپ' قرار دے کرپگھلا دیتی ہے۔

لیکن مسئلہ تب ہو گا جب جج حضرات میں سے کوئی ایک یا چھ کے چھ کہہ دیں کہ ہمیں شنوائی نہیں ملی یا سنا ہی نہیں گیا۔ کیا انصاف کا ترازو کہہ سکے گا میں اندھا تو تھا ہی اب بہرہ بھی۔۔۔ یہی عدم شنوائی کا گلہ اسٹیبلشمنٹ کے ارکان کا بھی سامنے آسکتا ہے کہ ہمارے سامنے جس جس فورم پر اتنے سنگین الزام لگائے گئے۔ ہمارا مؤقف بھی ان فورمز پر سنا جانا چاہیے تھا۔ ہمیں کیوں موقع نہیں دیا گیا۔ ایسی عدم شنوائی کا کچلر ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے مقدمے کے حالیہ 'ریویو' پر سپریم کورٹ کے دیے گئے فیصلے کے بعد بھی اگر ہماری اعلیٰ ترین عدلیہ اور چیف جسٹس صاحبان کے طرز عدالت پر غالب رہنا ہے تو کیا کل پھر کوئی اور بھی اس معاملے کے 'ریویو' کے لیے عدالت سجا کر بیٹھا ہوگا اور لوگوں کو ڈانٹ ڈانٹ کرفیصلوں اور تاریخ کی درستگی کر رہا ہوگا۔ بلاشبہ 'حی و قیوم' تو صرف اللہ کی ذات ہے، اور ازل سے تقدیر کا قاضی بھی وہی ہے۔

رہا یہ سوال کہ تحقیقاتی کمیشن کیسے نیک نام جج پر مشتمل ہوگا۔ اس کمیشن کے' ٹی آو آرز' کیا ہوں گے۔ سابق جج صاحب موجودہ جج حضرات پر اور اسٹیبلشمنٹ کے بااثر افراد کو کس طرح قائل یا مجبور کر سکیں گے کہ وہ حاضر ہوں اور سچ کے سوا کچھ نہ کہیں۔ اگر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ فاضل جج صاحبان مجوزہ کمیشن کے بارے میں تحفظات ظاہر کر دیتے ہیں تو کیا پھر ان جج حضرات پر 'مس کنڈکٹ' کا الزام تو نہیں لگ جائے گا۔ چلتے چلتے بھارتی شاعر کا ایک شعر مگرتھوڑی سے ذاتی فائدے کے لیے کی گئی 'آئینی ترمیم' کے ساتھ۔

اس سے پہلے 'عدلیہ' کی اتنی بے قدری نہ تھی

'مقتدر' سے پوچھتے ہیں 'عدلیہ' کا کیا کریں

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں