غزہ کے ساحل پر بے گناہوں کا خون
غزہ کے ساحلوں کے نزدیک بے گناہ فلسطینیوں کے خون سے غزہ اور اردگرد کو 'بلڈ باتھ' دیا جا رہا ہے۔ جبکہ غزہ کی مزید بربادی اور فلسطینیوں کا خون کرنے کے حق میں دلائل دینے والے قہقہوں اور موسیقی کی دھنوں کی پھوار میں نجی ساحلوں پر'سن باتھ' کے مزے لینے کے آرزو مند ہیں۔
مگر ان لوگوں کے لیے بھی یہ موقع موجود ہے جو خود کو اچھا اچھا دیکھنے اور دوسروں کے سامنے اپنے آپ کو اچھا ظاہر کرنا چاہتے ہوں، ان کے لیے بھی آسان سی ترکیب ہے۔ یوں سمجھیں 'ھینگ لگی نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے' والی مثال ہے کہ قربانیاں کوئی دے رہا ہو گا۔ اور آپ یا میں صرف منصفانہ انداز سے منصفانہ بات کر کے ایک منصفانہ 'کاز' کو آگے بڑھا کر نیک نامی، مقبولیت اور عزت پا سکتے ہیں۔
اتفاق سے 'فلسطینی کاز' کی جائز بنیادوں پر حمایت اس وقت اس سلسلے کا نمایاں ترین موقع ہے کہ بچے کسی کے مر رہے ہیں عورتیں کسی کی قربان ہو رہی ہیں مگر عزت کے ساتھ گندھا ہوا تعارف ہر اس شخص کے لیے ممکن ہے جس کی زبان اس کے دل کی رفیق ہو گئی ۔۔۔ اور جس نے نہ خوف اور تھڑ دل کا اسیر ہونا قبول نہ کیا۔
بالکل یہی اس وقت غزہ میں ہو رہا ہے۔ غزہ کی فلسطینی آبادی اپنی آزادی کے لیے جانیں قربان کر رہی ہے اور خون پیش کر رہی ہے۔ لیکن وہ جو ان کا ابھی اور خون لینا بلکہ خون پینا چاہتے ہیں وہ ان کے خون کو اور بہتے دیکھنے کے لیے دلائل گھڑتے ہیں۔ یہ بظاہر انسانیت کے سب سے بڑے ہیں۔
مگر اصلاً ان کے ہاتھ اور چہرے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ یہ مچھروں کو چھانتے ہیں اور اونٹوں کو نگل جاتے ہیں۔ ایک تازہ مثال یہ لیجیے کہ اسرائیل نے غزہ میں فلسطینی بچوں کو پولیو کے خطرے سے بچانے کے لیے قطرے پلانے سے نہ صرف اتفاق کیا ہے بلکہ فلسطینی بچوں کو پولیو سے بچانے کے لیے جنگ میں وقفے بھی کر سکتا ہے۔
ایسے بھی لوگ ہیں جو دوسروں کی جانوں کی قربانیوں کی بنیاد پر ہیرو بننے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ الا یہ کہ ان کے اپنے بچوں کی اور خاندانوں کا معاملہ ہو۔ ایسے لوگ دوسروں کے درد اور کرب کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے والے ہوتے ہیں۔ گویا یہ ان کا خون بیچ کر اپنی سیاست اور اقتدار کو پکا رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ نے انہیں اس کا حق نہیں دیا ہے۔
ان کے محل اور اقتدار میں اس خون کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ کہ ان کی پر تعیش زندگیوں کی صورت اسی طرح ممکن رہتی ہے۔ انہیں دنیا کی ہر آسائش میسر ہوتی ہے اور یہ اپنی زندگیاں انہی زیبائشوں، آرائشوں اور آسائشوں کے لیے لیے وقف ہو کر رہ جاتی ہے۔ ان کے فیصلے اور اقدامات صرف اسی لیے رہ جاتے ہیں کہ محلات والی زندگی سے جڑے رہیں۔
لیکن ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ غزہ کے عرب فلسطینیوں کے جینز میں اور تمہارے جینز میں ایسا کیا فرق ہے۔ کیوں ان کی زندگیاں اور خون تمہارے لیے اہم نہیں رہے۔ انہیں کیوں دوسرے سب لوگوں کی طرح اپنی آزادی، پسند اور مرضی کی اچھی زندگی کا حق حاصل نہیں ہے۔ کیا وجہ ہے کہ آپ تو اپنی اگلی کئی کئی نسلوں کی پر تعیش زندگیوں کے لیے درہم ودینار اور سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور ان کے بچوں کا خون بہتا رہے۔ وہ کیوں اپنے بچوں کے لیے خواب نہیں دیکھ سکتے کیوں ان کا اپنا گھر اور وطن نہیں ہونا چاہیے۔ بالکل ہاں۔۔ یہ سب فطری اور قدرتی خواہشات ان کی بھی ہو سکتی ہیں۔
لیکن جو اپنے لیے ہر اچھائی اور بھلائی چاہتے ہیں وہ اہل غزہ کو ان کے ساحل پر مرتا ہوئے دیکھنے رہنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ وہ مشکلات و مصائب میں پڑے رہیں اور ان کی کسی مشکل یا مصیبت کی پرچھائی ہمارے اور پر نہ آئے، جو جابر اور ظالم اسرائیل نے ان پر مسلط کر رکھی ہیں۔
اگر یہ مصائب ختم ہو گئے تو انہیں اس حال میں دیکھنے کے عادی لوگوں کو خوف ہے کہ یہ کے لیے دستیاب مواقع میں یہ بھی شریک ہو جائیں گے یا شریک ہونا چاہیں گے۔ یوں بنا بنایا سیاسی تگڑم بگڑ سکتا ہے۔ یہ غداروں اور آلہ کاروں والے حوالے بدلنے لگیں گے۔ پھر وہ سب ہی کو تمام جگہوں اور سطحوں پر روک کر پوچھنے لگیں گے کہاں تھے جب ہم اور ہمارے بچے مر رہے تھے؟
تمہاری زندگیوں اور ہماری زندگیوں میں بعد المشرقین کیوں ہے۔ اس وقت تم ہم سے سینکڑوں ہزاروں میل دور کیوں رہے جب ایک ہی روز ہمارے بچے مار دیے جاتے تھےاور ہمارے ماں باپ بھی۔ مگر تم ہمیں بچانے آئے، نہ ہمای لاشیں اٹھانے آئے، نہ ہماری لاشوں کے چیتھڑوں کو تولنے یا گننے کے لیے دستیاب ہو سکے، حتیٰ کہ ہمارے بچوں اور بڑوں کے جنازے میں بھی کبھی شریک نہیں تھے۔ تم کیسے ہمارے اپنے ہو؟