لبنان میں پیدا ہونے والے خلا کے بعد بشار الاسد شام کے اثرات بحال کر سکیں گے؟
لبنان میں بدلتی ہوئی صورتحال اور منڈلاتے ہوئے خطرات کو دیکھتے ہوئے عرب دنیا کے چند بڑوں نے کچھ عرصہ پہلے ہی شام میں ایک اجلاس میں غور و فکر شروع کر دیا تھا کہ لبنان میں حسن نصراللہ کی جگہ شام کے بشار الاسد کو لے لینی چاہیے تاکہ شام میں عرب دنیا کے اثرات برقرار رکھے جا سکیں۔ دمشق میں ہونے والے اس اہم سوچ بچار کے اجلاس کا مقصد لبنان پر اثر انداز ہونے کے لیے شام کو بروئے کار آنے میں مدد دینا تھا۔ تاکہ شام جو ماضی میں لبنان میں کافی بااثر رہ چکا ہے، اسی روایت کو پھر سے زندہ کر لیا جائے۔
شام کے لبنان میں اثرات کے بعد تقریباً تین دہائیوں تک حسن نصراللہ نے اپنے اثرات کو بہت گہرا کر لیا تھا۔ تاہم حسن نصراللہ کے یہ اثرات شام کی ضد کے تاثر کے ساتھ نہیں تھے۔ بلکہ شام کے اتحادی اور قریبی کے حوالے سے تھے۔ اسی لیے حسن نصراللہ نے بھی لبنان سے شامی فوج کے انخلاء کے بعد شایان شان انداز میں شام کے حق میں ایسی تائیدی و الوداعی احترام پیش کرنے کی کوشش میں 'وفاداری مارچ' کا اہتمام کیا کہ وہ شام کے اثرات کے شراکت دار کے طور پر لبنان میں ابھرنے لگے نہ کہ شام سے متصادم ایک سیاسی قوت کے طور پر۔
شامی فوج کا یہ انخلاء لبنان کے عوامی سطح پر مقبول رہنما رفیق الحریری کے قتل کے بہیمانہ واقعے کے بعد ہوا تھا۔ تاہم دمشق کے اجلاس میں سوچ بچار کے لیے جمع ہونے والے لوگوں کے لیے سب سے اہم سوال یہ تھا کہ لبنان میں شام اور شام کے بشار الاسد کے لیے کس طرح جگہ بنائی جائے کہ جب وہاں پہلے سے ہی حسن نصراللہ کی شخصیت ہر سو چھائی ہوئی ہے۔ گویا 'کمرے میں ہاتھی' کے ہوتے ہوئے جگہ بنانا آسان نہیں تھا۔
حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ نے پچھلی تین دہائیوں میں حزب اللہ کو شام کے ایک اتحادی کے طور پر ہی ابھارا اور ایک منظم قوت بنا دیا۔ جو کبھی شام یا شام کے بشار الاسد کے لیے خطرے کا باعث نہیں بلکہ تقویت کا باعث ہی بنتی رہی۔
2005 میں جب شامی فوج لبنان سے نکلی تھی تو حسن نصراللہ کے اس کے ساتھ قربت میں کوئی کمی نہیں تھی۔ تاہم دمشق کے حالیہ اجلاس میں حسن نصراللہ ہی وہ نام تھا جس کے بارے میں سوچتے سوچتے سب رک جاتے اور کوئی یہ نہ کہہ پایا کہ اب لبنان میں شامی اثرات کے دوبارہ بحال ہونے میں اگر کوئی چیز سب سے بڑی رکاوٹ ہو سکتی ہے تو وہ خود حسن نصراللہ ہی ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ کسی نے بھی اس اہم اجلاس میں یہ بات نہیں کہی کہ اسرائیل حسن نصراللہ کو منظر سے ہٹانا چاہتا ہے یا ہٹا دے گا لیکن یہ خیال کرنا مشکل ہے کہ کسی نے اس طرح سوچا ہی نہیں ہوگا۔
لیکن اب منظر ایک اور طرح کی نشاندہی کر رہا ہے جس میں تجزیہ کار یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے لبنان میں اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا ممکن رہے گا یا حسن نصراللہ کے بعد یہ اثرات کم ہو جائیں گے۔ تجزیہ کاروں کے لیے اس صورتحال میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ حسن نصراللہ کے بعد لبنان میں پیدا ہونے والے خلا کو بھرنے کے لیے بشار الاسد اپنے والد حافظ الاسد کی طرح لبنان میں ایک با اثر کردار کے حامل بن سکتے ہیں یا نہیں۔
اب جبکہ اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ اور اس کی قیادت کے خلاف اپنے وسیع تر مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے جنگ شروع کر رکھی ہے اور حسن نصراللہ کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے تو صاف لگتا ہے کہ وہ اپنے دیگر مقاصد کے لیے بھی آگے بڑھے گا۔ اسرائیل کے ان مقاصد میں حزب اللہ کی طاقت، ڈھانچے، تنظیم، مواصلاتی و اسلحی قوت کو ختم کرنا بدرجہ اولیٰ شامل ہے۔ یقیناً لبنان کے اندر اس کے بعد ایک خلا واضح طور پر نظر آنے لگے گا۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کی فوج لبنان میں زمینی مداخلت کاری اور نفوس کے لیے اعلان کر چکے ہیں اور کوشش جاری ہے۔ ان کے سامنے ظاہر مقصد اپنے شمالی اسرائیل کو محفوظ تر بنانا اور وہاں سے بےگھر ہونے والے 60 ہزار افراد کو واپس ان کے گھروں میں بسانا شامل ہے۔ لیکن وہ اس کو غزہ میں اپنی کامیابی کے ساتھ لازمی بھی سمجھتے ہیں۔
اسرائیل کو غزہ میں کامیابی کے ساتھ ساتھ اب لبنان اور آس پاس کی ریاستوں سے بھی مکمل تحفظ کے حوالے سے بےفکری جاری ہے۔ وہ اپنے بےگھر اسرائیلیوں کو غزہ کی پٹی کے شمالی حصۓ میں آباد کرنے کی ایک کوشش بھی کر رہے ہیں اور وہاں ایک خصوصی گوشہ یہودی بستیوں کے لیے محفوظ بنا دینا چاہتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ غزہ کے بعد لبنان میں بھی تنازعے کے بڑھنے کی رفتار زیادہ ہو گئی۔ جس کے بعد اب شمالی غزہ میں اس یکسوئی سے اسرائیل کے لیے کام کو جاری رکھنا مشکل ہو سکتا ہے جو مطلوب ہے۔
اسی جنگی تیزی کی وجہ سے لبنان میں بھی وسیع پیمانے پر اسرائیلی بمباری اور ہزاروں کی تعداد میں ہلاکتیں ہو چکی ہی جبکہ لاکھوں افراد نقل مکانی بھی کر چکے ہیں۔
اسرائیل اور لبنان کی تاریخ میں اس سے پہلے بھی اسی طرح کے مظاہر نظر آتے ہیں کہ جب کشیدگی پھیلتی ہے تو وہ پھیلتی ہی چلی جاتی ہے۔ جیسا کہ 1982 کی اسرائیل لبنان جنگ کے حوالے سے شروع شروع میں اسرائیل کے مقاصد میں بظاہر کوئی وسیع تر جنگ شامل نہیں تھی۔ لیکن بعدازاں یہ کشیدگی ایک مکمل حملے کے نتیجے میں جنگ کی صورت اختیار کر گئی۔ حتیٰ کہ یہ حملہ شامی سرحد تک پہنچ گیا۔
اسی جنگی محاصرے کے دنوں میں لبنان سے یاسر عرفات کی پی ایل او کے حامیوں کو لبنان چھوڑنے پر مجبور کیا گیا جو چپ چاپ تیونس چلے گئے اور لبنان خالی کر دیا۔
اسرائیل ایک بار پھر کچھ ایسا ہی منصوبہ اپنی خاموشی و مکمل ہوشیاری کے ساتھ بنانے کا سوچ سکتا ہے تاکہ لبنان مکمل طور پر ایسے عناصر سے پاک ہوجائے جو اسرائیل کو پسند نہیں ہیں۔ اس مقصد کے لیے اسرائیل کو امریکہ کی مالی، فوجی و انٹیلی جنس مدد کی اشد ضرورت رہے گی۔ جو بلاشبہ اس وقت بھی حاصل ہے۔
امریکہ میں اس وقت انتخابی صدارتی مہم عروج پر ہے۔ یہ وقت ان معنوں میں اسرائیلی وزیراعظم کے لیے ایک موقع بھی ہو سکتا ہے کہ اب سے جنوری تک امریکہ کے موجودہ صدر جو انتخابی امیدواریت کے حوالے سے پہلے ہی ایک دھچکے میں کمزور ہو چکے ہیں اب جنوری تک روایتی 'لنگڑی بطخ' کی اصطلاح کے مطابق ہی صدر ہیں۔ اس لیے وہ اسے اپنے لیے زیادہ سہولت کے ساتھ کارروائیوں کا موقع سمجھ سکتے ہیں جیسا کہ لبنان میں تیزی سے کارروائیاں شروع بھی کر چکے ہیں۔
اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کے لیے نیتن یاہو ہی ہاتھ پاؤں نہیں مار رہے۔ بلکہ بشار الاسد بھی اس کوشش میں ہو سکتے ہیں کہ وہ لبنان میں پیدا ہونے والے موقع کو ضائع نہ ہونے دیں۔ شامی رہنما لبنان کو اپنے عقبی آنگن کے طور پر لیتے ہیں۔ جو یقیناً شام کی سٹریٹجک گہرائی کو بہتر کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔
یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ بشار الاسد نے غزہ میں جنگ سے لے کر اب تک حماس کے حق میں کوئی پوزیشن نہیں لی ہے اور نہ ہی حماس کو کوئی مدد دینے کا تاثر ابھرنے دیا ہے۔ حتیٰ کہ بشار الاسد کے بیانات بھی بہت نپے تلے اور غزہ پر براہ راست بات کرنے پر گریز پر مبنی نظر آتے ہیں۔
جب دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ایرانی فوجی کمانڈر کی ہلاکت ہوئی تو بشار الاسد نے اس موقع پر بھی کوئی جنبش نہ کی۔ نہ کسی ایرانی کی ہلاکت پر نہ شام میں حزب اللہ کے اثاثوں کو اسرائیل کی طرف سے ٹارگٹ کیے جانے پر۔ بشارالاسد کا یہ انداز اس کے باوجود سامنے آیا کہ وہ ایران کا اتحادی ہے اور ایران و حزب اللہ نے بشارالاسد رجیم کو بچانے میں شامی خانہ جنگی کے دوران غیرمعمولی مدد کی تھی۔
اس سے قبل 2006 میں جب اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ ہوئی تھی تو شام کا معاملہ بالکل مختلف تھا۔ اس نے پوری سرگرمی کے ساتھ حزب اللہ کی حمایت و مدد کی تھی۔ اس کی یہ مدد ہر طرح سے اس وقت بروئے کار رہی مگر اب یہ صورتحال ہے کہ شام کی طرف سے حزب اللہ کے ساتھ ہمدردی کا بول بھی بولا جاتا ہے تو یہ حزب اللہ کی خوش قسمتی مانی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ حسن نصراللہ کی ہلاکت کے تین دن بعد حسن نصراللہ کے اہلخانہ کو تعزیتی پیغام بھیجا جا سکا۔ جس میں انہوں نے حسن نصراللہ کے بارے میں بس اتنا کہا کہ 'حسن نصراللہ شامی لوگوں کی یادوں میں موجود رہیں گے ۔۔۔'
حال ہی میں حزب اللہ نے بشارالاسد کو یہ یاد بھی دلایا تھا کہ حزب اللہ نے بشار الاسد کی پچھلی دہائی میں بہت کلیدی نوعیت کی مدد کی تھی۔ مگر اس کے باوجود بشارالاسد اور شام موجودہ حالات میں حزب اللہ کے حق میں سرگرم ہونے کی طرف مائل نہیں۔
حزب اللہ میں اسرائیلی انٹیلی جنس کا نفوذ اسرائیلی ایئرفورس کی بمباری اور حسن نصر اللہ کی ہلاکت تک پہنچ چکا ہے، حزب اللہ کے کئی لیڈر مارے جا چکے ہیں اور ہیڈکوارٹرز تباہی کو چھو چکا ہے۔ اس وقت حزب اللہ کا گروپ ایک تنے ہوئے رسے پر چل رہا ہے۔ اگر یہ کامیاب ہو گیا تو یقیناً وہ اپنے اس کردار کو اگلے سالوں میں جاری رکھے گا اور لبنان کی تعمیر نو میں حصہ لے گا۔ بصورت دیگر حزب اللہ کی کمزوری ایرانی کمزوری کا بھی باعث بنے گی اور لبنان میں ایک ایسا اخلا پیدا ہوگا جسے لامحالہ بشار الاسد کو پر کرنے کے لیے موقع بنانا پڑے گا۔
ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی اس وقت اہم ترین ترجیح یہ ہے کہ لبنان میں حزب اللہ کا انفراسٹکچر محفوظ رہ سکے۔ اگرچہ انہیں یہ جاننا ہوگا کہ بشارالاسد ایسا کچھ کرنے کو تیار نہیں ہیں جیسا ان کے والد حافظ الاسد نے 1976 میں کیا تھا جب شام کی فوج مضبوط اور طاقتور تھی۔
آج کا شام بہت مختلف ہے۔ یہ خود کمزور ہو چکا ہے۔ عملاً تین حصوں میں تقسیم ہے۔ مختلف گروہ اپنے اپنے علاقوں میں طوائف الملوکی کا نمونہ ہیں۔ معیشت برے حال میں ہے۔ جبکہ شام بیرونی طاقتوں کے لیے ایک کھیل کا میدان بن کر رہ گیا ہے۔ کبھی اس میں ترکیہ کردوں کے ساتھ لڑ رہا ہوتا ہے اور کہیں امریکہ اور جہادیوں کی لڑائی کا مرکز بنتا ہے۔
شام کا ماضی میں لبنان میں کردار بعض علاقائی اور بین الاقوامی معاہدوں کے نتیجے میں تھا۔ مگر آسج کا شام تنہائی کا شکار ہے ۔ پابندیوں کی زد میں ہے اور اپنی پرانی پوزیشن کو بحال کرنے سے بہت دور۔ پچھلے برسوں میں حزب اللہ کی حمایت بشارالاسد کے لیے خطے میں شامی تنہائی دور کرنے کے لیے ضروری تھی۔ اب کئی عرب ملک بشار الاسد سے کہہ رہے ہیں کہ وہ حزب اللہ اور ایران سے دور رہے اور پھر سے ایک بار اپنے آپ کو عرب دنیا کے ساتھ وابستہ کر لے۔ یقیناً ایسا ممکن ہونا بشار الاسد کے لیے کوئی ایسا انعام نہیں ہو سکتا کہ جو کچھ کیے بغیر مل جائے۔