سعودی عرب میں عرب اور اسلامی دنیا کی غیر معمولی سربراہ کانفرنس اس ہفتے کے شروع میں ہوئی۔ تو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اسرائیل کو اس کے ایران پر حالیہ حملے کے تناظر میں باور کرایا کہ ایرانی خودمختاری کا احترام اسرائیل کے لیے لازم ہے۔ یہ غیر معمولی پیغام مملکت کی طرف سے دیا گیا۔
اسی بارے میں سعودی وزارت خارجہ نے پچھلے ماہ کے اواخر میں اسرائیل کی طرف سے اسلامی جمہوریہ ایران کو حملوں کا نشانہ بنانے پر اسرائیل کی سخت مذمت کی تھی اور قرار دیا تھا کہ یہ ایران کی خودمختاری کے خلاف اور بین الاقوامی قوانین و اقدار کے منافی حملہ تھا۔
سعودی عرب خطے کی کشیدگی کو کم کرنے کی حکمت عملی کو لے کر چل رہا ہے اور چاہتا ہے کہ پرانے تنازعات اور مسائل کا حل ہو سکے، پڑوسی ملک باہم براہ راست مکالمہ کر سکیں۔ یہ مملکت کے اس ویژن کے تحت ہے جس کا مقصد علاقائی تحفظ اور سلامتی ہے۔ خصوصاً ایسے مشکل اور بحرانی وقت میں جب اسرائیلی فوج نے سکیورٹی سے متعلق ایشوز کو جاری رکھا ہوا ہے اور فلسطینیوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس تناظر میں اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اس کی جاری جنگ فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کے خلاف ہے۔ نیز یہ جنگ خطے کے امن سے بھی متصادم ہے۔
جہاں تک سعودی عرب کا تعلق ہے وہ مسلسل ریاستی اداروں کو ترقی دے رہا ہے اور ویژن 2030 کے مقاصد اور اہداف کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ اپنی آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنا رہا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری کو اپنی طرف راغب کر رہا ہے اور سیاحوں کے لیے اپنے ہاں مختلف شہروں اور مقامات کو مرغوب اور محبوب بنا رہا ہے۔
مملکت کی یہ بھی کوشش ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے حوالے سے قائدانہ کردار ادا کرے۔ تاکہ ماحولیات کا تحفظ ہو سکے۔ اور ایسے منصوبے شروع کیے جاسکیں جن کے ساتھ یہ خوف جڑا نہ ہو کہ خطے کی جنگ ان کے راستے میں کھڑی ہوجائے گی۔
ریاض کسی بھی صورت علاقے میں بےچینی نہیں دیکھنا چاہتا۔ کیونکہ بدامنی و بےچینی معیشت اور بجٹ کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ اس کے باوجود سعودی عرب چاہتا ہے کہ وہ اپنی معیشت کے اس چینل کو لوگوں کی تعلیم اور صحت ایسے مسائل پر خرچ کرے۔ جدت و ترقی کے امکانات بڑھائے۔ نئے اور جدید شہری منصوبوں کی تکمیل کرے۔
اس لیے جنگ کے اختتام کے لیے سعودی عرب کی کوشش ہے کہ وہ مفاہمت اور مصالحت کی کوششوں کی حمایت کرے جو مختلف فریقین کے درمیان جاری ہے۔ یہ کوششیں یمن میں ہوئیں جہاں جنوبی سرحد کی مضبوطی کے لیے کام کیا جا رہا اور حوثیوں سے بات چیت کی گئی۔ ان کوششوں میں افواج کی مضبوطی، سفارت کاری اور ریلیف کو حکمت عملی کے طور پر کیا گیا۔ تاکہ ان ممکنہ حملوں سے بچا جا سکے جن کی زد میں سعودی عرب کے آنے کا مکان ہے۔
مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کی بحالی پر کام کر رہا ہے۔ تاکہ 'آؤٹ آف دی باکس' حل نکالا جا سکے۔
ایران پر لگائی گئی امریکی پابندیوں نے ایرانی معیشت کو کمزور کیا ہے۔ تہران میں بحث و مباحثے جاری ہیں کہ عرب ملکوں کے ساتھ غیر مؤثر پالیسیوں کے امکانات کو سامنے رکھتے ہوئے تعلقات استوار کیے جائیں۔ ان ممالک میں خلیجی عرب ریاستیں اور سعودی عرب خاص طور پر شامل ہیں۔
'بیجنگ معاہدہ' سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں بنیاد کی حیثیت سمجھا جاتا ہے کہ تعلقات دن بہ دن بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔ ریاض چاہتا ہے کہ ان تعلقات کو سنجیدہ و مستحکم افہام و تفہیم پر استوار کیا جائے۔ تاکہ سکیورٹی اور سیاست سے متعلقہ ایشوز حل کیے جا سکیں۔ اس کے لیے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنا اور ہمسائیگی کا احترام ضروری ہیں۔ یقینی طور پر یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ ان سب پر اتفاق ہے اور ان پر کام وقت کی ضرورت ہے۔
سات اکتوبر 2023 کے بعد سے مشرق وسطیٰ میں جو تبدیلی نظر آئی ہے اس سے سیاسی حالات غیر متوقع طور پر پیچیدگیوں کا شکار ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ سعودی عرب اور ایران نے چیلنجوں کے باوجود تعلقات کو طریقے سے سنبھالا ہے اور خلیج عرب میں استحکام کو یقینی بنایا ہے۔
اس حفاظتی بنت کے بغیر خطے کی صورتحال مزید خرابی کی طرف جا سکتی تھی۔ دونوں ممالک انتہائی بااثر ہیں۔ ایران مزاحمت کے محور میں شامل ہے اور اسرائیل کے خلاف کئی محاذوں سے جنگ میں حصہ لے رہا ہے۔
سعوی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ریاض میں ہونے والے عرب اسلامی سربراہی اجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف سے ملاقات کی۔ 'ایس پی اے' کے مطابق دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ دوسری جانب ایرانی نیوز ایجنسی نے نائب صدر کے حوالے سے کہا کہ حالیہ مہینوں میں ترقی کے نئے راستوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ دو طرفہ تعلقات کی مضبوطی کے فوائد ایران اور سعودی عرب تک محدود نہیں رہیں گے۔
ڈیڑھ ماہ کے دوران یہ دوسرا موقع تھا کہ ولی عہد سے ایرانی حکام نے ملاقات کی۔ اس سے قبل نو اکتوبر کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ولی عہد سے ملاقات کی تھی۔
نائب صدر کے دورے سے پہلے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ خبر رساں ادارے 'ارنا' کا کہنا ہے کہ صدر پیزشکیان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو تمام شعبوں میں ترقی و وسعت دینے کی پہلے سے کہیں زیادہ امید رکھتے ہیں۔
ریاض میں 'فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو' کے موقع پر سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے امریکی صحافی بیکی اینڈرسن سے بات کرتے ہوئے کہا 'سعودی عرب اور ایران کے تعلقات صحیح سمت میں جا رہے ہیں۔ ان میں پیچیدگی کی وجہ علاقے کی صورتحال ہے۔ ایران کشیدگی کے خطرات کو سمجھتا ہے اور ان سے بچنا چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں مملکت کی ایران کے ساتھ واضح بات چیت ہوئی ہے۔
دونوں فریقین کے درمیان دو ٹوک اور واضح بات چیت سے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ بغیر کسی الجھن اور غیر ضروری جلد بازی کے یہ تعلقات بنائے جا رہے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ دونوں بااثر مملکتیں مشرق وسطیٰ میں اہم تبدیلیوں کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی تیز کریں۔