روز ویلٹ سے ٹرمپ تک، ریاض امریکہ سے کیا چاہتا ہے؟

 زيد بن كمی
زيد بن كمی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

یہ سوال جس قدر اہم ہے اسی قدر سادہ بھی۔ نہ صرف یہ بلکہ اس کی ایک طویل تاریخ ہے جو 80 برسوں پر محیط ہے۔ یوں اس سوال کے معانی میں قطعاً کوئی نیا پن نہیں ہے۔ صرف یہ کے تاریخ کے ساتھ ساتھ سفر کرتے ہوئے نئے حالات کے سانچے میں الفاظ اور محاورے کے کسی نئے پیرائے میں ڈھل گیا ہے۔ مگر سوچ، خواہش اور ترجیح کا تسلسل ہے کہ اس میں سر مو فرق نہیں۔

یہ سوال ایک بیانیے کی صورت میں سب سے پہلے فروری 1945 میں سامنے آیا جب جنگ عظیم دوم کے بعد دنیا بھر سے سانس لینے کی آرزو مندی کے ساتھ موجود تھی۔ سیاسی اعتبار سے دنیا کا ایک نیا نقشہ ترتیب پا رہا تھا۔ ان دنوں میں وہ لمحہ خاص اہمیت کا حامل تھا جب امریکہ بحری بیڑہ نہر سویز سے گزر رہا تھا اور اس میں امریکہ کے صدر روز ویلٹ اور سعودی عرب کے فرمانروا کی اہم ملاقات ہو رہی تھی۔

یہ ملاقات صرف اہم نہ تھی بلکہ تاریخی بھی تھی۔ روز ویلٹ اپنی صحت کی خرابی کے باوجود سعودی فرمانروا شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمان سے ملاقات کر رہے تھے کہ تیل کی وجہ سے اس 'زرخیز' خطے میں سعودی عرب اور اس کے سربراہ امریکہ کے لیے اہم تر تھے۔ یاد رہے روز ویلٹ کی صحت اس قدر خراب ہو چکی تھی کہ نہر سویز کے پانیوں پر کھڑے امریکی بحری بیڑے میں اس ملاقات کے دو ماہ بعد ہی امریکہ میں انتقال کر گئے تھے۔

لیکن اس کے باوجود روز ویلٹ سعودی فرمانروا کے ساتھ ملاقات کے لیے علاقے میں آئے اور رکے۔ شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمان آل سعود کے دور میں ہونے والی اس ملاقات نے ریاض اور واشنگٹن کے درمیان پائیدار تعلقات کو گویا مضبوط بنیاد فراہم کر دی۔

اس مشہور ملاقات کا تفصیلی ذکر ملاقات کے موقع پر امریکی بحری جہاز میں موجود کرنل ولیم ایڈی نے اپنی کتاب "Franklin Roosevelt Meets Ibn Saud" میں خوب منظر باندھا ہے۔ کرنل ولیم لکھتے ہیں 'شاہ عبدالعزیز آل سعود نے معاشی یا اقصادی امداد امریکہ سے لینے کی کوئی بات نہ کی تھی۔ کہ سعودی عرب کو یہ چاہیے یا وہ چاہیے۔ وہ نہر سویز میں ہونے والی اس ملاقات کے لئے سفر کر کے صرف اس لیے آئے تھے کہ وہ کہہ سکیں کہ امریکہ سے دوستی اور اتحاد کے خواہاں ہیں نہ کہ وسائل اور رقم کے۔'

صدر روز ویلٹ کی کی گئی گفتگو کے جواب میں سعودی سربراہ نے کہا 'صرف دوستی چاہیے۔'

واقعہ یہ ہے کہ یہ صرف محاورتاً دوستی کی بات نہیں کر رہے تھے۔ یہ ایک واضح اعلان تھا کہ سعودی عرب کو امریکہ سے صرف ایسے تعلقات کی خواہش ہے جو احترام اور دوطرفہ مفادات میں غلبے اور ماتحتی کا عنصر نہ رکھتا ہو۔ گویا دوست کی ضرور ہے آقا کی نہیں۔

سعودی عرب نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کے لیے اسی سوچ کو ہمیشہ پیش نظر رکھا ہے۔ اس ابتدائی اور اعلیٰ ترین سطح کی ملاقات کے 70 سال بعد 2015 میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر اوباما سے ملاقات ہوئی تو اسی سوچ کے سفر کو شاہ سلمان کی طرف سے آگے بڑھایا گیا۔ یہ ملاقات ایران کے ساتھ امریکہ و دیگر کی جوہری معاملے پر کیے گئے معاہدے کے کچھ ہی ماہ بعد ہوئی تھی۔

مگر منظر ایک بار پھر ستر سال پرانے منظر کی طرح کا تھا۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز دوستی اور احترام کے انہی بنیادی اصولوں کے مؤقف پر کھڑے تھے۔ انہوں نے اپنی گفتگو بھی انہی الفاظ سے شروع کی 'آپ کے ساتھ ہونے والی میری ملاقات ایک دوست کی ایک دوست کے ساتھ ملاقات ہے۔' ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے باہمی تعلقات دنیا کے فائدے میں ہونے چاہییں۔ میں اپنی مملکت کی طرف سے اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ہمیں اس کے علاوہ آپ سے کچھ نہیں چاہیے۔ تاہم جو ہماری ضرورت ہے وہ خطے کے لوگوں کے لیے استحکام ہے۔ امن اور استحکام کی ہمارے لیے بہت اہمیت ہے۔'

اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ریاض کا دورہ قریب ہے۔ یقیناً ماہ مئی کے وسط میں سعودی عرب پہنچیں گے۔ ان کا یہ دورہ محض ایک دورہ نہیں بلکہ ان کی دوسری مدت صدارت کا پہلا دورہ ہے۔ اپنے پچھلے دور صدارت میں بھی انہوں نے سعودی عرب کا ہی پہلا دورہ کیا تھا۔ دنیا بھر کے ملکوں میں پہلے دورے کے لیے تب بھی سعودی عرب ہی ان کا انتخاب ٹھہرا تھا۔

بلاشبہ اس سے سعودی عرب کی 'جیو پولیٹیکل' حیثیت وزن اور اہمیت کا اظہار ہوتا ہے کہ علاقائی سطح پر توازن کے لیے مملکت کی معیشت اور سلامتی کی خاص اہمیت ہے۔

لیکن ٹرمپ کا یہ دورہ اپنے پیشرو صدر سے ظاہری مماثلت کے باوجود ایک مختلف تناظر میں ہونے جا رہا ہے۔ اس لیے اس کے اثرات اور مضمرات بھی اسی تناظر میں توقع کیے جا سکتے ہیں۔

آج کے حالات میں واشنگٹن بھی بدل گیا ہے اور سعودی عرب بھی اب ایک متنوع ویژن کے ساتھ۔ مگر اس کے باوجود ریاض اپنے بنیادی سیاسی اصولوں پر اسی طرح قائم رہتے ہوئے افراتفری و انتشار کی سیاست پر نہیں بلکہ مسائل کے سیاسی حل پر یقین رکھتا ہے۔

19 مئی 2017 کو لی گئی تصویر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے سے قبل سعودی عرب کے شہر ریاض میں ایک سڑک پر امریکی اور سعودی پرچم (فائل فوٹو: اے ایف پی)
19 مئی 2017 کو لی گئی تصویر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے سے قبل سعودی عرب کے شہر ریاض میں ایک سڑک پر امریکی اور سعودی پرچم (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اس کی وجہ واضح ہے کہ سلامتی خوشحالی کی شرط ہے، مملکت کے نزدیک خطے کا استحکام نہ صرف اس کی خدمت کرتا ہے بلکہ تعلیم، صحت اور بہبود و ترقی کے خواب دیکھنے والے لوگوں کی بھی خدمت کے لیے یکسوئی سے کام کرنا بھی اہم تر ہے۔

جب شاہ عبدالعزیز نے کہا کہ ہمیں دوستی کے سوا کچھ نہیں چاہیے'تو اس کا صاف مطلب تھا سعودی عرب امریکہ سے سرپرستی نہیں بلکہ شراکت داری کا خواہاں تھا۔ آج سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی ویژن 2030 کے آغاز کے نو سال بعد، سعودی عرب میں معاشی اور سماجی تبدیلیاں اور ترقی کی غیر معمولی رفتار ایک زندہ حقیقت کے طور پر سامنے ہے۔ سعودی عرب کا تجارتی حجم اور توازن بھی بدل جانے کے اعداد و شمار بھی سب دیکھ رہے ہیں۔

یہ ایک ایسا خواب تھا جس کی تعبیر کا انتظار تھا۔ سعودی عرب جس نے دنیا کے لیے اپنے دروازے کھول رکھے ہیں، وہ ایسے معاشی تعلقات نہیں چاہتا جو اسے ایک ماتحت کے درجے پر رکھیں۔ بلکہ سعودی عرب برابری اور احترام پر مبنی سٹریٹجک انضمام کا خواہشمند ہے۔

1945 کی شاہ عبدالعزیز اور روز ویلٹ کی ملاقات کے بعد ریاض نے ایک ہی لہجہ برقرار رکھا ہے کہ سعودی عرب حمایت کا خواہاں نہیں ہے، بلکہ استحکام چاہتا ہے۔ ماضی کی طرح آج بھی سعودی عرب اپنے پیغامات میں واضح ہے۔ ہم ایسی شراکت چاہتے ہیں جو ایک ایسی ریاست کے لیے موزوں ہو جو بدل رہی ہو اور آگے بڑھ رہی ہو۔ ریاض واشنگٹن سے جو کچھ چاہتا ہے وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے جو شاہ عبدالعزیز نے 80 سال پہلے کہا تھا لیکن اب ایک نئی شکل میں جو وقت کے مطابق ہے 'احترام، شراکت داری، سلامتی، استحکام اور خوشحالی۔'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size