بھارت نے پاکستان کے مختلف شہروں کے اندر گھروں، مسجدوں اور مدرسوں پر میزائل حملے کر کے جس آپریشن کو 'سندور' کا نام دیا تھا وہ درحقیقت 'آپریشن Sin door' تھا۔ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ سازشی و تخریبی کردار کی وجہ سے بھارت کے لیے یہ کہنا ہرگز مشکل نہیں لگتا کہ بھارت نہ صرف اپنے پڑوسیوں پر 'پاپ' کے یہ دروازے کھولتا آیا ہے۔ بلکہ تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو بھارت بجائے خود اپنے پڑوسیوں پاکستان، بنگلہ دیش، چین، سری لنکا، نیپال اور بھوٹان کے لیے ایک 'پاپ کا دروازہ' بلکہ 'Sin door' بن چکا ہے۔
اس کے لیے پاکستان پر تازہ بھارتی حملے کو ہی دیکھ لینا کافی ہے۔ جبکہ بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال کے خلاف بھارتی ریشہ دوانیاں اس کے علاوہ ہیں۔ اپنے پڑوسیوں کے خلاف کی سوچ اور عمل کیا رہا ہے۔ اس بارے چین کے خلاف 1962 کی بھارتی جنگ کے بارے میں سابق بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے نومبر 1962 میں راجیہ سبھا سے کیے گئے خطاب کا نچوڑ ان کا اس بھارتی جنگ کو' پاپ ' قرار دینا تھا، جی ہاں 'sin' ہی کا نام دیا تھا۔ یقیناً آنجہانی اٹل بہاری واجپائی سے زیادہ بھارت کی رگ رگ سے کون واقف ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہوگا۔ اس لیے ان کی طرف سے بھارتی جنگ 1962 میں اگر 'پاپ' قرار دی جا سکتی ہے تو آج تو اس نریندر مودی کی بھارت میں سرکار ہے جس کے خلاف کئی سال تک امریکہ میں ناپسندیدگی کا باضابطہ اور سرکاری سطح پر اظہار موجود رہا۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو سچی بات ہے بھارت کی طرف سے سات مئی کو رات کے اندھیرے میں پاکستان پر سستی سیاست کے لیے کیے گئے 'آپریشن سندور' کو 'پاپ کا دروازہ' کہنے کا موقع جہاں پاکستانی شریوں پر کیے گئے میزائل حملے بنے ہیں۔ وہیں پاکستان کی بین الاقوامی سرحد سے لے کر 'لائن آف کنٹرول' تک 60 سے 72 طیاروں کو فرانسیسی ساختہ اور اپنے فخر و غرور کے مظہر 'رافیل طیارے' کے زیر قیادت فضاؤں میں پاکستان کے لیے تباہی کا دروازہ کھولنے کا خواب بنا۔ لیکن اتفاق سے اس 'پاپی دروازہ' کے دونوں پٹ خود بھارت پر ہی جا گرے اور بھارتی خواب خود بھارت کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہو گیا۔
اٹل بہاری واجپائی نے جب چین کے خلاف بھارتی جنگ کو 'sin' یعنی پاپ قرار دیا تو انہوں نے دیگر دلائل کے علاوہ یہ استدلال بھی اختیار کیا تھا کہ بھارتی سرکار بھی اپنے عوامی نمائندوں، اپنے ملک کے منتخب ایوانوں اور عوام کو جنگ کی صورتحال اور کامیابیوں یا ناکامیوں بارے اعتماد میں لینے کو تیار نہیں تھی۔ کیونکہ بھارتی سرکاراپنے دل میں چھپے چور کو سامنے نہیں لانا چاہتی تھی۔ صورتحال آج مودی سرکار کی بھی ماضی سے ہرگز مختلف نہیں ہے۔
اس امر کا ادراک اور بھارتی سرکار کے گناہ کا اندازہ اٹل بہاری واجپائی کو ایک کٹر ہندو ہونے کے باوجود خوب تھا۔ بطور مسلمان ہمارا تو نبی آخر الزمان ﷺ کے ایک ایک فرمان پر کامل بھروسہ ہے۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو فرمایا وہ رہتی دنیا تک اٹل ہے۔ پیارے نبی گناہ، پاپ اور برائی کے بارے میں فرماتے ہیں جو چیز دلوں میں خلش پیدا کرنے والی ہو، کھٹکا پیدا کرے اور اس کے بارے میں یہ خوف پیدا ہو جائے کہ لوگوں کو علم نہ ہو جائے تو یہی گناہ اور برائی ہوتی ہے۔ بھارت سرکار 1962 کی طرح آج بھی اسی خوف کا شکار ہے کہ 7 مئی سے 10 مئی 2025 تک پاکستان کے خلاف ہونے والی جنگ کے اصل حقائق دنیا تو کیا اپنے عوام کے بھی سامنے نہ آجائیں۔ گویا پاکستان نے تو اپنے زبرداست دفاعی اور جوابی اقدام کے ساتھ صرف چار گھنٹوں میں 'ایک گلوبل گیم چینجر' بنا دیا ہے۔ مگر 63 سال گزرنے کے بعد بھی بھارت کی سرکاریں اسی 'پاپ' میں گھری ہوئی ہیں۔
1962 میں اس وقت کی بھارتی سرکار سے آنجہانی واجپائی کو شکایت تھی کہ عوام کو اصل حقائق سے نابلد رکھا جا رہا ہے آج راہول گاندھی یہ کہہ رہے ہیں کہ مودی سرکار عوام سے حقائق چھپا رہی ہے۔ اس لیے ہم بھی کہہ سکتے ہیں بھارتی سرکاروں کے دل کا چور آج بھی چوری سے نہیں گیا۔
اس کے مقابلے میں پاکستان کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بھارتی جنگ بلا تاخیر زیر بحث آ چکی ہے۔ جبکہ بھارت نے اپنی پارلیمنٹ کو اس 'آپریشنSin door ' سے پہلے اعتماد میں لیا نہ بعد میں۔ گویا یہ سب سے بڑی جمہوریت ہونے سے زیادہ عملاً ایک شخصی اور 'آر ایس ایس' کی محدود سوچ کی حامل حکومت بن کر رہ گئی ہے۔
بھارتی ایئر فورس کے کتنے طیارے تباہ ہوئے، کتنے ایئر بیسز، کتنے اسلحہ ڈپو اور مراکز پاک فضائیہ کا نشانہ بن کر آتش و آہن و بارود کا حوالہ بنے۔ حد یہ ہے کہ بھارت کی مودی سرکار کے لیے والہانہ پن رکھنے والے گودی میڈیا کو بھی سچ کی ہوا نہیں لگنے دی۔
جنگ بندی کرانے کے حوالے سے امریکی صدر چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے جنگ بندی کرائی ہے۔ اب تک صدر ٹرمپ کم از کم 12 مرتبہ یہ بتا چکے ہیں۔ لیکن لمبی لمبی تقریریں کرنے کے عادی نریندر مودی اب تک اس بارے میں لب کشائی سے گریزاں ہیں کہ آخر اپنے عوام اور بین الاقوامی برادری کو کیسے بتائیں کہ پاک فضائیہ نے چار دنوں میں بھارتی افواج کا کس طرح بھرکس نکال دیا۔
اس خوف میں لپٹی بھارتی احتیاط کی وجہ سوائے اس کے کیا ہو سکتی ہے کہ بھارت کے اندر کا Guilt اس کے آڑے ہے اور بھارت کی مودی سرکار اور گودی ٹی وی و اخبار سب کو حقائق کے حوالے سے گنگ لگی ہوئی ہے۔
اگر بھارت کے سندور آپریشن کے دعوے کو درست ماننے پر خود کو آمادہ بھی کیا جائے تو یہ سوال دامن گیر ہو جاتا ہے اگر یہ سندور کے نام پر تھا تو بھارتی محلاؤں کے سہاگ کا اس بے رحمی سے سیاسی استعمال کیوں کیا گیا۔ خواتین کے احترام کا کلچر بھارت میں کیا ہے بین الاقوامی رپورٹس میں اکثر چرچا رہتا ہے۔ مودی سرکار نے تو ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی رافیل طیارے کی خاتون پائلٹ شیوانگی سنگھ کے بارے میں ایک جملہ نہیں بولا ہے۔ پہلگام کی متاثرہ خواتین کے سر پر ہاتھ نہیں رکھا البتہ مودی صاحب جو اپنے گھر میں سندور کے استعمال کو اپنی مذہب پرستی کے خلاف سمجھتے ہیں پورے بھارت کی ہندو عورتوں کو سندور لگانے کے آرزو مند ہیں۔ عجب تماشہ ہے۔
یہ اقدام اور روش بھی 'آپریشن Sin door' ہی کا مظہر ہے کہ اس کے بعد گناہ پر گناہ اور پاپ پر پاپ کے انداز میں جھوٹ ہی جھوٹ چلانے کی کوشش کی گئی۔ تآآنکہ فرانس اور فرانسیسی رافیل بنانے والی کمپنی کے بارے میں بھی شکوک و شبہات کو بھارت اور اس کی ایئر فورس کے ساتھ ساتھ مودی سرکار کے گودی میڈیا نے بڑھاوا دینے کی کوشش کی ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ اسرائیل کے پاؤں پر پاؤں رکھتے ہوئے مسلمان ملکوں کو کمزور سمجھ کر چڑھ دوڑنے کی بھارتی کوشش کو ہر ذی شعور شخص پاپ ہی قرار دے گا۔ لیکن بھارت نے اپنی فوج کے ذریعے پاکستان کی خواتین اور بچوں کو گھروں میں رات کے وقت بم مار شہید کرنے کا ایک نیا پاپی دروازہ کھولنے کی کوشش کی تاکہ اسرائیل اکیلے کے خلاف دنیا میں ہونے والی لعن طعن میں اس کا لعن طعن شریک بھائی بن جائے۔ اس میں بہر حال بھارت کامیاب رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں بالعموم اور مسلم دنیا میں بالخصوص بھارت کے اس پاپ نے بھارت کا اصل چہرہ پیش کر کے اس کی مقبولیت اور اس بارے میں جذبات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان اور اس کی مسلح افواج ہی نہیں پاکستان اور چین کے باہمی اشتراک سے تیار کردہ جنگی اسلحے اور طیاروں کے علاوہ چینی ساختہ طیاروں کی پذیرائی میں عالمی سطح پرغیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
ہر سطح پر اور ہر جگہ پر پاکستان اور اس کی مسلح افواج کو بھارت کے مقابلے میں مثبت ریسپانس ملا ہے۔ جبکہ بھارت اور اس کی افواج اسرائیل اور اس کی افواج کے ساتھ شناخت ہونے لگی ہیں۔ گویا I D F اسرائیل کی ہو یا بھارت کی I A F دونوں ایک ہیں اور دونوں گھروں، مسجدوں، مدرسوں اور شہروں پر جنگیں مسلط کرنے کی عادی مجرم ہیں۔ دونوں اسرائیل اور بھارت مسلمانوں کے خون بہانے میں خون شریک بھائی بننے کے آرزو مند ہیں۔ لیکن پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کا 'آپریشن پاپی دروازہ' توڑا ہے۔ وقت آیا تو پورے پاپ گھروندے کا بھی یہی حال ہو گا۔