ترکیہ سعودی تعلقات پیش رفت، امکانات اور چیلنج
ترکیہ کی آزادی کے لیے جنگ مصطفیٰ کمال اتا ترک کے زیر قیادت پہلی عالمی جنگ کے بعد لڑی گئی۔ اس بے مثال فتح پر اختتام پذیر ہونے والی جنگ کے نتیجے میں جمہوریہ ترکیہ اور جدید دور کے ترکیہ نے جنم لیا۔ اسی جہدوجہد آزادی کے نتیجے میں ملنے والی آزادی کی آج 102 سالہ سالگرہ منائی جا رہی ہے۔
ترک جمہوریہ نے ایک بھرپور تاریخ اور ثقافت سے حاصل شدہ قوت کی بنیاد پر اپنے اختیار کردہ اس نعرے سے 'وطن میں امن اور بیرون وطن امن' ایک مستحکم جمہوری اور خوشحال ترکیہ کی طرف قدم اٹھائے۔ نیز علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر امن و استحکام کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔
جن حالات سے ہم آج گزر رہے ہیں ہماری قوم کو بڑی علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کے درمیان ابھر کر ترقی، جدت اور تزویراتی سفارتکاری میں آگے آنا ہے۔ جسے ہم ترکیہ کی صدی کے حوالے سے یاد کرتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی ہم ان چیلنجوں سے بھی خوب آگاہ ہیں جو موجودہ حالات میں ہمارے خطے کو درپیش ہیں۔ خطے میں امن و سلامتی کو کمزور کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے اصولوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ جنگوں کے درمیان شہریوں کے تحفظ کی بھی پروا نہیں کی گئی اور اندھی طاقت کا استعمال کیا گیا ہے۔
یہ رجحانات بعض 'کھلاڑیوں' کی وجہ سے بلا امتیاز بڑھ رہے ہیں۔ لہذا ان درپیش حالات کا تقاضا ہے کہ ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان تعاون کو بڑھایا جائے۔ کیونکہ دونوں خطے کے کلیدی کھلاڑی ہیں۔ جن کے درمیان امن، سلامتی اور بین الاقوامی قانون کے لیے گہری کمٹمنٹ کے حوالے سے اشتراک پایا جاتا ہے۔
ہم دونوں ملک مختلف علاقائی ایشوز کے حوالے سے ملتی جلتی سوچ رکھتے ہیں۔ جس کے لیے تنازعہ فلسطین کی مثال دی جا سکتی ہے کہ دونوں ملک دو ریاستی حل چاہتے ہیں۔ دونوں ملک شام کی تعمیر نو چاہتے ہیں اور دونوں ہی بحیرہ احمر میں 'میری ٹائم سکیورٹی' کے خواہاں ہیں۔
نیز سوڈان کے متحارب فریقوں کے درمیان مذاکرات اور جنگ بندی کے لیے کوشاں ہیں۔ اس لیے ہم ایک دوسرے کی خودمختاری کے لیے باہمی احترام کا جذبہ رکھتے ہیں۔ اچھے ہمسایوں کے سے احساسات کے حامل ہیں تاکہ مکالمے اور سفارتکاری کو فروغ دیا جا سکے کہ مکالمے اور سفارتکاری کے ذریعے ہی مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ہم دونوں قومیں یہ سمجھتی ہیں کہ تنازعہ فلسطین کا واحد پائیدار حل دو ریاستوں کا قیام ہے۔ دونوں ملک چاہتے ہیں کہ وہ مسلم دنیا کو درپیش جارحیت سے نمٹ سکیں بطور خاص جس جارحیت کا مشرق وسطیٰ میں آج سامنا ہے۔
سفارتی کوششوں اور رابطوں کی سطح پر حالیہ مہینوں میں ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ایک متوازن عمل کاری نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے۔ یہ سفارتی ارتباط عرب لیگ اور 'او آئی سی' دونوں کے سربراہی اجلاس منعقدہ دوحہ میں بطور خاص قابل ذکر ہے۔ جو مکالمے اور مشاورت کا ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوا۔ دوحہ سربراہ کانفرنس میں ترکیہ کے صدر طیب ایردوآن کی سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات ہوئی اور دو طرفہ تعلقات کے علاوہ علاقائی امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترکیہ نے اس غیر معمولی بین الاقوامی کانفرنس میں بھی سرگرمی سے حصہ لیا جس کا اہتمام سعودی عرب اور فرانس نے جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے موقع پر دو ریاستی حل کی کوششوں کے لیے کیا تھا۔ اسی طرح دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے عالمی اتحاد کے فورم کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتوں اور مشاورت کا سلسلہ بھی جاری رہا ہے۔
وزیر خارجہ جناب حاقان فیدان اور جناب شہزادہ فیصل بن فرحان وزیر خارجہ سعودی عرب باہم ملتے رہے اور اس رابطے کو مؤثر بنانے کے لیے کوشاں رہے۔ یہ ملاقاتیں میونخ میں بین الاقوامی سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر بھی ہوئیں۔ دو طرفہ تعاون سفارتی مکالمے سے بھی بڑھ کر فروغ پایا ہے۔
ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان معاشی تعلقات بھی بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان پچھلے سال تجارت کا حجم آٹھ ارب ڈالر تھا جو کہ حالیہ تاریخ میں غیر معمولی طور پر زیادہ تھا۔ اب رواں سال اس تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے اور بالآخر یہ ہدف آگے بڑھتے ہوئے 15 ارب ڈالر کی دو طرفہ تجارت تک پہنچے گا۔ جو دونوں اطراف سے مختلف طرح کے شعبوں میں تعاون و تجارت کے فروغ کا مظہر ہو گا۔
ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان دو طرفہ عوامی رابطوں کو بھی غیر معمولی تقویت ملی ہے۔ ہزاروں ترک عوام کے ادائیگی حج و عمرہ کے لیے سعودی عرب جانے کے علاوہ دو طرفہ سیاحت کو بھی غیر معمولی فروغ حاصل ہوا ہے۔ پچھلے سال کے دوران 869000 سعودی شہریوں نے ترکیہ کو سیاحت کے لیے منتخب کیا۔ رواں سال سعودی سیاحوں کی یہ تعداد 10 لاکھ تک جا سکتی ہے۔
دریں اثناء فوجی و دفاعی شعبے میں بھی تعاون روز افزوں ہے۔ دفاعی صنعت دونوں ملکوں کو قریب لا رہی ہے اور یہ شعبہ دو طرفہ تعلقات کو ترقی دینے کے ساتھ ساتھ علاقائی سطح پر درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کلیدی کردار کا حامل ہوگیا ہے۔ ترکیہ اور سعودی عرب کی مسلح افواج نے مشترکہ فوجی مشقوں کا بھی اہتمام کیا ہے اور دونوں طرف کے فوجی حکام بھی باہمی رابطوں میں رہے ہیں۔ مزید یہ کہ اس چیز کا بھی احساس موجود ہے کہ دو طرفہ بنیادوں پر افواج کے مؤثر تربیتی روابط کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔
علاوہ ازیں دونوں ملکوں کی زبانوں کے میدان میں تربیت و تعلیم کے لیے بھی ہدایات آگے بڑھانے کی ہیں۔ دفاعی صنعت کے میلوں میں اعلیٰ سطح کی دو طرفہ ملاقاتیں بھی اس امر کی تصدیق کرتی ہیں کہ فوجی تعاون کا دائرہ ہر طرح سے پھیل رہا ہے۔ دفاعی صنعت سے متعلق کمپنیاں کئی ممکنہ منصوبوں کو پیش کر رہی ہیں جن کے نتیجے میں ہمارے سعودی بھائیوں کے ساتھ شراکت داری کا سلسلہ مزید آگے بڑھ سکتا ہے۔
آنے والے دنوں میں ہمیں گہرا یقین ہے کہ دو طرفہ تعاون مضبوط ہوگا اور مشترکہ مقاصد کی خاطر ہم مل کر آگے بڑھیں گے۔
ترکیہ سعودی عرب کو صرف ایک شراکت دار ملک کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ ایک برادر مسلم ملک کے طور پر دیکھتا ہے جو مشترکہ اقدار کے حامل ہیں اور امن و سلامتی کے لیے بھی دو طرفہ کمٹمنٹ رکھنے والے ملک ہیں۔ ہم دونوں ملک مشرق وسطیٰ میں استحکام، خوشحالی اور مکالمے کی فضا پیدا کرنے کی خاطر قابل قدر تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ترکیہ نے جیسا کہ اپنی آزادی کی دوسری صدی کا آغاز کیا ہے۔ اس صدی کے دوران سعودی عرب کے ساتھ شراکت داری کا یہ سلسلہ ایک محفوظ اور خوشحال علاقائی بندوبست کو مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔