رمضان المبارک اور بین الاقوامی مکالمے کا مستقبل

ڈاکٹر ماجد رفیع زادہ
ڈاکٹر ماجد رفیع زادہ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 11 منٹ

رمضان المبارک دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے انتہائی روحانی بالیدگی و بلندی کا ایک روح پرور مہینہ ہے۔ مسلمان اس بابرکت مہینے کے دوران طلوع آفتاب کے قبل سے لے کر غروب آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں۔ ان کے ہاں عبادات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ خیرات کا بطور خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ اللہ اور اس کے بندوں کے ساتھ تعلق کو گہرا اور مضبوط تر کرنے کی کوششیں نظر آتی ہیں۔ یہ تعلق اللہ کے ساتھ بندگی اور اس کے بندوں کے خیر خواہی، ہمدردی اور بھائی چارے کا ہوتا ہے۔ صرف یہی نہیں کہ رمضان رسوم اور عبادات کا مہینہ ہے بلکہ آفاقی اقدار کا ایک مظہر بھی ہے۔ اس میں انسانوں اور انسانیت کے ساتھ ہمدردی کے جذبات ہر طرف موجزن نظر آتے ہیں۔ ہر بے وسیلہ کے لیے ہمدردی و دلگیری و احساس مندی کا محل بن جاتا ہے۔

انسان خود کو ایک خاص نظم میں لاتا ہے، دوسروں کو معاف کرنے کے لیے آمادہ رہتا ہے اور اپنے لیے اللہ سے معافی کا طلب گار بنتا ہے۔ یہ اخلاقی مقاصد اور رویوں کی تجدید کے علاوہ سخاوت کا بھی ایک بہترین موقع بن جاتا ہے۔

اس لیے رمضان المبارک محض انفرادی رو حانی سفر نہیں ہوتا بلکہ سماج کے لیے تقویت و اتحاد اور یکجہتی کا ذریعہ ہوتا ہے۔ یہ ہمدردی اور اجتماعی ذمہ داری کو تقویت دینے کا حوالہ بھی ہوتا ہے۔ وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو رمضان المبارک بین الثقافت اور بین المذاہب پل کا کام کرتا ہے۔ خصوصآ جب کشیدگی اور تصادم کا ماحول ہو تو یہ بہتری لانے کے لیے طاقتور مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہ رحم، تحمل اور صبر کے علاوہ معاف کر دینے کا ایک استعارہ بھی ہے۔ کیونکہ رمضان میں ہر کوئی بردباری، صبر اور ہمدردی و معافی کے تصورات کے ساتھ عملآ جڑا ہوا ملتا ہے۔ کہ روزے کی روح میں یہ چیزیں شامل ہیں۔

گویا رمضان باہم قریب ہونے اور مکالمے کا ایسا عمل ہے جو زخموں کو مندمل کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ مہینہ انسانیت اور ایمان کے حوالے سے یاد دہانیوں کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہ یاد دلاتا ہے کہ ایمان جب عاجزی اور ہمدردی کے توسط سے بروئے کار ہوتا ہے تو یہ متحد کرنے کی ایک قوت بن جاتا ہے۔

سعودی عرب کا بین المذاہب تعلقات میں کردار

سعودی عرب بین المذاہب تعلقات کو فروغ دینے میں کردار ادا کرنے والے نمایاں ملکوں میں شامل ہے۔ اسلام کے ظہور کا مرکز ہے اور حرمین شریفین کی جگہ ہے۔ سعودی عرب نے اپنی اس حیثیت سے بین الاقوامی روابط و تعاون اور جدیدیت، بین المذاہب مکالمے اور بین الثقافتی تعلقات کے فروغ کو اہمیت دینے کا راستہ اختیار کیا ہے۔

اس سلسلے میں اپنی کوششوں کو وسعت دی ہے کیونکہ سعودی عرب کا ویژن یہ ہے کہ مذہبی اثر و رسوخ سفارتی رابطوں کا موثر وسیلہ بن سکتا ہے۔

اس ویژن کے تحت منتوع خیالات اور روایات کے حامل رہنماؤں کو بقائے باہمی، رواداری اور امن کاری کے مقاصد کے لیے اکٹھا کرنے کی حکمت عملی پر کام کو اپنی ترجیح بنا رکھا ہے۔

سفارت کاری کا یہ عمل مختلف اداروں، کانفرنسوں اور عالمی فورمز کے ذریعے سعودی عرب نے اس طرح بروئے کار لانے کا اہتمام کیا ہے کہ عقیدہ اور مذہب تقسیم اتحاد کا ذریعہ بن جائے۔ اس مقصد کے لیے سعودی عرب نے مذہبی دانشوروں، مسلمانوں کے نمائندہ علما، مسیحیوں، یہودیوں اور دیگر طبقات کو اکٹھا کرکے انتہا پسندی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے متوجہ کیا ہے۔ تاکہ بقائے باہمی کے ساتھ ساتھ باہمی احترام کا امکان ہو اور مذہبی آزادی کا ماحول ممکن رہ سکے۔

یہ 'انیشیٹوز' یہ اشارہ دیتے ہیں کہ مملکت یہ ادراک رکھتی ہے کہ جدید دنیا میں استحکام کے لیے صرف سیاسی و معاشی تعاون ضروری نہیں ہے بلکہ اس کے لیے ثقافتی و روحانی عوامل بھی انتہائی اہم ہیں۔ لوگوں کو روحانی اور ثقافتی اعتبار سے بھی باہم قریب لانا ہوگا۔

اس مقصد کے لیے سعودی عرب نے خود کو ایک مرکزی کردار اور قائدانہ انداز میں پیش کیا ہے تاکہ جدت پسندی اور اشتراک ہدف و عمل کے بیانیے کو آگے بڑھا سکے ۔

اداروں اور کانفرنسوں کے ذریعے عالمی رسائی

مملکت نے اس بات کی ہمیشہ حمایت کی ہے کہ مذاہب کے درمیان اور ثقافتوں کے درمیان تعلقات کی مضبوطی کے لیے متعین مکالمے کے لیے بروئے کار تنظیموں کی مدد کی جائے۔ ان مقاصد کے لیے ایسے اجتماعات اور کانفرنسوں کی حمایت کی جائے جو مشترکہ اخلاقی اقدار اور روایات کو بڑاھاوا دینے کا ذریعہ ہوں۔ ان پلیٹ فارمز کے ذریعے ماہرین تعلیم، علما اور پالیسی سازوں کے علاوہ سول سوسائٹی کے قائدین کو اکٹھا کر کے ان راستوں کی تلاش کرنا ہوتا ہے جو امن کے لیے مذہب کو بروئے کار لاسکیں۔

مملکت نے اس سلسلے میں کانفرنسوں کی میزبانی کر کے نفرت پر مبنی تقریروں کے مقابلوں کے بجائے بقائے باہمی کو فروغ دینے کا اہتمام کیا ہے۔ اس کے برعکس انتہا پسندانہ خیالات مذہب کو سیاست کے لیے بروئے کار لاتے ہیں، مملکت سیاست میں مذہب کے متحرک ہونے کے لیے نہیں۔ یہ کام مملکت نے محض علامتوں اور اشاروں کے انداز سے نہیں کیا بلکہ عملی طور پر کیا ہے اور اس کے ساتھ کھڑی ہے۔

کیونکہ مملکت یہ خوب سمجھتی ہے کہ مؤثر مذہبی رہنما اور علماء لاکھوں پیرو کاروں کی سوچ اور رویے کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس لیے علماء کی اس اہمیت، اہلیت اور صلاحیت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

بین المذاہب مکالمہ امن و استحکام کے لیے کیوں اہم

بین المذاہب مکالمہ مسائل، تنازعات اور تصادم کے سد باب اور خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ غلط فہمیوں اور کشیدگی کو کم کرنے میں اہم ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ بہت سے ٹکراؤ اور تصادم غلط فہمی سے ہی ابھرے ہوتے ہیں۔

دنیا کے بہت سے تنازعات کی جڑیں ثقافتی اور مذہبی حوالوں سے ہوتی ہیں۔ اس لیے ان تنازعات کو محض سیاسی رابطوں اور مکالمے سے طے نہیں کیا جاسکتا ہے۔ تاہم جب مذہبی رہنما اور علماء تعمیری جذبے سے متواتر ملتے ہیں تو آسانی کے ساتھ خوف کو سکون و چین میں تبدیل کرنے کا باعث بن جاتے ہیں۔ علماء کے ذریعے ہی انتہاپسندانہ بیان بازی کو چیلنج کیا جا سکتا ہے اور انہی کی مدد سے نچلی سطح تک مفاہمانہ ماحول کے لیے حوصلہ افزا اقدامات ممکن ہو سکتے ہیں۔

مکالمہ ہمیشہ ذاتی تعلقات اور اجتماعی تجربات کی وجہ سے دقیانوسی نوعیت کے تصورات اور افکار کی جگہ نئے رجحانات کی کاشت کا سبب بنتے ہیں۔ یہ دوسروں کو بھی انسان بنانے کے لیے مفید کام کرتا ہے۔ مگر اس میں کلیدی کردار علماء کو ادا کرنا ہوتا ہے۔ پھر بحرانوں کی جگہ ہمدردی کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ ان کے باہم ملنے سے ہی یہ سوچ پنپتی ہے کہ ہمدردی عقیدے اور سرحدوں سے بھی ماورا ہوتی ہے۔ اسی سوچ اور مشترکہ اخلاقی اقدار کی بنیاد پر ہر شخص کو عالمی شہریت کا احساس اور ذوق میسر آتا ہے۔ اسی کی بنیاد پر یہ احساس جنم لیتا ہے کہ امن صرف جنگ کے نہ ہونے یا خاتمے کا نام نہیں ہے بلکہ امن کے لوازمات میں انصاف، انسانی وقار اور باہمی احترام بھی شامل ہیں۔

علاقائی اور عالمی استحکام کی طاقت

سعودی عرب کی مکالمے اور تعاون پر 'مرکوز' پالیسی نے مکالمے کو نہ صرف مشرق وسطیٰ میں بلکہ عالمی سطح پر بھی استحکام کے لیے ایک طاقت کے طور پر پیش کیا ہے۔

مملکت نے سفارتی میدان میں ایک ایسی سرمایہ کاری کی ہے جس کے فوائد ثقافتی و مذہبی میل جول، قربت اور ہم آہنگی کی صورت ہیں۔ مملکت کا طریقہ کار مسائل اور تنازعات کا حل ان کی بنیاد سے کرنے کا ہے۔

جس طرح کہ بے اعتمادی، نظریاتی کشمکش، سماجی تقسیم اور استحکام کو سلامتی سے زیادہ سمجھا جاتا ہے۔ تاکہ مختلف طبقات باہم مل کر رہ سکیں اور اپنا ہدف خوشحالی قرار دے کر اسے حاصل بھی کر سکیں۔ یہ نقطہ نظر پاور کے سافٹ استعمال کی راہ دکھاتی ہے۔ یہ نرم طاقت تعلیم، ثقافت، انسانی ریلیف کے امور اور مذہبی سفارتی کوششوں سے بروئے کار آتی ہے۔ لیکن اس کے اثرات سیاسی و روایتی فوجی اثرات سے ہرگز کم نہیں ہوتے۔

ملکوں کے درمیان جب بھی لچک اور نرمی کی حکمت عملی بروئے کار آتی ہے یا تنازعات کی جگہ افہام و تفہیم اور رواداری کو اختیار کیا جاتا ہے تو غیر یقینی کے موجودہ عالمی منظر نامے میں لچکدار سوچ کے حامل معاشرے کی تشکیل ممکن ہوسکتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ایک بہتر نظم اور ماحول کی صورتگری کا مکان بڑھ سکتا ہے۔

دوسری اقوام کے لیے ایک قابل غور ماڈل

آج کی دنیا جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی سے لے کر توانائی و پانی کے بحران تک سے دوچار ہے۔ ہر جگہ ایک نئے رنگ میں پیچیدہ چیلنج درپیش ہے۔ اس سے نکلنے کے لیے جس قدر سعودی عرب کا مکالماتی رابطوں اور سفارتکاری کا ماڈل آج ضروری ہے شاید اس سے پہلے کبھی نہیں تھا۔

جو ممالک استحکام اور معاشرتی ہم آہنگی کو اپنے ہاں بڑھانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ان کے لیے مملکت کا یہ ماڈل انتہائی مفید ثابت ہوگا کہ اس کی بنیاد مذاکرات، باہمی احترام، مشترکہ اقدار اور بین المذاہب ہم آہنگی کی حمایت کے اصولوں کی بنیاد پر تعلیمی شعبوں میں تبادلوں اور طبقاتی سطحوں پر ایک دوسرے کی رہنمائی و مدد کرنے پر ہے۔

اس پس منظر میں رمضان المبارک کی آمد بحرانوں میں گھرے معاشروں کے لیے ایک اور ہم آہنگی کا پیغام ہے۔ جو عقیدوں کے اختلاف کے درمیان ایک پل کا کام کر سکتا ہے۔ لاکھوں لوگ اس مقدس مہینے کے تجربے سے گزر رہے ہیں۔ توقع کرنی چاہیے کہ اس مہینے کی روح 30 دنوں سے آگے بڑھ کر انسانوں اور انسانی معاشروں کے درمیان ہم آہنگی، خیر خواہی، ہمدردی، انصاف اورتعاون کے لیے پائیدار کوششوں کا مؤجب بن سکے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size