بڑھتی ہوئی کشیدگی: ایران کے لیے خلیجی ریاستوں کی خودمختاری کا احترام لازم ہے

ڈاکٹر ماجد رفیع زادہ
ڈاکٹر ماجد رفیع زادہ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 12 منٹ

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی بالآخر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ تک پہنچ گئی ہے۔ جس میں ایک اہم جنگی فریق کے طور پر اسرائیل بھی شامل ہے۔ تاہم ایران کا اس جنگ کے دوران خلیجی ملکوں کو میزائلوں سے ہدف بنانے کی کارروائیاں غیر معمولی ہیں۔

ایران کا یہ اقدام اس جنگ کو ڈرامائی طور پر خلیج پر مسلط کرنے اور پھیلا دینے کا ایک چونکا دینے والا فیصلہ ہے۔ ایرانی فیصلے کا مقصد جنگ کو اس کے اصل اور بڑے فریقوں سے آگے منتقل کر دینا ہے۔

بجائے اس کے کہ اس جنگ کو محدود رکھا جاتا اب ان کئی خلیجی ملکوں کو بھی جنگی لپیٹ میں لینے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ ملک اس جنگی شروعات کا حصہ تھے یا نہیں اس کو نہیں دیکھا گیا۔

ایران نے خلیجی ریاستوں کو جنگی دائرے میں لانے کی کوشش کر کے سرخ لکیر کو عبور کر لیا ہے۔ یوں پورا خطہ جنگی خطرے میں دھکیل دیا گیا ہے۔

اس اقدام سے اس دیرینہ اپروچ اور سوچ کو دھچکا لگا ہے کہ غیر متعلق ریاستیں چاہیں تو خود کو جنگ سے دور رکھ سکتی ہیں۔ بشرطیکہ انہیں اشتعال نہ دلایا جائے اور ایسا کرنے پر مجبور نہ کر دیا جائے۔ مگر ایرانی فیصلہ سارے خطے کو غیر مستحکم کرنے کا ایک پیغام ہے۔

یہ تصور کہ غیر جانبداری زیادہ دیر تک تحفظ کی ضامن نہیں رہ سکتا۔ تبدیل ہوتے منظر کے ساتھ آگے بڑھنے لگتا ہے۔ پھر حکومتوں اور عوام دونوں کی بے چینی و اضطراب میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ امکان پیدا ہو جاتا ہے کہ ایک ملک اچانک خود کو جنگ میں موجود دیکھنے لگتا ہے۔ قطع نظر اس کے اس سے قبل وہ خواہش یا ارادہ رکھتا تھا یا نہیں۔ اس کی پالیسی کچھ ایسی تھی یا نہیں۔

غیر جانبدار ریاستوں کو نشانہ بنانا، سفارت کاری کو کمزور کرنا ہے

خلیجی ریاستیں اس تصادم کا حصہ نہیں تھیں۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے یہ متواتر کوشش کی ہے کہ وہ سفارتی کوششوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اور ایران کے ساتھ بھی اپنے سفارتی رابطوں اور تعلق کو برقرار رکھیں۔ باوجود اس کے ایران امریکہ کے ساتھ کافی کشیدگی میں جا چکا تھا۔

خلیجی ملکوں نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات کو پہلے کی طرح برقرار رکھا اور ان کے لیڈروں نے مذاکرات پر ہی زور دیا تاکہ کشیدگی کم ہو سکے۔ ان لیڈروں نے علاقائی سطح پر تعاون کو کشیدگی پر ہمیشہ مقدم باور کرایا اور اسی کو بہتر متبادل گردانا۔

یہاں تک کہ بعض رہنماؤں نے بالواسطہ مذاکرات کی میزبانی کی اور مذاکراتی عمل کے لیے ہر ممکن سہولت کاری بھی کی۔ تاکہ متصادم اور متحارب عناصر کے درمیان ایک پل بننے کا کام کیا جاسکے۔ صرف اس لیے کہ غلط فہمیاں ختم کرانے کا ذریعہ بنیں اور تشدد کا راستہ روک سکیں۔

حملے کرنے والی ریاستیں بھی پوری سرگرمی کے ساتھ مذاکرات چاہتی تھیں ایسی پریشان کن علامات ظاہر کیں کہ سفارتی غیر جانبدار کو قدر و منزلت نہیں دی جاتی۔ اس کے نتیجے میں پر امن کوششوں اور رابطوں کا مستقبل کمزوری میں چلا جاتا ہے۔ مذاکرات کے لیے رغبت میں کمی ہوجاتی ہے اور اخذ یہ کیا جاتا ہے کہ مذاکرات کے لیے کوششیں ان کا نقصان نہیں روک سکتیں۔

مزید یہ کہ اب جو صورت حال میزائل حملوں کے ذریعے ایران نے پیدا کردی ہے یہ اس کے اور اس کے عرب ہمسایوں کے درمیان سالہا سال سے انتہائی نپے تلے اور محتاط تعلقات اور باہمی اعتماد کے خاتمے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ بلاشبہ میزائلوں سے سفارت کاری سکڑ کر رہ جائے گی۔ اس کی جگہ شدت پسندانہ آوازوں کو جگہ مل جائے گی۔ یوں ایک طرف ڈیٹرینس اور عسکریت پسندانہ خیالات کو فوقیت ملنے لگتی ہے۔

خود مختاری اور بین الاقوامی قانون کے خلاف میزائلوں اور ڈرون طیاروں کا استعمال

ایران نے بلاجواز میزائل اور ڈرون حملے کر کے خلیجی ملکوں کی خود مختاری کے علاوہ بین الاقوامی قانون کی بھی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ یہ اقدامات بین الریاستی تعلقات کے اصولوں کے بھی منافی ہیں۔

بین الاقوامی تعلقات کا جدید فلسفہ اور نظام دو طرفہ افہام و تفہیم اور بقائے باہمی کے اصولوں پر مبنی ہے۔ ان اصولوں کے مطابق کوئی قوم ہتھیاروں کا استعمال کرنے سے گریز کرتی ہے۔ ماسوائے اپنے تحفظ کے اصولوں کے تحت۔ یقینا اپنا تحفظ اور دفاع بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے اور اس کے دائرے میں ہو سکتا ہے۔ان اقدار سے ماورا کیے گئے اقدامات عالمی نظم کو مختل کرنے والے ہو سکتے ہیں۔ اس سے امن کی قوتیں کمزور ہوتی ہے اور طاقتور اپنی من مانی مسلط کر نے کی کوشش کرتی ہیں۔جس کے منفی اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

اقوام متحدہ کا چارٹر کسی بھی ملک کی علاقائی سلامتی اور سیاسی خود مختاری کے خلاف طاقت کا استعمال جائز قرار نہیں دیتا۔ اقوام متحدہ کے اس چارٹر کی خلاف ورزی کرکے اگر کوئی ملک بین المملکتی جنگوں کو روکنے کے بنائے گئے قانونی فریم ورک کو نقصان پہنچاتا ہے، اس کا یہ جرم دوہرا جرم ہے کہ ایک طرف اس نے دوسری ریاستوں کو خطرے میں ڈالا اور دوسری جانب اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی۔

جب کسی ملک کی سلامتی اور خود مختاری کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو فطری طور پر امن کے امکان کے بجائے جنگی خطرہ بڑھ جاتا ہے لہذا بین الاقوامی طور پر مسلمہ سرحدوں کا احترام صرف قانونی تقاضہ نہیں بلکہ امن قائم رکھنے کے لیے بھی ضروری ہے۔

غیر جانبدارانہ فضائی حدود اور حفاظتی اقدامات، دونوں نظر انداز

خلیجی ملکوں کو ہدف بنانے سے متعلق رپورٹس یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ان ملکوں نے اپنے آپ کو غیر جانبدار رکھنے کے لیے اپنی فضائی حدود کو بند کردیا تھا تاکہ وہ کسی جنگی کاروائی کا حصہ نہ بنیں۔
اپنی فضائی حدود کی بندش سے خلیجی ریاستوں نے یہ واضح اشارہ دیا کہ وہ نہیں چاہتی کہ ان کی سرزمین ایران کے خلاف جنگ میں استعمال ہو۔ یہ سارے احتیاطی اقدامات اس بات مظہر تھے کہ خلیجی ریاستیں ایران کے خلاف کسی کاروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتیں بلکہ غیر جانبدار رہنا چاہتی ہیں۔

لیکن حملے کرنے والے ملکوں نے ایک خطرناک مثال قائم کی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کسی جنگ میں الجھنے سے بچنے کے واضح اقدامات بھی ان کی سلامتی کے لیے ضروری نہیں کہ ضمانت بن جائیں۔ لہذا خطے کی چھوٹی ریاستیں اب مجبور ہوسکتی ہیں کہ وہ اپنے دفاع اور سلامتی کی کوششوں کا بہ انداز دیگر دیکھیں۔ کیونکہ خطرہ یھیلتا لگ رہاہے کہ بڑی طاقتوں کی شمولیت کی وجہ سے جنگ میں اضافہ ہوسکتا ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے بجائے اسلحہ جمع کرنے کی دوڑ تیز تر ہوسکتی ہے اس سے خلیج میں بد اعتمادی بڑھنے کا خطرہ ہوگا۔

کشیدگی کے علاقائی اور عالمی مضمرات

کشیدگی کو بڑھانے کی کوششوں کے اثرات گہرے ہیں۔ ایک پھیلتی ہوئی کشیدگی خطے میں توانائی سے متعلق انفراسٹرکچر کے لیے سخت خطرناک ہو سکتی ہے۔

جہاز رانی اور تیل برداری کے راستے متاثر ہوں گے۔ نتیجتا عالمی معیشت کے لیے لائف لائن کا درجہ رکھنے والے مشرق وسطیٰ کے یہ وسائل خطرات کی زد پر ہوں گے۔ سب جانتے ہیں کہ خلیج کا خطہ عالمی توانائی کی ضروتوں کے لیے ایک وافر حصہ فراہم کرتا ہے۔ جنگی پھیلاؤ اور کشیدگی میں اضافے کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں عدم استحکام فطری ہوگا۔ تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھیں گی۔ پھر کثیر جہتی اثرات کا سامنا ہر کسی کو کرنا پڑے گا۔ تجارتی بہا ؤاور معاشی استحکام بھی اس کی وجہ سے متاثر ہو جائیں گے۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ اثرات صرف خطے کے اندر تک نہیں رہیں گے۔ بلکہ پوری دنیا تک منتقل ہوں گے۔ بلاشبہ مشرق وسطیٰ کے لوگوں کے لیے اس کشیدگی کے اثرات کئی گنا زیادہ ہو سکتے ہیں۔ کہ خطہ براہ راست کنگہ دھانے پر بھی ہوگا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پھیلنے والی آگ اور جنگ دونوں کے اثرات گردوپیش کو اپنی لپیٹ میں ضرور لیتے ہیں۔ شہری آبادیاں پہلے ہی معاشی دباؤ میں ہیں۔ جنگی علاقے میں ہونے کی وجہ سے نقل مکانی کی بھی زد میں رہی ہے۔

ایک نئے تنازعے کے پھیل جانے سے ماضی کی جنگی اذیتیں پھر سے تجدید کراتی نظر آئیں گی۔ سیاحت ڈوبے گی، ترقیاتی منصوبے رکیں گے، انسانی ضرورتوں میں تیزی سے اضافہ ہوجائے گا جبکہ وسائل پہلے سے زیادہ مشکلات کا شکار ہوں گے۔

تاریخ کا سبق بھی یہی ہے جنگیں رک نہ پائیں تو پھر پورے خطے کو لپیٹ میں لیتی ہیں۔ یہ بھی تاریخ بتاتی ہے کہ جنگیں کبھی بھی اپنے اثرات کو صرف انسانوں، ملکوں اور علاقوں کے آج تک محدود نہیں رہنے دیتیں بلکہ یہ اثرات ہمیشہ دہائیوں کو محیط ہو جاتے ہیں۔ معاشرے کا حلیہ بدل دیتی ہیں۔ اخلاقیات اور اقدار کا قتل عام ہوتا ہے اور سیاسی نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ گویا معاشرہ ، مملکتیں اور تاریخ سبھی مل کر ایک نئی کروٹ لیتے نظر آتے ہیں۔

تصادم کو بین الاقوامی نہیں ہونا چاہیے
تاریخ بتاتی ہے کہ اس خطے میں جنگیں شاذو نادر ہیں۔ امریکہ ، اسرائیل اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدگی میں اگرچہ دوسرے ممالک کو بھی ملوث کرنے کی کوشش قطعا کسی ملک کی دفاعی ضرورت ہو سکتی نہ یہ تسلیم کیا جا سکتا ہے۔

جنگی اداکاروں کے بڑھنے سے نہ صرف جنگی نقصان اور تباہی کا دائرہ پھیل جاتا ہے بلکہ سفارتی اعتبار سے بھی پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں۔ مذاکرات کا حصہ بننے والا ہر نیا فریق اپنے مفادات اور سرخ لکیر کے سآتھ سامنے آتا ہے۔ نئے نئے مطالبات اور شرائط کی بھر مار ہوجاتی ہے۔

مزید یہ کہ غیر جانب دار رہنے کی خواہش مند ریاستوں کو جنگ میں گھسیٹنا اس لیے بھی خطرناک ہو سکتا ہے کہ جنگ پہلے علاقائی سطح تک اور بعد ازاں بین الاقوامی سطح تک پھیل سکتی ہے۔ ایسی جنگوں پر قابو پانا انتہائی مشکل اور ان کے بعد کے مضمرات سے نمٹنا اور زیادہ کڑا چیلنج ہوتا ہے۔ کیونکہ ایسی جنگیں زیادہ تباہی لاتی ہیں۔

دوسرے ملکوں کی خود مختاری کے احترام استحکام کا راستہ

خلیجی ملکوں کی خود مختاری کا احترام کرنا تباہی سے بچنے کے لیے ضروری ہے۔ جب اقوام دوسری اقوام کی سرحدات کا احترام کریں ، غیر جانبدار کا لحاظ کریں تو بحرانوں کے دوران بھی سفارت کاری کی گنجائش اور امکانات ختم نہیں ہوتے۔ ایران کو چاہیے کہ وہ خلیجی ریاستوں پر اپنے حملوں کو روکے اور اس جنگی پالیسی سے باز اکر عدم مداخلت کے عزم کا اعادہ کرے۔ کیونکہ کشیدگی میں کمی اور نئے سرے سے سفارتی رابطوں کے اجراء کے علاوہ غیر جانبدار ریاستوں کے حقوق کا احترام بھی اسی طرح ممکن ہے۔ یہی استحکام کا واحد اور قابل عمل راستہ ہو سکتاہے۔ اس کے برعکس راستہ جنگ کو پھیلانے کا راستہ ہے جو شہریوں اور حکومتوں دونوں کے لیے تباہی ہے۔ اس تباہی کے اثرات خطے میں اگلی نسلوں کو بھی بھگتنا ہوں گے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size