ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی دوسری جنگ، نئے رخ واضح
امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر مسلط کردہ اپنی دوسری جنگ کے 12 دن مکمل کر لیے ہیں۔ مگر یہ جنگ ابھی کسی منطقی انجام کی طرف جاتی دکھائی نہیں دے رہی۔ پچھلے سال امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف ماہ جون میں جنگ بارہ دنوں میں مکمل کر لی تھی اور واضح طورپر اپنے مقاصد پورے کرنے کا اعلان بھی کر دیا تھا۔ لیکن اب کی بار رجیم چینج، جوہری پروگرام کے خاتمے، بیلیسٹک میزائل پروگرام کا خاتمہ اور ایران کی طرف سے غیر مشروط سرنڈر کرانے کے بدل بدل کر بتائے جانے کے اہداف میں سے کوئی ایک ہدف بھی حاصل نہں کیا جا سکا ہے۔
کیا امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگی قوت اور صلاحیت کو ایران کے مقابلے میں محض انسانی ہلاکتوں، شہری انفراسٹرکچر کی تباہی اور جنگی جرائم کی مشینری کے طور پر ثابت کرنا مقصود تھا؟ بلاشبہ ان شعبوں میں مزید کسی جنگ یا کاوش کی دونوں ملکوں کو ضرورت نہ تھی۔ دونوں کی ماضی کی جنگیں ان ضرورتوں کے لیے کافی تھیں۔
لیکن ابھی تک ایران کے خلاف یہ جنگ شروع کر کے پورے خطے کو تباہی کے حوالے کرنے کے مقاصد اور وجوہ واضح نہیں۔ جنگ کے سب سے اہم کردار امریکی صدر ٹرمپ نے تو منگل کے روز اس بارے میں ایک نیا انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے جنگ اپنے داماد جیرڈ کشنر، اپنے کاروباری شراکت دار سٹیو وٹکوف اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے کہنے پرشروع کی تھی۔ اس سے قبل انہوں نے اسرائیل کو اس جانب گھسیٹ لانے کا اشارہ بھی دیا تھا۔ جنگی مقاصد اور اہداف بھی بار بار بدلتے رہے ہیں۔ تاہم اب 12 دنوں کے بعد جنگ میں جو تصویر بن رہی ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ کو یورپ اور عالمی اداروں کی تائید کے بغیر جنگوں میں 'جمپ ان' کرنے کی ٹرمپ پالیسی سے رجوع کرنا ہوگا۔
بہر حال ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی جنگ خشکی سے پانیوں میں کھینچ لے جانے کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس کوشش کا اشارہ امریکہ نے مبینہ طور پر بھارت کی مدد سے دو ایرانی بحری جہازوں کو سینکڑوں نیول کارکنوں سمیت تارپیڈو کر کے تباہ کر دیا تھا۔ یہ جنگ کے دوسرے ہفتے میں کیا گیا۔ اب تیسرے ہفتے کے شروع ہونے سے پہلے ہی یہ کوشش نظر آرہی ہے کہ امریکہ جنگ کو آبنائے ہرمز کی تنگنائی میں کھینچنا چاہتا ہے۔
یہ آبنائے ہرمز محض 33 کلومیٹر کے قریب چوڑی ہے۔ مگر اس کے باوجود امریکی بحریہ نے اکیلے اس میں بھی کودنے کا عندیہ نہیں دیا۔ اس سلسلے میں فرانس کی طرف سے خبر آتی ہے کہ فرانس بعض یورپی ملکوں کے علاوہ بھارت اور چند دیگر ایشیائی ملکوں کو شامل کر کے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی حفاظت کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ اگر امریکی قوت و جنگی صلاحیت کو دیکھا جائے تو اس کے مقابلے میں مسلسل اقتصادی پابندیوں کا نشانہ بننے والا ایران بالکل قابل ذکر نہیں ہونا چاہیے۔ تو پھر ایسا کیوں ہے کہ پورے ایران کو بمباری سے ملبہ بنانے والے امریکہ کی بحریہ کو محض 33 کلومیٹر کے آبنائے ہرمز کے لیے یورپی ممالک، خطے کے بڑے ملک بھارت اور بعض نامعلوم (ابھی تک) ایشیائی ملکوں کی عسکری مدد، تعاون اور ماتحتی کی ضرورت پیش آگئی ہے۔
شاید یہ وجہ بھی ہو کہ 28 فروری کو یورپی ملکوں کی مدد کے بغیر جنگ چھیڑلینے والا امریکہ ابھی اپنے ملک میں ہی اس جنگ کےحق میں قابل قبول بیانیہ پیش نہیں کر سکا۔ مشرق وسطیٰ کا کوئی عرب ملک بھی امریکہ کے کھل کر ساتھ دینے کا اعلان نہیں کر سکا، بلکہ سب عرب ملک اس سے دور رہنے کا تاثر دے رہے ہیں۔
یادش بخیر امریکہ کے تین عظیم الشان بلکہ 'ویل فرنشڈ' بحری بییڑے 'ابراہم لنکن، جیراڈ فورڈ اور جارج بش' بھی ایران کے نزدیک، مشرق وسطیٰ اور بحیرہ احمر کے پانیوں میں ہی موجود ہیں۔ یہ یورپی و ایشیائی و بھارتی تعاون و اشتراک کے حصول کی نئی کوشش اس کے باوجود کی جا رہی ہے کہ ایران نے اب تک آبنائے ہرمز میں لگ بھگ 12 جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ خود ایرانی کشتیاں بھی نشانہ بن چکی ہیں۔
کچھ سازشی تھیوریز، کچھ جائزے اور کچھ حقیقی پہلوؤں کو ملا کر اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں مدد لی جا سکتی ہے۔ 'آبنائے ہرمز کو مستقلاً ایران کے کنٹرول سے نکالنے کی شروعات کی جا رہی ہیں تاکہ ایران آئندہ کبھی بھی اسے ایک ہتھیار کے طور پر کسی کے خلاف استعمال کرنے کا نہ سوچ سکے۔'
ایرانی آبنائے ہرمز کوامریکی قیادت کے زیر قیادت کثیر ملکی اتحاد کے کنٹرول میں دیا جائے اور آنے والے دنوں میں ایران کے علاوہ چین بھی امریکہ و بھارت اور دیگر اتحادیوں کا دست نگر بن کر رہنے پرمجبور ہوجائے۔
مشرق وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ملکوں کو بھی آبنائے ہرمز کے اس نئے کنٹرول کے ذریعے مزید قابو میں کرنے کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔ خصوصا جن ملکوں کو پہلے ایرانی جوہری پروگرام کو ایک خطرہ بنا کرڈرایا جاتا رہا۔ اب آبنائے ہرمز میں ایرانی بحریہ کی بچھائی گئی یا مجوزہ بارودی سرنگوں کے خوف میں مبتلا کر کے ان کی تیل کی تجارت کو امریکی اثرات کے مزید تابع کیا جا سکتا ہے۔ یعنی تیل کی پیداوار کو محض ڈالر سے جوڑے رکھنا کافی نہ سمجھا جائے۔ عربوں کے تیل سے معاشی فوائد حاصل کرنے کے علاوہ اسی تیل کو خطے میں تذویراتی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جائے۔ مگر یہ عرب ملک نہ کریں جیسا کہ 1970 کی دہائی میں شاہ فیصل کے دور میں کرنے کی کوشش کی گئی تو اسے ناکام بنا دیا گیا تھا، یہ کوشش امریکہ اب اپنے لیے کرنے کا سوچ رہا ہے۔
پاکستان کے گرم پانیوں تک براہ راست جو رسائی ممکن نہیں ہو پائی۔ اس کا ازالہ ایران کی آبنائے ہرمز سے کیے جانے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے۔ تاکہ خطے کے ملکوں پر اس آبنائے کے ذریعے ایک زیادہ سخت چیک لگا دیا جائے۔
ایران پر حملے کے بعد افغانستان کو تین امریکی قیدیوں کے تناظر میں نئے حملے کی دھمکی اور پاکستان کی تعریف کو اصلاً ایک ہی مقصد کے لیے بروئے کارلایا جانا مقصود قراردیا جانے کا الزام بھی امریکہ پر لگ سکتا ہے۔ تاآنکہ صدر ٹرمپ اپنی قوم کو اور نیتن یاہو اپنے عوام کو بتا سکیں کہ ہم نے ایران کے خلاف معرکے کو پورے خطے کے خلاف کھیل میں تبدیل کر لیا ہے۔ تاکہ اگلے انتخابات میں دونوں کی سیاسی جماعتوں کو نیک نامی اور ووٹ مل سکیں۔
نہ صرف یہ بلکہ ایک 'فیس سیونگ' بھی مل جائے گی۔ اگر اسی دوران اتحادی ملکوں کی دولت اور جنگی وسائل کام آگئے اور فضا کار ساز رہی تو خلیج فارس میں موجود ایرانی جزیرے 'خار' کو بھی اسی طرح ہاتھ میں لینے کی کوشش کی جانا بعید از امکان نہیں ہوگا۔ جیسا کہ وینزویلا کے تیل پر امریکی گرفت ہو چکی ہے۔ اگر ایران اس معاملے میں بھی وینزویلا ثابت نہ ہو سکے تو ایرانی تیل کی اس جزیرے پر موجود تنصیبات کو بھی ایرانی جوہری تنصیبات کی طرح تباہ کر کے ایران کی معیشت کو تباہی کے آخری درجے تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اور پھر جارج ڈیبلیو بش کی طرح ایک بحری بیڑا صدر ٹرمپ کے نام پر بھی امریکی بحریہ کے فلیٹ میں شامل کرنے کا یادگاری اعزازمیسر ہوگا۔
12 دن کے بعد افغانستان کے لیے نئی امریکی دھمکی بھی جنگ کا نیا رخ بن سکتی ہے۔ کہ ایک بار پھر افغانستان پر چڑھائی کرنا پڑے تو گریز نہ کیا جائے۔ اس صورت میں بھی نہ صرف امریکہ کی خطے میں بالادستی کے لیے مزید راستے کھلیں گے بلکہ اسرائیل کے لیے بھی نئے راستے کھولے جا سکیں گے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ 1979ء میں افغانسان پر سوویت یونین کے حملے کے اثرات پاکستان کے لیے پیشگی طور پر محسوس کر لیے گئے تھے، اب بھی اس سمت میں احساس مندی ممکن ہوگی یا بے حسی غالب رہے گی؟ اس نئے رخ کے ساتھ امریکہ کو ضروری محسوس ہوا تو خطے کے ممالک میں امریکہ کی 'پراکسیز' کی حوصلہ افزائی کی شروع کر دی جائے۔ ایک تیر سے کئی شکار کرنے کے ٹرمپ کے خواب پورے ہوں اور اسرائیل کے سفارتی خواب پورے ہو سکیں گے۔
جنگ کے یہ نئے رخ سامنے آنے کے نتیجے میں خطے کے معدنی وسائل، آبی راہداریاں، تیل کی دولت، بھاری بھرکم تجارتی منڈیاں جنگی آلات کے بڑے بڑے خریداروں پر کنٹرول حاصل کیا جاسکے گا۔ 'امریکہ فرسٹ' کا نعرہ بھی آگے بڑھے اور 'گریٹر اسرائیل' کا خواب بھی۔ بصورت دیگر امریکی عوام ٹرمپ سے جنگ کا جواز اور بھاری اخراجات کا جواب بھی مانگیں گے۔ نیز امریکہ کی بچی کھچی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کا حساب بھی لیں گے۔ یہاں تک کہ امن کا نوبل انعام مانگنے والے کے ہاتھ سے امن بورڈ بھی نکل جائے گا۔ گرین لینڈ کے جزیرے والا خواب بھی اسی آبنائے ہرمز کے بعد پورا ہونے کا امکان پیدا ہوگا ورنہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کا سیاسی مستقبل بھی خطرے میں آجائے گا۔