دنیا کے بڑے حصے کے ساتھ جنگی کھلواڑ ۔۔ مگر کب تک؟

نجم الحسن عارف
نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 10 منٹ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ جب ایک صدارتی مدت کی غیر حاضری کے بعد دوبارہ وائٹ ہاؤس میں آئے تو امریکی عوام سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں خوشی کا احساس کسی نہ کسی درجے میں موجود تھا۔ اگرچہ ان کی یہ شناخت بھی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے کہ ٹرمپ ایسی شخصیت ہیں جن کے بارے میں کوئی حتمی بات کہی جا سکتی ہے نہ انہیں خود کسی حتمی بات کے کہنے کا ڈھنگ آتا ہے۔ بلکہ کہنا چاہیے کہ ایسی عادت ہے، نہ رجحان، نہ ترجیح۔ یقینا وہ امریکی صدر ہونے سے پہلے ایک امیر زادے نہیں ہیں تو کم از کم دو امیر زادوں کے باپ ضرور ہیں۔ اس لیے امیر زادگی اور شہزادگی کے اپنے تقاضے اور انداز ہوتے ہیں جو وہ خوب ادا کرتے ہیں۔

بات ان کی دوبارہ وائٹ ہاؤس آمد پر خوشی کی ہو رہی تھی۔ اس خوشی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ صدر جوبائیڈن نے جس طرح نیتن یاہو کی غزہ جنگ میں اندھا دھند حمائت اور مدد کر کے عالمی امن کے ساتھ ساتھ اپنے سیاسی مستقبل کا بھی تیا پانچہ کر لیا تھا اس سے صاف نظر آرہا تھا کہ جوبائیڈن دوبارہ امریکی عوام کا انتخاب نہیں بن سکیں گے۔ حتیٰ کہ انہیں صدارتی امیدواریت سے ہی پیچھے ہٹنا پڑ گیا۔ ان کے پیچھے ہٹنے کی اصل وجہ بیان کرنے کے بجائے ان کی 'مخبوط الحواسی' اور بڑھاپے کو جواز بتایا گیا یا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ اگرچہ اس جواز کی زندگی کملا ہیرس کے بجائے ڈونلڈ ٹرمپ کے جیتنے کے ساتھ خود بخود ختم ہوگئی۔ سب جان گئے یہ مخبوط الحواسی یا بڑھاپا شڑاپا کوئی ایشو نہیں تھا۔ عام امریکی ووٹر جنگوں سے تنگ آچکا تھا اور غزہ میں کامل بے شرمی اور غیر انسانی ماحول میں لڑی جانے والی اسرائیلی جنگ کی اندھی حمایت اور تذویراتی شراکت سے جوبائیڈن نے امریکہ کے انسانیت اور امن دوستی کے بھرم کو نقصان پہنچایا تھا۔

اس ماحول میں ٹرمپ ہی امریکی صدر ہو سکتے تھے جو جنگیں ختم کرنے اور امن لانے کی بات کر رہے تھے۔ جن کی امریکی صدارت کے بعد کوئی آخری خواہش کے انداز کی خواہش اگر سامنے تھی تو وہ امن کے نوبل انعام کی تھی۔ اس امر پر دلالت ان کی 'امریکہ فرسٹ' اور Make America Great Again کی ڈاکٹرائن سے ہو رہی تھی کہ امریکہ کی انتظامیہ کا مطلب دنیا کو محض جنگوں کی تباہی میں دھکیلتے رہنا نہیں ہے بلکہ امریکی عوام کی ترقی، خوشحالی اور خود امریکہ بھی ہے جسے بارہا لڑی جانے والی طویل اور طویل تر جنگوں نے بری طرح نقصان پہنچایا تھا۔

مگر صدر ٹرمپ نے ایک سال گزرنے سے بھی بہت پہلے ہی وائٹ ہاؤس کو عالمی سطح پر جنگوں کی بنت کے لیے ایک 'عسکری ہیڈکواٹر' میں بدل دیا۔ یہ دیکھے بغیر کہ وہ تو دنیا کے آخری نکڑ پر ہونے اور دنیا کے بہت بڑے حصے سے الگ تھلگ ہونے کی وجہ سے براہ راست جنگی تباہی سے بچ بچا کر نکل جائیں گے مگر باقی دنیا کے لوگ اور خصوصاً امریکی و اسرائیل کی مستقل جولانگاہ بنے ہوئے مشرق وسطیٰ، اس کے عوام اور حکومتیں ہی نہیں وسائل اور ترقی کے سارے امکانات اور حالات تباہی کے نشانے پر آجائیں گے۔ یہ سلسلہ پہلے غزہ اور لبنان و شام تک زیادہ فعال رہا۔ پھر ایران بھی پچھلے سال جون سے ہی نشانے پر آلگا۔ چلو یہ بھی قبول تھا مگر اب 28 فروری سے ایک بار پھر ایران ہی نہیں تقریبا پورا خطہ دھماکوں، میزائلوں اور ڈرون حملوں کی دھما دھم سے دھمک رہا ہے۔

خطے میں روائتی سیاحت ہی نہیں مذہبی سیاحت مراد حج عمرہ تک متاثر ہونے کا اندیشہ دور کی کوڑی نہیں کہا جا سکتا۔ دبئی جسے بلاشبہ مشرق وسطیٰ کی عروس البلاد کا درجہ حاصل رہا ہے ایک خوف کی منڈی بنا دیا گیا ہے۔ کویت چھوٹا ملک ہونے کے باوجود بڑے خطرات میں گھرا پڑا ہے۔ بحرین اور قطر سب کا امن پارہ پارہ ہو کر بکھر رہا اور قطرہ قطرہ ہو کر ٹپک رہا ہے۔ امارات سے اردن تک ہر جگہ تباہی کے ہر قطرے میں بربادی اور خوف کا ایک قلزم موجود ہے۔ کہ جنگ جو ایران میں امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو مشترکہ طور پر شروع کی تھی ابھی تھمتی نظر نہیں آرہی۔

وجہ صاف ہے کہ ایک طرف امریکہ کے غیر رسمی طور پر سامنے آنے والے پندرہ اور ایران کے پانچ مطالبات میں ایسا کچھ نہیں جسے امن کی سنجیدہ خواہش قرار دیا جا سکے۔ پندرہ مطالبات کی لمبی فہرست بجائے خود غیر سنجیدگی کا اظہار ہے۔ حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ ایک ایسے مرحلے پر جب پورا مشرق وسطیٰ خطرے کی دلدل بنا ہوا ہے کوئی قابل قبول اور قابل عمل فارمولا سامنے لایا جاتا اور پاکستان کی طرف سے امن کے لیے کی گئی کوشش کو بامعنی بنا دیا جاتا مگر ایسا کچھ نظر نہیں آتا۔ شاید اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ جنگ امریکہ کے اڑوس پڑوس میں نہیں لڑی جا رہی بلکہ مشرق وسطیٰ میں لڑی جا رہی ہے، ایشیا میں لڑی جا رہی ہے اور چین و روس کے گرد و پیش میں لڑی جا رہی ہے۔ اس لیے پچھلے کئی دنوں سے غیر سنجیدہ کہہ مکرنیوں اور اہداف کے ادل بدل نے اس جنگ کو خطے میں ایک جنگی کھلواڑ بنا کر رکھ دیا ہے۔ اب جبکہ صدر ٹرمپ کی 48 گھنٹے والی دھمکی پانچ دنوں کی مہلت کے بھی اختتام کو چھو رہی ہے تو امریکی پندرہ مطالبات پر ایران کے انکار سے صاف لگ رہا ہے کہ اس جنگ کا خاتمہ قریب نہیں ہے۔ الا یہ کہ کوئی معجزہ ہو جائے۔

صرف یہی نہیں بلکہ خود امریکی مطالبات کی لمبی فہرست کی وجہ سے در آئی غیر سنجیدگی، مذاکرات کا ایک بار پھر ڈول ڈالنے کے ساتھ ہی خطے میں ہزاروں کی تعداد میں مزید امریکی فوجی اتارنے کے اقدامات بھی اسی امر کی چغلی کھاتے ہیں کہ جنگ بندی مقصود نہیں جںگی کھلواڑ مطلوب ہے۔ جس کی سب سے بھاری قیمت عرب ملکوں کو ان معنوں میں ادا کرنا پڑ رہی ہے کہ وہ جنگ میں شریک نہ ہو کر بھی زبردستی کھینچے جا رہے ہیں۔ نہیں معلوم دنیا کے اس اہم سیاحتی خطے اور تجارتی مرکز کو کب تک جنگ کا خطہ اور خوف کی منڈی بنائے جانے کا منصوبہ جاری رہے گا۔

مشرق وسطیٰ اور خلیج کے ملکوں کے لیے مشکلات ہی نہیں اندیشہ ہائے دور دراز بھی بڑھتے رہیں گے اور آنے والے دنوں میں معیشت سے متعلق سرگرمیاں محدود اور ضروریات و اخراجات کا دائرہ لا محدود ہوجائے گا۔ ںئے ہتھیار، نئے دفاعی نظام، نئے اقدامات، نئے نئے اخراجات یہ سب لازمی ہوں گے۔ پھر ہتھیاروں اور دفاع کے لیے دوسروں کی محتاجی مزید بڑھ جائے گی۔ یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا۔ اسے پالیسیوں کا نتیجہ مانا جائے گا یا قیادتوں کا شاخسانہ فی الحال شاید اس پر بحث نہیں۔ لیکن آنے والے کل میں یہ بحث روکنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہو سکتا ہے جتنا آج جنگ کو ایران تک محدود رکھنے کی کوششیں مشکل ہیں۔

یاد ہوگا کہ غزہ کی جنگ کو بھی اسی طرح غزہ کے اندر تک محدود رکھنے کی ہر سمت سے کوشش کی جاتی رہی مگر غزہ کی جنگ کا دائرہ بھی ہرگز محدود نہ رہا۔ لبنان، شام اور عراق تک اس جنگ کے اثرات رہے پھر ایران میں منتقل ہوئے اور اب ایک بار پھر ایران کی جنگ بھی غزہ کی طرح ہی لڑی جا رہی ہے۔ مگر اس کا پھیلاؤ روکنا غیر فطری حد تک مشکل ہے۔ تو کیوں نہ امریکہ اور ایران کے مطالبات کے ساتھ ساتھ خطے اور ایشیا کے ممالک کوئی اپنا لائحہ عمل بھی امن کے لیے ترتیب دینے کے لیے سر جوڑ بیٹھیں۔ تازہ ترین اطلاع کے مطابق پاکستان نے اس سلسلے میں جمعرات کے روز چین سے کچھ رابطے کیے ہیں۔ یہ اچھی علامت ہے۔

امریکہ کے لیے اب جنگ کو لمبا کرنا آسان ہے نہ راستے میں چھوڑنا ممکن ہے کہ ایرانی جنگ امریکہ کے لیے اب ایک کمبل بن گئی ہے۔ ایران کے لیے اس جنگ کو روکنا آج بھی ضروری ہے اور کل بھی مگر اس کی کوشش بظاہر یہ بھی ہے کہ وہ امریکی و اسرائیلی مفادات اور خواب دونوں کو ضرب لگا کر بکھیر دے۔

اگر درمیانہ راستہ کوئی ہو سکتا ہے تو وہ عرب ملکوں، پاکستان اور چین کے توسط سے ہی ہو سکتا ہے۔ بلاشبہ اس درمیانی راستے کو تلاش کرنے کے لیے ان ملکوں کو اپنے 'فرنٹ ڈور' اور 'بیک ڈور' دونوں طرح کے سفارتی چینلز کو اختیار کرنا ہوگا۔ نیز یورپی ملکوں کو بھی اعتماد میں لینا ہوگا۔ کہ اسرائیل کے خوابوں کی بھینٹ کس کس ملک اور کس کس خطے کی معیشت اور امن کو چڑھایا جاتا رہے گا۔ اگر اس جنگ کو روکنے کا اختیار بھی صرف جنگ کرنے والوں کے ہاتھ میں رہا تو ایران والے حالات دیگر ملکوں کو بھی آج نہیں تو کل ضرور دیکھنا پڑ سکتے ہیں۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ ان ملکوں میں حالات کی ترتیب، رفتار اور انداز مختلف ہو مگر حتمی نتائج کی نوعیت و ہیئت ایک ہی ہو گی۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size