فیصلہ کن ایرانی انتخاب اور خطے کا علاقائی استحکام

ڈاکٹر ماجد رفیع زادہ
ڈاکٹر ماجد رفیع زادہ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 11 منٹ

بہت سی قلیل مدتی پیش رفت اور فوری فیصلوں کے متقاضی معاملات کو ایک طرف رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو ایران کے لیے اہم ترین معاملہ ایک طویل مدتی انتخاب کا ہے۔' کیا ایرانی حکومت کو ایک مثبت اور تعمیری انداز کی ایک اچھے پڑوسی کی طرح اپنے اڑوس پڑوس کے لیے ایک تعاون کرنے والی حکومت بننا چاہتی ہے۔'

مگر یہ اپروچ اور فیصلہ ایک حربے کے طور پر اختیار کردہ ایڈجسٹمنٹ ہو سکتا ہے نہ ایک عارضی اور وقتی نوعیت کی جمع تفریق کی بنیاد پر لیا گیا راستہ۔ بلکہ یہ ایک اہم تدبیر ہے جو ایک تذویراتی دوراہے پر موجود ہوتے اختیار کرنا ضروری ہے۔ کس سمت میں جانا ہے اور کس راستے سے جانا ہے۔ اس ناطے ایران کی اختیار کی گئی سمت اور راستہ ظاہر کرے گا کہ وہ لڑائی جھگڑوں کے ایک دائرے میں الجھا رہنا چاہتا ہے یا ایک استحکام کی قوت کے طور پر اپنے آپ کو مشرق وسطیٰ میں تعاون اور خوشحالی کے لیے بروئے کار لانے کا خواہاں ہے۔

ایران کا اس بارے میں فیصلہ نہ صرف اس کی خارجہ پالیسی کے تناظر میں دور رس اثرات کا حامل ہو گا بلکہ خود اس کے اندرون میں اس کی حکومت کی جائزیت اور اقتصادی مستقبل کی بھی نشاندہی کا موجب بنے گا۔ ایک تعمیری سوچ اور کردار رکھنے والے ملک کا تاثر پیدا کرنے کے لیے ایران کو اپنی قومی ترجیحات کو نئے سرے سے دیکھنا ہوگا، نظریاتی توسیع پسندی کی پالیسی تبدیل کر کے ایک عملیت پسند حکمرانی اختیار کرنا ہوگی۔

اس سلسلے میں ایران کو علاقائی اور عالمی سطح پر بھی یہ اشارے دینا ہوں گے کہ وہ بالکل ایک نئے سفر کا آغاز کر رہا ہے۔ صفر سے آغاز۔ تاکہ دوسروں کے ساتھ باہمی مفاد کے رشتے میں منسلک ہو جائے۔ اس ضروری تبدیلی کے بغیر عارضی اور وقتی نوعیت کی پیش رفت تو ہو سکتی ہے۔ مگر بامعنی اور پائیدار پیش رفت کا تصور ناممکن ہوگا۔ اس بامعنی تبدیلی کے بغیر سفارتی میدان میں کاوشیں ہوں یا کشیدگی اور تصادم کی نت نئی شکلیں سب کچھ عدم بھروسے کے گہرے سایوں کی زد میں ہی رہے گا۔

فرقہ واریت کا خاتمہ اور علاقائی سطح پر بھروسے کی تعمیر

سب سے پہلے ایک بامعنی ٹرانسفارمیشن کی ضرورت ہوگی تاکہ ایران کے فرقہ وارانہ خدوخال کو فیصلہ کن انداز روک کر علاقائی استحکام کی پالیسی کے اصولوں سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔ برسوں سے فرقہ وارانہ افتراق نے خطے میں عدم اعتماد کی فضا اور دشمنی کو بڑھاوا دیا ہے۔ یہ مناقشت ایران اور خطے کی سنی ریاستوں کے درمیان بطور خاص رہی ہے۔ اب اس کے برعکس ایک تعمیری ایران ایسی سفارتی پالیسی کا حامل ہونا چاہیے جو سب کو ساتھ لے کر چلنے والی ہو۔ ایسی سفارتی پالیسی جو مذہبی و نظریاتی فرق سے بالا تر ہو اور دوطرفہ مفادات کے تحفظ کے علاوہ باہمی اشتراک کی بنیاد پر ہو۔

اس طرح کی تبدیلی کا مطلب خطے میں دشمنی کا کامل خاتمہ اور پڑوسی مملکتوں کے خلاف عدم استحکام کی اپروچ کا اختتام ہوگا۔ کوئی بالواسطہ دباؤ ہوگا اور 'پراکسیز' کے ذریعے کوئی لڑائی اور تصادم کیا جائے گا۔ بلکہ اس کے برعکس ایران اعتماد سازی کے اقدامات کو اپنی ترجیح بنائے گا۔ معاشی تعاون کے فروغ پر توجہ دے گا۔ اس پالیسی کے نتیجے میں وقت کے ساتھ ساتھ بے چینی اور کشیدگی میں کمی آئے گی۔ بین المملکتی سرمایہ کاری کے رجحان میں اضافہ ہوگا۔ حتیٰ کہ علاقے میں ابہام اور بے یقینی کی جگہ واضح سمت میں نظر آنے والا استحکام اور نیا دور شروع ہو جائے گا۔ اس سے صرف ایران کا نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ کے سبھی ملکوں کا فائدہ ہو گا۔

'پراکسیز' کا خاتمہ اور دوسروں کی خود مختاری کا احترام

'پراکسیز' کی حمایت کا مکمل خاتمہ کرنا ہوگا۔ اگرچہ 'پراکسیز' کی سرپرستی کی پالیسی ایرانی خارجہ پالیسی کا سالہا سال سے مرکزی اصول ہے۔ اسی کو عدم استحکام اور تنازعات کے لیے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ اسی ایرانی پراکسیز کی حکمت عملی نے لبنان، عراق اور یمن وغیرہ میں ریاستی اداروں کو متحرک رکھا اور ان ملکوں کی اندرونی تقسیم کو گہرا کیے رکھا۔ اس پالیسی نے علاقائی سطح پر دشمنی کو شدید تر کیا۔ دوسرے ملکوں میں مداخلت کی۔ ان کی خود مختاری کو مجروح کرنے کی کوشش کی۔ نیز انتقامی کارروائیوں کو فروغ دیا۔

لیکن اب ایک تعمیری سوچ اور شناخت کی طرف آتے ہوئے ایران کو حقیقی معنوں میں اور حقیقی ارادے کے ساتھ تمام قوموں کی خود مختاری و سلامتی کا احترام کرنا ہوگا۔ پراکسیز کی سوچ اور پالیسی کو ترک کرنا ہوگا۔ بلکہ ان سے الگ راستہ لینا ہوگا۔

اس راستے پر آنے سے نہ صرف ایران کے ان ملکوں کے ساتھ تناؤ میں کمی ہو سکے گی بلکہ سفارتی تعلقات کی نارملائزیشن کا بھی دروازہ کھل سکے گا۔ مراد وہ ملک ہیں جو فی الحال ایران کو شک بھر نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔

واقعہ یہ ہے کہ پراکسیز سے پلٹ کر ایران کے سفارت کاری کی طرف آجانے سے ایران نازک اور کمزور ہوچکے خطوں کو استحکام دلانے میں ایران کا کردار اہم ہو سکتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ مشرق وسطی کو طویل تر ہو چکے تنازعات کو امن کی طرف لے جانے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

جوہری تنازعہ طے کرکے کشیدگی روکنا

جوہری تنازعہ ایران کے عالمی برادری کے ساتھ تعلقات کی تشکیل میں سب سے زیادہ آڑے آنا والا معاملہ ہے۔ یہ معاملہ اہم بھی ہے اور حساس اور نازک بھی۔ اگر ایران خود کو ایک ذمہ دار، مثبت اور تعمیری کھلاڑی کے طور پر سامنے لانا چاہتا ہے تو اس کے لیے لازم ہے کہ اپنے جوہری منصوبے سے متعلق شکوک و شبہات کو دور کرے اور تنازعے کو شفاف طریقے کے ساتھ دیر پا بنیادوں پر حل کرنا قبول کرے۔

اس سلسلے میں شکوک وشبہات کا متواتر جاری رہنا فطری طور پر ترقی کے امکانات کو خراب کرنے اور کشیدگی کو بڑھانے کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ جوہری مسئلہ حل کرنے میں ناکامی سے علاقے میں ہتھیاروں کی دوڑ بڑھے گی۔ دوسری ریاستیں بھی جوہری ہتھیاروں کا حصول ممکن بنانے کے لیے کوششوں پر مجبور ہوں گی۔ نتیجہ پھر سے خطے میں سلامتی کا ماحول خطرے سے دوچار ہونے کی صورت نکلے گا۔ جبکہ ایران کی طرف سے شکوک و شبہات کو ختم کرنے کی پالیسی جوہری عدم پھیلاؤ کو تقویت دے گی۔

جیسا کہ اوپر کی سطور میں کہا گیا ہے ایرانی جوہری پروگرام سب سے زیادہ اہم اور لمبے تنازعے کا باعث ہے۔ اس تنازعے کے خاتمے سے ایران اپنی اقتصادی بحالی اور پائیدار تعاون کی راہ پا سکتا ہے۔

توسیع پسندی کے بجائے داخلی ترقی ترجیح

یہ چوتھا نکتہ ہے جو ایرانی ترقی و خوشحالی اور امن و سکون کا ذرہعہ بن سکتا ہے۔ ایران کو دوسرے ملکوں میں اپنا اثر رسوخ بڑھانے کے بجائے اپنے عوام کی بہبود و ترقی پرتوجہ دینی چاہیے۔ کئی برسوں سے ایران کے دستیاب وسائل علاقے میں ایرانی انقلاب کے حاجتوں اور ضرورتوں کے لیے تشکیل دی گئی حکمت عملی کی نذر کیے جاتے رہے ہیں بلکہ یہ سلسلہ جاری ہے۔ حتیٰ کہ ملکی ترقی کی قیمت پر یہ سلسلہ جاری رکھا گیا۔

ضرورت یہ ہے کہ پائیدار مسقبل کے لیے ڈھانچے پر اخراجات کیے جائیں۔ سرمایہ کاری اور عوامی روزگاروں پر وسائل خرچ کیے جائیں۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ اپنے شہریوں کا معیار زندگی بہتر کیا جائے۔ ملک کے اندرونی حالات اور ضرورتوں پر توجہ دی جائے۔ تاکہ عوام کا اعتماد بڑھے۔ اس سے سماجی ترقی اور قومی استحکام کے امکانات میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایران کو چاہیے اس جانب بھی توجہ کرے۔ اپنی توانائی کو معاشی و سماجی ترقی کی طرف موڑ دے۔ تاکہ ایک خوشحال اور اندرونی طور پر مستحکم معاشرے کی تشکیل کرسکے۔

ایرانی نظریہ اور شرق و غرب کا مقابلہ

پانچویں اہم بات یہ ہے کہ ایران کو اب یہ فیصلہ بھی کرنا ہے اسے بین الاقوامی سطح پر خود کو کس طرح پیش کرنا ہے۔ خصوصا اگر مشرق اور مغرب کو الگ الگ بلاکوں کی صورت میں ایک دوسرے سے اختلاف ہو تو ایران کو چاہیے کہ اس اختلاف اور تصادم کو مزید گہرا کرنے کے بجائے عملیت پسندی پر مبنی سوچ اپنائے اور مشرق و مغرب دونوں کے درمیان ایک توازن پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دونوں کے ساتھ تعلقات قائم کرے۔

اس متوازن پالیسی کی وجہ سے ایران کے لیے معاشی مواقع بھی بڑھیں گے۔ اسے جغرافیائی، سیاسی اور سفارتی میدانوں میں بھی اپنی تنہائی کم کرنے کا موقع مل جائے گا۔ اس کا عالمی سطح پر جاری تناؤ اور تصادم کم ہوگا۔ جو ایران کے عام طور الجھ کر رہ جانے کا باعث بنا رہتا ہے۔

نظریاتی تصادم نہیں اقتصادی تعاون کی ضرورت

نئی جہتوں اور منزلوں کو پانے کے لیے ضروری ہے کہ ایران اپنے نظریاتی تصادم کی بجائے معاشی تعاون و قربت کے لیے کوششوں اور امکانات کو بڑھائے۔ دنیا کے ساتھ تجارت اور سفارت کو مؤثر بنائے۔ عالمی مفادات کے فروغ کے لیے جنگ کا میدان نہیں تعاون و ترقی کا میدان اہم ہوگا۔ اس سے ایرانی معیشت کا فروغ ہوگا۔ بین الاقومی سطح پر تصادم اور کشا کش کے بجائے امن و استحکام لانے میں ایران بھی حصہ ڈال سکے گا۔

۔۔۔ اور بے عملی کے مضمرات

مذکورہ بالا پانچ نکات بھی ہیں اور وہ فیصلے بھی جو ایران کو بہتر مستقبل کے لیے بہرحال کرنا ہوں گے۔ یہ پانچوں نکات باہم ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ یہ ایک طویل مدتی اور پائیدار استحکام و ترقی کی طرف لے جانے والے نکات ہیں۔

اس لیے ایک نکتے پر عمل یا ایک فیصلہ دوسرے سے نہ صرف جڑا ہوا ہے بلکہ اس کے بغیر ادھورا ہے۔ ایک فیصلہ دوسرے کو تقویت دیتا ہے اور ایک سے دوری کے نتائج و ثمرات میں بہتری لا ئی جاسکتی ہے۔ لہذا ان سبھوں کو ایک ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔

عمل کی صورت میں نتیجہ اعتماد اور تعاون و ترقی کی صورت آئے گا۔ ایک اچھے دور کا آغاز ہو گا۔ مگر ایک جامع تبدیلی کے بغیر عارضی سفارتی کامیابی یا تنازعات وقفہ تو لا سکتی ہے۔ ان سے نجات نہیں دلا سکتی۔ مراد یہ کہ تناؤ اور تصادم کا خاتمہ ان نکات پر عمل سے ممکن اور عمل کے بغیر ناممکن رہے گا۔ یہ ایران کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس کا انتخاب کیا ہے۔ کہ وہ ایک تعمیری اور مثبت اداکار کے طور پر سامنے آنا چاہتا ہے یا اسی ڈگر پر چلنا چاہتا ہے جو صرف تصادم اور دشمنی کی طرف لے جاتا ہے اور جس پر ایران ایک عرصے چل رہا ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size