جنگ آپشن نہیں مگر بڑی جنگوں سے بچنے کے لیے یہی آپشن ہے!

نجم الحسن عارف
نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

جنگ کبھی بھی ایسی آپشن نہیں ہوسکتی جس کی کوئی شخص حمایت کرے- کیونکہ اس کا نتیجہ فوری تباہی کے علاوہ تباہ کن طویل مدتی مضمرات بھی ہوتے ہیں۔ جو صرف جنگ میں مصروف اقوام کو نہیں بھگتنا پڑتے بلکہ آج کی باہم جڑی ہوئی دنیا کے ہر ایک ملک کو متاثرکرتے ہیں۔ جنگی اثرات جنگ زدہ محض اڑوس پڑوس تک ہی محدود نہیں رہتے بلکہ دور دور تک نکل جاتے ہیں۔ آج کے 'گلوبل ویلیج' نے جنگوں کو 'گلوبل وار' کی شکل دے دی ہے۔

لیکن اس کے باوجود اس وقت بھی ماضی کی غیر مہذب اقوام کے تسلسل کے طور پر کچھ اقوام، ریاستیں اور قیادتیں اسی جنگی تباہی کے لیے بروئے کار ہیں۔ یہ اقوام جنگوں کو اپنے صدیوں پرانے وحشیانہ اور تباہ کن انداز میں شروع کرنے اور لڑتے ہی چلے جانے کے جنون میں مبتلا ہیں۔ ان خود غرضانہ جنگوں نے دنیا کو عملاً دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک 'قابیل دنیا' ہے اور ایک 'ہابیل دنیا' ہے۔ 'قابیل دنیا ' قاتلوں کی دنیا ہے اور ہابیل دنیا مقتولوں کی دنیا بن کر رہ گئی ہے۔

'قابیل دنیا' قتل و غارتگری کو اپنے طریق زندگی کے طور پر اپنائے ہوئے ہے۔ اس کی ایک انتہا دوسری جنگ عظیم رہی، جب کروڑوں انسانوں کو قابیل بنی ہوئی اقوام نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس وحشیانہ جنگی جنون کا نکتہ عروج ناگاساکی اور ہیروشیما میں نظر آیا۔ اس منظر سے آج بھی دنیا لرز جاتی ہے۔

مگر بڑی چالاکی یہ کھیلی گئی کہ ناگاساکی اور ہیروشیما کی تباہی کو انسانی تاریخ اور آنکھوں سے اوجھل رکھنے کے لیے ایک ایسا 'فنامنا' سامنے لایا گیا جسے دنیا جنگ عظیم کے زمانے سے ہی 'ہولوکاسٹ' کے نام سے دو کے پہاڑے کی طرح یاد کرنے پر مجبور رہی ہے۔

'ہولوکاسٹ' بلاشبہ اپنے وقت کا بدترین واقعہ ہوگا۔ مگر کیا ناگاساکی اور ہیروشیما پر جوہری بم گرا کر انسانی تاریخ کو جس ہولناک تباہی سے دوچار کیا گیا وہ ایسا واقعہ نہیں تھا کہ اسے اور اس کے تباہی کے تخلیق کاروں کو آج کم از کم 'ہولوکاسٹ' کے مجرموں جتنا قابل گردن زدنی سمجھا جاتا۔

یقیناً یہ نہیں ہونے دیا گیا۔ بلکہ جادوئی چالاکی اور ہوشیاری کے ساتھ پراپیگنڈہ اور بیانیہ ایسا گھڑا گیا کہ 'ہولوکاسٹ' ہی نمایاں طور پر زیر بحث رہا۔ یہ کہنے میں دقت نہیں کہ مصنوعی بیانیہ اس دور کی ضرورت تھی۔ جیسا کہ اسرائیل کی صورت میں ایک جعلی اور دو نمبر نسل کشی کے انداز میں ایک 'ڈب کھڑبی' ریاست کی تخلیق کی ضرورت تھی۔ تاکہ جنگ عظیم دوم کے بعد جنگوں اور جنگی تباہیوں کو یورپ سے نکال کر ایشیا، مشرق وسطیٰ یا افریقہ وغیرہ میں منتقل کردیا جائے اور یہاں کے وسائل اور معدنیات کو یورپ و امریکہ کے ہاں منتقل کرنے کا محفوظ بندوبست کر لیا جائے۔ یہ تیاری عملاً پہلی جنگ عظیم کے ساتھ ہی شروع کردی گئی تھی جو بالآخر 1948ء میں مکمل کرلی گئی۔

آج 78 برس بعد بھی جس دور میں یہ مشرق وسطیٰ، ایشیا اور افریقہ گزر رہے ہیں۔ یہ اسی 1948ء کی بیج کاری اور ہوشیاری و عیاری کا نتیجہ ہے۔ قابیل کے پیروکار عالمی طبقے کو انسانی خون کی ایسی لت لگ چکی ہے کہ اسے ہر سال دو سال بعد ہزاروں لاکھوں انسانوں کا خون پینا ہوتا ہے۔ بستیاں اجاڑنی ہوتی ہیں اور لاکھوں انسانوں کو بے گھر کر کے اپنے اندر چھپی وحشت اور دہشت کو سکون دینے کی سبیل نکالنا ہوتی ہے۔

28 فروری 2026ء سے شروع کی گئی جنگ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی اور ہے۔ جب اسرائیل نے امریکی صدر اور امریکہ کو اپنے ساتھ ملا کر ایک اقتصادی اعتبار سے تباہ کر دیے گئے ملک پر مشترکہ جنگ مسلط کر دی۔ لگ بھگ چالیس دن کی اس جنگ میں محسوس ہوا کہ ایک سپر پاور اور ایک سپر پاور بننے کے جنون میں مبتلا ریاست کے لیے یہ جنگ جیتنا یا اس جنگ کے اہداف حاصل کرنا اس قدر آسان نہ تھا جس قدر خیال کیا گیا تھا۔ گویا مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق جنگ بندی کا ڈول ڈالا گیا۔

جنگ بندی کے مذاکرات میں اتار چڑھاؤ آتے رہے یا پیدا کیے جاتے رہے۔ جو بھی ہوا اس کا نقصان جنگ میں مصروف طاقتوں اور ملکوں سے زیادہ اس جنگ اور ان جنگی ملکوں کے پڑوسیوں اور میزبان ریاستوں کا ہوا۔ امید آ لگی تھی کہ جون کے پہلے ہفتے میں کسی طرح امریکہ ایران معاہدہ ہو جائے گا اور خطے کے عوام اور مملکتیں سکھ کا سانس لے سکیں گی۔ مگر یہ امید پوری ہوتی نظر آنے کو مشکل بنایا جا رہا ہے۔

3 جون کا دن اور اس سے پہلے کے دو تین دن پھر سے جنگی الارم کے دن بن گئے ہیں۔ یہ محض دباؤ بڑھانے کی کوشش نہیں ہے کہ ایک طرف ایران اور اس کے آس پاس والوں کو ڈرا ڈرا کر جو کچھ منوایا جا سکتا ہے منوا لیا جائے۔ بلکہ یہ ایک مجبوری بھی ہے۔

اکتوبر اسرائیل کے عام انتخابات کا مہینہ ہے۔ ادھر امریکہ میں ماہ نومبر وسط مدتی انتخابات کے لیے مقرر ہے۔ ممکنہ انتخابی جنگی صورت حال دونوں حملہ آور ملکوں میں شروع ہونے کے قریب تر ہے۔ لیکن وہ جو پرانے وقتوں میں اردو یا پنجابی کا ایک ملا جلا محاورہ ہوتا تھا 'روتے کیوں ہیں کہ تھالی میں کچھ نہیں'۔ بدقسمتی کہیں یا عالمی خوش قسمتی کچھ بھی کہہ لیں صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو اس ساری جگ ہنسائی کروانے کے باوجود ایران جنگ سے ابھی تک کچھ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ گویا دونوں کی تھالیاں خالی ہیں۔ اس لیے رونے دھونے کی صورت دونوں جنگی رہنماؤں اور اتحادیوں کے درمیان تازہ فون کال رونے دھونے کی ایک باز گشت کی صورت دنیا میں گونج رہی ہے۔ لیکن اس مبینہ گالیوں سے آلودہ فون کال کے بارے میں کچھ وثوق کے ساتھ کہنا مشکل ہے کہ اس کی روایت امریکہ سے آئی ہے۔ جبکہ صدر ٹرمپ نے اپنی ساکھ کی لٹیا ڈبونے کے ساتھ ساتھ امریکی ساکھ کی بھی اچھی خاصی تباہی کر دی ہے۔

تو ۔۔ اب کیا ہونا چاہیے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح شروع کی سطور میں کہا گیا کہ جنگ کی حمایت کبھی بھی آپشن نہیں ہوسکتی۔ لیکن جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے مل کر آدھی سے زیادہ دنیا کی آبادی کو پتلی تماشہ بنا کے رکھ دیا ہے۔ شاید لازم ہوگیا ہے کہ اب یہ جنگ اپنے منطقی انجام تک چلنی ہی چاہیے۔ تاکہ اکتوبر کے اسرائیلی انتخابات اور نومبر میں امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے ذریعے عوام کو جنگوں کے بارے میں اپنا 'ورڈکٹ' دینے کا کھلا موقع مل جائے۔

اگر ایشیا اور مشرق وسطیٰ سمیت بقیہ دنیا کے لوگوں نے اگلے تین ماہ جنگ برداشت کرلی تو بہت امید ہے کہ اگلی کئی دہائیوں کے لیے جنگ سے نجات ملنے کی صورت پیدا ہو جائے گی۔ ۔۔۔۔۔۔ اور دنیا کو ایک بار پھر تعلیم، صحت، ترقی و خوشحالی کے لیے 'کھب' کر کام کرنے کا موقع مل سکے گا۔ اگر امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ فوری تھم گئی تو اکتوبر اور نومبر کے انتخابی عمل کے بعد ایک بار پھر دنیا کو کسی بڑی جنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size