یورپ طالبان مصافحہ: جب اقدار سودے بازی کی زد میں ہوں

یوجینیا میخائلدی
یوجینیا میخائلدی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 11 منٹ

طالبان کے پانچ عہدے داروں نے 23 جون کو یورپی یونین کے عہدے داروں کے ساتھ برسلز میں بند کمرے کا اجلاس کیا ہے۔ برسلز ہی وہ شہر ہے جہاں یورپین کمیشن کا مرکز ہے۔ اسی برسلز میں یورپین پارلیمنٹ بھی ہے اور نیٹو کے ہیڈ کوارٹرز بھی۔ یورپی یونین کی طالبان کے ساتھ مخاصمت کی ایک لمبی تاریخ بھی ہے۔ مگر اسی شہر میں 15 رکنی یورپی یونین کے نمائندے 23 جون کو طالبان کے ساتھ بند کمرے میں طالبان کے میزبان کے طور پر بیٹھے تھے۔

یہ پہلا موقع تھا کہ یورپی یونین طالبان کی میزبانی کر رہی تھی۔ نیٹو ممالک کی افواج کے 15 اگست 2021 کو کابل سے انخلاء اور طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد یہ ایک دلچسپ منظر اور ماحول تھا۔ صرف پانچ سال بعد کابل سے طالبان نمائندے برسلز میں اس دوستانہ امکانات تلاش کرنے کے لیے سجی میز پر تھے۔

اس سے پہلے بیلجیئم نے ان پانچ طالبان نمائندوں کو ایک دن کے لیے ویزوں کا اجراء کیا تھا۔ ان کے ساتھ ہونے والے اس غیر معمولی اجلاس کی جگہ کا بھی اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ مراد یہ کہ حساس امور کے باعث جگہ کو خفیہ رکھا گیا تھا۔ لیکن اہم بات یہ رہی کہ اس ملاقات کا سرکاری یا باضابطہ طور پر بیلجیئم نے اعتراف کیا اور نہ ہی یورپی یونین نے اپنے طالبان کے ساتھ ان رابطوں کو اس ملاقات کے تناظر میں تسلیم کیا۔ بعد ازاں صرف یہ مانا گیا کہ یہ ایک تکنیکی نوعیت کا رابطہ تھا جو مہاجرین سے متعلق امور پر تبادلہ خیال پر مرتکز رہا۔ خیال رہے بیلجیئم یا یورپی یونین نے ابھی تک طالبان حکومت کو سرکاری طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔

اگرچہ طالبان کے ساتھ یورپی یونین کے ان رابطوں پر تنقید کرنے والوں نے معاملہ مکمل طور پر اس کے علاوہ ہی دیکھا۔ خصوصاً ایسے ماحول میں جب یورپی یونین کے انسانی حقوق کے لیے بیانیے سے خود اس کی امیگریشن سے جڑے اقدامات کا ٹکراؤ ہو رہا ہے۔

وعدے ابھی پورے کرنا باقی ہے

سال 2020 میں دوحہ معاہدے میں طالبان نے جو وعدے کیے تھے۔ ان کو برسلز کی اس ملاقات میں نظر انداز کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ان وعدوں میں سے اس کمٹمنٹ کی صورت تھا کہ طالبان اپنی سرزمین کسی کو بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ تاکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ان دہشت گرد گروپوں سے کوئی خطرہ لاحق نہ رہے۔ افغانستان کے مختلف گروپ بھی اپنے باہمی مکالمے کے ذریعے مشترکہ سیاسی حکومت کے حوالے سے کامیاب نہیں ہو سکے۔ یوں دوحہ معاہدے کے چھ سال بعد اور کابل میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے تقریباً پانچ سال بعد بھی معاملہ جوں کا توں ہے اور معاہدے پر عمل نہیں ہو سکا ہے۔

اقوام متحدہ اور امریکہ کے جائزے جاری ہیں۔ ان کی دستاویزات میں اب بھی القاعدہ ، ٹی ٹی پی ، داعش خراسان کی باقیات سرگرم ہیں۔ اگرچہ طالبان کے اس کے خلاف آپریشنز بھی رہے ہیں۔ اس دوران روسی سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری سرگئی شوئیگ نے دعویٰ کیا ہے کہ اب بھی 18000 سے 23000 جنگجوؤں سے زائد افغانستان میں موجود اور سرگرم ہیں۔

2022 میں القاعدہ کے لیڈر ایمن الظواہری کی کابل میں ہلاکت کا واقعہ حقانی گروپ کے ایک شخص کی ملکیتی رہائش پر ہوئی تو طالبان کی طرف سے معاہدے کی پابندی پر اٹھنے والے سوال مزید سنگینی اختیار کر گئے ہیں۔ اب برسلز میں طالبان کی یورپی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کے ایک ہفتے بعد ایک بار پھر یہی سوال اس وقت ابھر کر سامنے آگئے ہیں۔ جب پاکستان نے یکم جولائی کو افغانستان کی طرف سے چار ڈرون طیاروں کو مار گرانے کی اطلاع دی۔ افغانستان سے اڑائے گئے یہ ڈرون طیارے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے لیے روانہ کیے گئے تھے۔ جبکہ طالبان کا کہنا ہے کہ انہوں نے داعش کے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں موجود اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش میں بھیجے تھے۔ سرحد پار سے پاکستان میں دہشت گردی کے ایک طویل سلسلے کے یہ تازہ ترین واقعات میں سے تھے اور اس بات کی یاد دہانی تھی کہ کس طرح دوحہ معاہدے کے دوران کیے گئے وعدوں پر عمل نہیں ہو رہا۔

افغانستان میں خواتین پر پابندیاں بھی جاری ہیں اور اب ان میں وسعت اس طرح آئی ہے کہ تقریباً 222 لاکھ بچیوں کے سیکنڈری سکول میں جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ خواتین کی تحریک کے خلاف اقدامات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ انہیں کام کرنے کی اجازت ہے نہ منظر عام پر لوگوں کے سامنے آنے کی۔ اقوام متحدہ کی پالیسی سازی سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جنسی امتیاز کی بنیاد پر اختیار کردہ اقدامات ہیں۔ اس کے ساتھ ہی 2 کروڑ 19 لاکھ افغانی بنیادی انسانی امداد سے بھی محروم ہیں۔

ہجرت کے دباؤ کی اخلاقی قیمت

برسلز اپنے ہاں آنے کے لیے ہجرت کی پالیسی کو ایک خاص انداز میں ترتیب دیتا ہے۔ اس یورپین ملک میں 2025 میں 63 ہزار 900 افغانیوں نے جلا وطنی اختیار کرنے کے لیے درخواستیں دیں۔ افغانستان اس حوالے سے دوسرا بڑا ملک تھا جس میں اتنی بڑی تعداد میں جلا وطنی اختیار کرنے کے خواہشمند افراد سامنے آئے۔ اس سے زیادہ تعداد وینزویلا کی رہی۔ جنہوں نے بیلجیئم میں رہائش اختیار کرنا چاہی یا جلاوطنی لینے کی کوشش کی۔ جون میں برسلز میں ہونے والی اس ملاقات کے بعد یورپی کمیشن کے وفود ترتیب دیے گئے ہیں، جو جنوری میں کابل جائیں گے۔ تاہم یورپی کمیشن کی ترجمان نے اسی امر پر اصرار کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ رابطے محض تکنیکی نوعیت کے تھے اور اس کا مطلب طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنا نہیں ہے۔

البتہ کابل میں موجود طالبانی ترجمان نے ایک مختلف انداز میں اس برسلز کی ملاقات کو تاریخی قرار دیا کہ یہ پہلا موقع تھا کہ امارات اسلامیہ افغانستان کا وفد یورپی کمیشن کے ساتھ اور یورپی ریاستوں کے ساتھ برسلز میں ملنے گیا۔ طالبان کے ترجمان نے مزید کہا کہ برسلز میں ہونے والی اس ملاقات کا ایجنڈا افغان شہریوں کو یورپی ملکوں سے جلا وطن کرنے سے بالاتر تھا اور اس میں سفارتی رابطوں کی موجودگی، اعتماد سازی کے اقدامات اور شہریوں کی پروقار طریقے سے واپسی کے معاملات زیر بحث آئے۔ مراد یہ کہ طالبان کے نمائندے خالصتاً ایک سفارتی پیش قدمی کر کے آئے ہیں۔ جبکہ برسلز کے حکام ایسا ماننے کو تیار نہیں۔

دوسری جانب پاکستان نے بھی اپنے ہاں سے غیر قانونی طور پر موجود افغانیوں کو واپس دھکیلنے کے لیے کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ 30 مئی سے دو جولائی تک 66 ہزار افغانیوں کو پاکستان سے واپس بھیجا گیا ہے۔ طالبان کے ریفیوجی کمیشن نے اس تعداد کی تصدیق کی ہے۔ اس کے مطابق زیادہ تر تعداد کو جبری طور پر طورخم، سپنبولدک وغیرہ سے واپس بھیجا گیا ہے۔

لیکن پاکستان یورپی ملکوں کی طرح کا ملک نہیں ہے۔ اسے افغانیوں کو واپس بھیجنے کے مضمرات کا براہ راست سامنا ہے۔ جو اس کے ہاں عدم استحکام، دہشت گردی اور غیر قانونی ہجرت کی صورت میں موجود ہیں۔ برسلز کے مطابق اخلاقی باتیں اس وقت مشکل محسوس ہوتی ہیں جب اپنے گھر پر دباؤ آتا ہے۔

پاکستان کی طرف سے ایک طویل عرصے سے یہ کہا جا رہا ہے کہ کابل کے ساتھ رابطے استوار کرنا اس سے پہلے کہ وہ انسداد دہشت گردی کے لیے ایک قابل عمل طریقہ اختیار نہ کرے، خطرناک ہوگا۔ اس سے طالبان پہلے سے زیادہ دیدہ دلیری پر اتر آئیں گے نہ کہ ان میں اعتدال پیدا ہوگا۔

یورپ کے اداروں میں بھی اس تضاد کو بغیر نوٹس کیے نہیں جانے دیا گیا۔ جہاں یورپی پارلیمنٹ کے سوشلسٹ ممبر سیسیلیا اسٹراڈا نے اس ملاقات کو شرمناک قرار دیا۔ یورپی یونین کی گرین ممبر ساسکیا برک مونٹ نے کہا یہ ناقابل قبول ہے کہ طالبان کے وفد کی میزبانی کی گئی ہے اور یہ میزبانی حکومت کی طرف سے کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا یہ وہ طالبان ہیں جنہوں نے منظم طریقے سے خواتین کے حقوق پر قدغنیں لگا رکھی ہیں۔ نوبل انعام یافتہ ملاالہ یوسفزئی کو بھی جنہیں اس ملاقات سے سخت دھچکہ پہنچا ہے کہ یورپی یونین طالبان سے بات چیت کر رہی ہے۔ اس سے خدشہ پیدا ہوا ہے کہ یورپ طالبان کی حکومت کو قانونی جواز دینے جا رہا ہے جو آج بھی بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

یورپ جہاں نئی نظیر قائم کی جا رہی ہے

یورپ ان امور کو تنہائی میں بیٹھ کر نہیں کھول رہا ہے۔ جب سے روس نے 2025 میں طالبان حکومت کو تسلیم کیا ہے اور چین نے 2023 سے افغانستان میں سب سے پہلے اپنا سفیر نامزد کیا ہے۔ ادھر خاموشی سے طالبان کے ساتھ ملاقات کا دروازہ کھول کر یورپ نے خود کو طاقت کے ان ستونوں میں شامل کر لیا ہے جو طالبان کے ساتھ مشغولیت کی کوشش کی ہے۔

کابل کو ہر رعایت دی گئی ہے۔ اس کے باوجود کہ انسانی حقوق کے حوالے سے کوئی واضح ضمانت نہیں حاصل کی گئی۔ نہ ہی کابل نے کوئی ایسا اشارہ دیا ہے۔ بقیہ حکومتیں دیکھ رہی ہیں ، کہ بین الاقوامی سفارتی میدان میں ابھی تک یہ ایشو کتنے اہم ہیں اوران کی اہمیت کس قدر کم ہو گئی ہے۔ یورپ نے انسانی حقوق کے امور پر پچھلی کئی دہائیاں خرچ کی ہیں۔

یہی معاملہ جمہوریت اور جمہوری اصولوں کے حوالے سے رہا کہ اس کی خارجہ پالیسی میں جمہوریت کی حیثیت مرکزی ستون کی رہی۔ خواہ اس کے لیے کچھ بھی قیمت ادا کرنا پڑی۔ لیکن اب جب طالبان سے برسلز میں ملاقات کی گئی ہے تو یورپ اصول پسندی کی بجائے عملیت پسندی کی طرف مائل ہے کہ ہجرت کے حوالے سے بھی جب معاملہ اپنے گھر کے حوالے سے اہم ہوا تو اصول تبدیل ہوگئے اور اس تناظر میں افغان خواتین ہیں کہ ان کے پاس افغانستان میں میز پر کوئی جگہ نہیں ہے۔ بلکہ انہیں اس انتظار کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ دیکھیں اب دنیا میں کیا کیا تبدیلیاں آنے والی ہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size