.

کیا اتاترک صرف ستائیس فیصد ترکوں کے ہیرو ہیں؟

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بچپن میں پرائمری اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران جب میرے بڑے بھائی عرفان حمید کو ہمارے ماموں ڈاکٹر دائود احمد کی جانب سے’’ ایک سو بڑے آدمی ‘‘کے زیر عنوان کتاب تحفے کے طور پر ملی تھی تو میں اس کتاب کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا تھا اور اس کتاب کو چند ہی دنوں میں پڑھ ڈالا تھا۔

اس کتاب میں ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کی شخصیت کو نمایاں جگہ دی گئی تھی۔ میں پہلی باراُس وقت اِس عظیم ہستی، ان کی زندگی اور ان کے کارہائے نمایاں سے آگاہ ہوا تھا ۔گھر کے بزرگوں کو جن میں میری دادی پیش پیش تھیں کو غازی مصطفیٰ کمال کے بارے میں بہت سے اشعار یاد تھے جن میں سے پنجابی زبان میں ’’روندئے نئیں ثمرنہ دے بال‘‘ گنگنایا کرتی تھیں جبکہ والد صاحب سمیت گھر کےدیگر بزرگ غازی مصطفیٰ کمال اتاترک کے کارناموں، برپا کردہ انقلابات اور ملک کی آزادی کے لئے کی جانے والی جدوجہد سے متعلق داستان اور کہانیاں سنایا کرتے تھے۔پھر جب ہائی اسکول میں قدم رکھا تو ہمارے نصاب میں غازی مصطفیٰ کمال اتاترک سے متعلق ایک سبق موجود تھا جس کے توسط سے اتاترک کے بارے میں مزید آگاہی حاصل کرنے کا موقع میسر آیا ۔ دوران تعلیم اس بات کا بھی احساس ہو گیا کہ ہمارے ملک کے بانی قائداعظم محمد علی جناح بھی مصطفیٰ کمال اتاترک سے بہت متاثر تھے۔ انہوں نے امریکی صحافی ایچ سی آرمسٹرانگ کی تالیف ’’گرے وولف:دی لائف آف کمال اتاترک‘‘ کو کئی بار پڑھا تھا اور اس کتاب سے بڑے متاثر ہوئے تھے۔ پھر انہوں نے اپنی صاحبزادی کو یہ کتاب تحفے میں دی اور پاکستان میں بھی کمال اتاترک کی طرز کے نظام کو متعارف کرانے کے بارے میں اپنے خیالات سے اپنی صاحبزادی کو آگاہ کیا۔

پاکستانی عوام کے دلوں میں اتاترک سے گہری محبت اور اُنس پاکستان کے قیام سے قبل ہی سے موجود ہے اور آج بھی یہ محبت جاری و ساری ہے۔ اتاترک کو جو عزت و احترام پاکستان میں دیا جاتا ہے ترکی سمیت شاید ہی دنیا کےکسی اور ملک میں اتنا عزت و احترام دیا جاتا ہو۔ اتاترک عالم اسلام کی وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے معرکہ ہائے چناق قلعے اور ترکی کی جنگِ نجات میں اتحادیوں کو ناکوں چنے چبوا کر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا اور نئی مملکت جدید جمہوریہ ترکی کی بنیاد رکھتے ہوئے نہ صرف دیگر اسلامی ممالک کیلئے آزادی کی راہ ہموار کی بلکہ ملک میں اصلاحات اور انقلابات برپا کرتے ہوئے تمام اسلامی ممالک کیلئے ترقی کے راستے بھی کھول دیئے ۔

اتاترک نے ملک میں جمہوری نظام کی بنیاد رکھتے ہوئے ملک میں پہلی سیاسی جماعت’’ ری پبلکن پیپلزپارٹی(CHP) قائم کی۔ اتاترک نے طویل عرصے تک اس سیاسی جماعت کی باگ ڈور اپنے ہی ہاتھوں میں رکھی لیکن خرابی صحت کی بنا پر بعد میں یہ اختیارات عصمت انونو کو منتقل کردیئے۔ اختیارات حاصل کرنے کے بعد ابتدا میں تو دونوں رہنمائوں کے تعلقات خوشگوار فضا میں قائم رہے لیکن اتاترک کے آخری ایام میں ان تعلقات میں سردمہری آتی چلی گئی اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب اتاترک نے عصمت انونو کا چہرہ تک دیکھنے کو گوارہ نہ کیا کیونکہ اتاترک ازمیر میں اُن پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے پیچھے عصمت انونو کا ہاتھ ہونے پر یقین رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ عصمت انونو نے ان کی رضامندی حاصل کئے بغیر ترکی کے مشرقی علاقے درسیم(جس کا نام بعد میں تُنجےلی رکھ دیا گیا) میں بمباری کراتے ہوئے علوی فرقے سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں افراد کو ہلاک کرا دیا تھا جس کا اتاترک کو گہرا دکھ پہنچا تھا۔ اتاترک نے عصمت انونو کی اس کارروائی کے فوراً بعد انہیں پارٹی کی ڈپٹی چیئرمین شپ اور وزارتِ عظمیٰ سے بھی سبکدوش کردیا تھا۔

اتاترک کی وفات کے بعد عصمت انونو نے فوج کے مختلف جنرلوں کے ساتھ ساز باز کرتے ہوئے صدر کے اختیارات سنبھال لئے اور بینک نوٹوں پر اتاترک کی تصویر ہٹا کر اپنی تصویر کو جگہ دینا شروع کردی اور یہ سلسلہ عدنان میندریس کے اقتدار سنبھالنے تک جاری رہا۔ عصمت انونو نے اتاترک کے صاحبِ فراش ہونے کے دور کا فائدہ اٹھا کر محکمہ مذہبی امور کے ذریعے 18 جولائی 1932ء میں ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے ملک بھر میں عربی زبان کی جگہ ترکی زبان میں اذان دینے کا حکم جاری کیا اور 4فروروی 1933ء کو اس پر زبردستی عمل درآمد شرو ع کرادیا گیا جو اٹھارہ سال تک جاری رہا اور عدنان میندریس کے وزیراعظم بننے کے بعد دوبارہ سے عربی زبان میں اذان دینے کی اجازت دے دی گئی اور عصمت انونو کے دور میں مقفل اور اصطبلوں میں تبدیل کی گئی تمام مساجد کو عدنان میندریس ہی کے دور میں دوبارہ کھول دیا گیا۔ ادارہ ِ تاریخِ ترکی کے سابق سربراہ اور نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ یوسف حالاچ اولونےایک پریس کانفرنس کےدوران اتاترک کے دور میں مساجد پر قفل ڈالنے سے متعلق حکم نامے کی دستاویزات پر اتاترک کے دستخط موجود نہ ہونے کے ثبوت فراہم کئے۔

اتاترک اگرچہ بڑے لبرل انسان تھے لیکن انہوں نے کبھی بھی مذہب سے روگردانی نہیں کی تھی بلکہ اپنے دور میں ملک بھر میں تعمیر کی جانے والی تمام عمارتوں یا اداروں کا افتتاح جمعہ کے نماز کے بعد دعا سے کیا کرتے تھے جن سے ان کے مذہب سے لگائو کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔ تاہم انہوں نے غیر اسلامی رسومات اور خرافات کا خاتمہ کیا۔ اتاترک نے ملک کے جید علماء میں سے ایک محمد حامدی ایلمالِیلی سے قران کریم کا ترجمہ اور تفسیر تیار کرائی جس نے ان خرافات کو ختم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا اور اس سے ملک کے تمام فرقوں میں اختلافات کو بھی دور کرنے میں مدد ملی۔ یہ تفسیر جس پر آج بھی ترکی کے تمام علماء متفق ہیں مذہبی لحاظ سے اتاترک کا ایک ایسا کارنامہ ہے جن سے ان کی آخرت بھی سنور جائے گی۔ ان کی نمازِ جنازہ نہ پڑھائے جانے کے جو دعوے کئے جاتے ہیں وہ لغو ہیں تاہم ان کی نماز جنازہ میں بہت کم لوگوں نے شرکت کی تھی اس کی وجہ عصمت انونو کی طرف سے بڑے پیمانے پر نمازِ جنازہ کا اہتمام کروا کر وہ ملک میں سیکولرازم کو خطرے میں ڈالنا نہیں چاہتے تھے جبکہ اتاترک کی ہمشیرہ مقبولہ خانم بڑے پیمانے پر نماز جنازہ پڑھانے کے حق میں تھیں لیکن ان کی اس خواہش کو حکومت نے مسترد کردیا تھا بلکہ ان کو میت کے سرہانے سورۃ یٰسین کے پڑھنے تک کی اجازت نہ دی ۔ اتاترک کے ایک قول سے اتاترک کے لئے مذہب کے کس قدر اہم ہونے کی واضح عکاسی ہو جاتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں’’ جس طرح غیر مذہبی معاشرے کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا بالکل اسی طرح مذہبی تعلیم نہ دینے والے اسکول کا بھی تصور نہیں کیا جا سکتا‘‘۔

اتاترک کی مذہب سے متعلق سوچ پر روشنی ڈالنے کے بعد اب دیکھتے ہیں کہ ان کی قائم کردہ ری پبلکن پیپلز پارٹی کیونکر اتاترک کو صرف اپنی ہی پارٹی تک محدود کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے؟ حالانکہ اتاترک صرف ری پبلکن پیپلز پارٹی کے نہیں بلکہ پورے ترکی کے اور تمام ترک باشندوں کے رہبر، رہنما اور ہیرو ہیں۔ ری پبلکن پیپلز پارٹی کے اس رویّے اور پالیسی سے سب سے زیادہ نقصان ترکی اور اتاترک ہی کو پہنچ رہا ہے۔ ترکی میں جب بھی انتخابات ہوتے ہیں ری پبلکن پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم اتاترک کے گرد ہی گھومتی دکھائی دیتی ہے اور وہ اپنے آپ کو اتاترک کی واحد وارث بھی قرار دیتی ہے۔

ری پبلکن پیپلز پارٹی کے اس رویّے اور پالیسی کی وجہ سے دیگر جماعتوں اور انسانوں کو زبردستی اتاترک سے دور کرنے بلکہ نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر مستقبل میں بھی اس پارٹی نے اپنے اس رویّے کو جاری رکھا تو لازمی طور پر اس کے منفی اثرات ان جماعتوں اور عوام پر مرتب ہوں گے۔عوام اس بات کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ یہ جماعت اتاترک کانام صرف اپنے مفاد حاصل کرنے ہی کے لئے استعمال کر رہی ہے جبکہ اس جماعت کی پالیسیوں اور اتاترک کی پالیسی اور نظریات میں بڑا واضح فرق پایا جاتا ہے۔اس کی سب سے اہم مثال ری پبلکن پیپلز پارٹی کا بائیں بازو سے تعلق رکھنا ہے جبکہ اتاترک کا کبھی بھی جھکائو بائیں بازو کی جانب نہیں رہا ہے بلکہ وہ کمیونزم اور سوشلزم سے اپنے آپ اور عوام کو دور رکھنے میں ہی ملک کی عافیت سمجھتے رہے ہیں۔ اتاترک کو صرف ری پبلکن پیپلز پارٹی تک محدود کردینا کسی بھی طور پر درست قدم نہیں ہے کیونکہ اتاترک صرف اس پارٹی ہی کےرہبر و رہنما نہیں ہیں بلکہ تمام ترک باشندوں بلکہ دنیا بھر کے رہبرو رہنما اور ہیرو ہیں۔ اتاترک کو صرف ری پبلکن پیپلز پارٹی ہی تک محدود کردینے سے ایسا لگے گا جیسے وہ صرف ستائیس فیصد عوام ہی کے رہنما ہیں جو کہ اتاترک جیسے گلوبل اور عالمگیر رہنما کے ساتھ بہت بڑا ظلم اور زیادتی ہو گی۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.