.

سعودی عرب: ایران اور 47 دہشت گردوں کا تہ تیغ کیا جانا

فیصل جے عباس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جب سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا تو یہ ایسے ہی لگا جیسے ایک اور دہشت گرد کو تہ تیغ کردیا گیا ہے۔

دراصل کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ ایرانی رجیم دہشت گردی کے ایک واحد بڑے خطرے کے مشابہ ہے اور اس سے نہ صرف سعودی عرب اور خطے بلکہ عالمی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔ایران روایتی انداز میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ اس نے مظاہرین کو تہران میں سعودی سفارت خانے پر حملہ آور ہونے اور اس کو آگ لگانے سے روکنے کی کوشش کی تھی لیکن درحقیقت وہ ایسا نہیں کرسکا۔ (اگر یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ ایرانی رجیم نے مظاہرین کی حوصلہ افزائی کی تھی تو یہ باعث حیرت نہیں ہوگی)

ایران نے سعودی عرب میں منافرت پھیلانے والے مبلغ نمرالنمر کا سرقلم کیے جانے پرتنقید کی ہے۔سعودی حکام نے اس شیعہ مبلغ پر بغاوت کی شہ دینے کا الزام عاید کیا تھا۔ان پر سعودی مملکت میں غیرملکی مداخلت کو دعوت دینے سمیت مختلف الزامات میں فرد جرم عاید کی گئی تھی اور عدالت نے انھیں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔

ایران نے اپنے میڈیا اور بھونپوؤں کے ذریعے اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دے دیا ہے کیونکہ سعودی عرب ایک سُنی ریاست ہے اور نمر النمر شیعہ تھے۔ایرانی عہدے دار جان بوجھ کر اس حقیقت کو بیان کرنے سے گریز کررہے ہیں کہ سعودی عرب میں جن سینتالیس دہشت گردوں کے سرقلم کیے گئے ہیں،ان میں صرف تین شیعہ تھے۔باقی سب نہ صرف سُنی تھے بلکہ انتہا پسند سُنی تھے۔ان میں القاعدہ کی سرکردہ شخصیات تھیں اور ان کے بارے میں سعودی عرب یہ الزام عاید کرچکا ہے کہ ایران ان کی خاص طور پر حمایت کرتا رہا ہے۔

الریاض کی جانب نائن الیون حملوں کے حوالے سے یہ انگلی اٹھانا بہت آسان ہے کہ ان میں حصہ لینے والے انیس میں سے پندرہ ہائی جیکروں کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن بھی پہلے ایک سعودی شہری ہی تھے اور سعودی عرب نے بعد میں ان کی شہریت منسوخ کردی تھی۔

تاہم دہشت گردی کی حمایت کرنے والے رجیم ،جیسا کہ ایران ہے اور سعودی حکومت میں بہت فرق ہے۔عالمی طاقتوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کے کردار کو سراہا ہے اور اس کو اس جنگ میں ایک اہم اتحادی قرار دیا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ سعودی عرب القاعدہ اور داعش کے جنگجوؤں کے خلاف انتھک لڑرہا ہے۔اس کے اپنے جو بھی شہری ان گروپوں میں شمولیت اختیار کرتے ہیں،ان کے خلاف سخت کارروائیاں کررہا ہے(اس سلسلے میں حال ہی میں نشرکردہ العربیہ ٹی وی کی خصوصی دستاویزی فلم ضرور ملاحظہ کریں،جس کسی نے ابھی القاعدہ کے خلاف سعودی جنگ کی تفصیل پر مبنی یہ دستاویزی فلم نہیں دیکھی ہے،اس کو یہ ضرور دیکھنی چاہیے)

سعودی عرب میں گذشتہ ہفتے کے روز جن دہشت گردوں کے سرقلم کیے گئے تھے،ان میں القاعدہ کا نظریاتی قائد فارس آل شویل بھی شامل تھا۔ان صاحب نے اپنی تحریروں کے ذریعے جنگجوؤں کی حکمت عملی اور حربوں کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کی تھی۔نمر النمر کی طرح آل شویل نے شاید ذاتی طور پر تو لوگوں کو ہلاک نہ کیا ہو لیکن ان کی تعلیمات اور تقریریں بے گناہ شہریوں کی جانیں لینے کے عمل میں ایک براہ راست عامل ثابت ہوئی تھیں اور اس چیز نے انھیں مرتکبہ جرائم میں برابر کا ذمے دار بنا دیا تھا۔

بہت سے لوگ شعوری یا غیر شعوری طور پر سعودی عرب کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوششوں اور اس محاذ پر اس کی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد کی جانی قربانیوں کو تسلیم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔یہ حیرت ناک امر نہیں کہ سعودی عرب کے کردار کو ابھی تک شک کی نگاہوں سے دیکھا جارہا ہے جبکہ امریکا کے محکمہ خارجہ اور خزانہ کے مطابق ایران القاعدہ کے لیڈروں کو مالی اور لاجسٹیکل مدد مہیا کرتارہا ہے۔یہ حقیقت خود ہی اپنی قلعی کھول رہی ہے کہ القاعدہ نے اپنے فطری دشمن ایران کے بجائے سعودی حکومت ہی کو کیوں اپنا ہدف بنایا ہوا ہے۔معاملہ خواہ کچھ ہی ہو،تعجب خیز آمیز امر یہ ہے کہ ایران سعودی عرب پر سزایافتہ دہشت گردوں کو تہ تیغ کرنے پر نہایت دیدہ دلیری سے تنقید کررہا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایران میں گذشتہ سال کی پہلی ششماہی کے دوران سات سو سے زیادہ افراد کو تختہ دار پر لٹکایا گیا تھا۔سال 2015ء میں ایران میں پھانسی چڑھنے والے تمام افراد کے اعداد وشمار ابھی جاری نہیں کیے گئے ،جب یہ تعداد سامنے آئے گی تو مصلوبین کی تعداد ایک ہزار سے اوپر ہی ہوگی۔(خیال رہے کہ یہ سب کچھ اعتدال پسند صدر حسن روحانی کی ناک کے نیچے ہورہا ہے)۔یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ایران میں پھانسی پانے والوں کی کثیر تعداد سنی علمائے دین اورعام سنیوں کی ہے۔حالانکہ انھوں نے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا تھا اور انھیں منصفانہ ٹرائل کا موقع بھی نہیں دیا گیا ہے۔

سعودی عرب میں بی بی سی کے صحافی فرینک گارڈنر پر حملہ کرنے اور ان کے کیمرامین کو 2004ء میں قتل کرنے والے القاعدہ کے مسلح شخص کے خلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا تھا اور سرعام اس کا سرقلم کیا گیا تھا جبکہ ایرانی رجیم نے ابھی تک واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے جیسن رضیان کو زیر حراست رکھا ہوا ہے،ان کے خلاف کسی خفیہ مقام پر مقدمہ چلایا گیا تھا اور چپکے سے انھیں کوئی خفیہ سزا سنا دی گئی تھی۔

یہ بات واضح رہے کہ ایرانی عوام کے ساتھ کوئی ایشو نہیں ہے۔وہ اپنے لیڈروں سے کہیں زیادہ اعتدال پسند اور روا دار ہیں۔مسئلہ تو دراصل ایرانی رجیم کے ساتھ ہے جو علاقے میں اپنی بالادستی کے لیے متحرک ہے۔ایران خطے میں مختلف دہشت گرد اور پیراملٹری گروپوں کی حمایت اور مالی معاونت کا ذمے دار ہے۔لبنان میں حزب اللہ سے عراق کی اصیب اہل الحق ملیشیا اور یمن میں حوثی باغیوں تک، سب کی ایران ہی پشت پناہی کررہا ہے۔(حزب اللہ لبنان میں ایک بنیادی تخریبی قوت ہے۔اسی نے بیروت میں 1983ء میں امریکی میرینز کی بیرکوں پر حملہ کیا تھا۔اصیب اہل الحق عراق میں عراقیوں ،برطانوی اور امریکی شہریوں اور فوجیوں کے قتل کی ذمے دار ہے)۔

الریاض کی جانب سے ایران سے تعلقات منقطع کرنا یقینی طور پر درست سمت کی جانب ایک اہم قدم ہے،سعودی عرب کے اتحادیوں کو وہی کچھ کرنا چاہیے جو بحرین (اور سوڈان) نے کیا ہے۔اگر امریکا اور دوسری عالمی طاقتیں ایران کی جوہری خواہشات پر قدغنیں لگانے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو پھر 2016ء میں ایران کا خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے کردار ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جانا چاہیے۔

----------------------------------
(فیصل جے عباس العربیہ انگریزی کے ایڈیٹر انچیف ہیں۔ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.