.

قاسم سلیمانی ایک بچّی کی طرف سے پیش کی گئی چاکلیٹ سے ڈر گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سماجی رابطوں کی فارسی زبان کی ویب سائٹوں پر قاسم سلیمانی کی ایک وڈیو گردش میں آئی ہے۔ وڈیو میں وہ ایران کے شہر کرمان کے ایک قبرستان میں ایک بچّی کی جانب سے معصومیت سے پیش کی گئی چاکلیٹ سے خوف زدہ نظر آ رہا ہے۔ سلیمانی ایرانی پاسداران انقلاب کے بیرونی مداخلت کے ذمّے دار ونگ القدس فورس کا کمانڈر ہے۔

وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب بچّی نے سلیمانی کو چاکلیٹ پیش کی تو اُس نے چاکلیٹ کھول کر خود کھانے کے بجائے بچّی کے منہ میں دے دی۔ سلیمانی کی اس حرکت نے سوشل میڈیا پر مخالف اور تنقیدی حلقوں کو چراغ پا کر دیا۔ ان حلقوں کے مطابق یہ فعل ثابت کر رہا ہے کہ سلیمانی بچّی کی طرف سے پیش کی گئی چاکلیٹ سے خوف زدہ تھا۔ تاہم سلیمانی کی ہمنوا ویب سائٹوں نے انسٹاگرام پر سلیمانی کے پیج پر پوسٹ ہونے والی اس وڈیو کو یہ عنوان دیا ہے : "کمانڈر سلیمانی کا کرمان کے شہداء قبرستان میں ایک بچّی کے ساتھ پدرانہ برتاؤ".

ٹوئیٹر پر ایک صارف نے لکھا ہے کہ "شام میں بچوں کا قاتل اس حد تک زہر دیے جانے کے خوف میں مبتلا تھا کہ اس نے ننھی بچی سے چاکلیٹ لے کر کھانے کے بجائے اسی بچّی کے منہ میں دے دی"۔

وڈیو پر ایک اور تبصرے میں استفسار کیا گیا ہے کہ "کیا یہ ہی وہ دلیر اور بہادر کمانڈر ہے ؟ تم لوگوں نے تو یہ کہا تھا کہ ہم جامِ شہادت کے پیاسے ہیں پھر ایک معصوم بچّی پر شک کیوں کیا۔ اگر تم زہر دیے جانے کے خوف میں بھی مبتلا تھے تو تم نے زہریلی فرض کی ہوئی چاکلیٹ بچّی کے منہ میں کیوں دے دی ؟ تم کم از کم اس بچّی کے بجائے وہ چاکلیٹ زہر خوانی پر نظر رکھنے والے اپنے کسی ساتھی کو دے دیتے"۔