.

مراکش: مساجد کو بجلی بل میں 40% کمی کی ہدایت

ملک کو درپیش توانائی بحران پر قابو پانے کا منفرد طریقہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

توانائی بحران کے شکار شمال افریقی عرب ملک مراکش نے بجلی کی بچت کے لیے ایک نئی قومی پالیسی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ملک بھر کی پندرہ ہزار مساجد کو زیادہ سے زیادہ چالیس فیصد بجلی کے استعمال کی اجازت ہو گی۔

فرانسیسی خبر رساں دارے" اے ایف پی" کے مطابق مراکشی وزارتِ برائے مذہبی امور اور وزارت پانی و بجلی کے حکام نے رباط میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں توانائی بچت کے ایک نئے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کی رو سے پبلک اداروں میں بجلی کے استعمال کو 30 فی صد تک لایا جائے گا جبکہ مساجد بجلی کے موجودہ استعمال کا 60 فی صد بچت کرتے ہوئے صرف چالیس فی صد انرجی پر اکتفاء کریں گی۔

رپورٹ کے مطابق گذشتہ روز طے پانے والے اس معاہدے میں وزارت مذہبی امور اور وزارتِ بجلی کے علاوہ انرجی انویسٹمنٹ کمپنی اور قابل تجدید توانائی اور بچت برائے ترقی کی قومی ایجنسی کے عہدیدار بھی موجود تھے۔ اس موقع پر تین بڑی مساجد کے بجلی کے بلات اور اخراجات کو سامنے رکھتے ہوئے بچت پالیسی کا اعلان کیا گیا۔

وزارت بجلی کی جانب سے جاری کردہ تجاویز میں قرار دیا گیا ہے کہ مساجد میں زیادہ بجلی خرچ کرنے والے بلب ہٹا کران کی جگہ انرجی سیور ٹیوب لائٹیس لگوائی جائیں گی۔ نیز مساجد کے لیے الگ سے شمسی توانائی سے حاصل ہونے والی بجلی فراہم کی جائے گی۔ شہروں اور دیہاتوں میں عام گھریلو اور کمرشل استعمال کی بجلی کا مساجد کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہو گا۔

نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مراکشی وزیر برائے مذہبی امور واسلامی اوقاف احمد التوفیق نے بتایا کہ حکومت ہرسال 48 لاکھ امریکی ڈالر کے مساوی مساجد کے بجلی کے بل ادا کر رہی ہے۔ اگر ہم مساجد میں توانائی کی بچت کیا کریں گے تو دوسرے شعبوں میں بھی توانائی کی بچت کی راہ ہموار ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ توانائی قدرت کی ایک گراں بہا نعمت ہے اور ہمیں شیطان کے بھائی بن کر اس میں اسراف نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال سے پوری دنیا توانائی کے بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ ہمیں یہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ وسائل کے غیر ضروری استعمال میں مسلمان بھی کسی دوسری قوم سے پیچھے نہیں حالانکہ اسلام اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔

اس موقع پر وزیر پانی و بجلی اور قدرتی وسائل عبدالقادر عمارہ نے کہا کہ توانائی کی بچت صرف مساجد کے ذریعے نہیں ہو سکتی بلکہ تمام شہریوں کو توانائی کے استعمال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سنہ 2015ء تک توانائی کے استعمال میں 20 سے 30 فی صد بچت کی اسکیم تیار کی ہے۔

یہ بچت اسکیم مستقبل میں بجلی کی بڑھتی ضروریات کے پیش نظر تیار کی گئی ہے کیونکہ سنہ 2030ء تک مراکش میں توانائی کا استعمال چار گنا بڑھ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر ملک کی 1000 مساجد میں بجلی بچاؤ اسکیم کے تحت انرجی سیور اور شمسی توانائی کے پلانٹ لگائے جائیں گے۔ اگر تجربہ کامیاب رہا تو اسے ملک کی تمام مساجد اور عمومی اداروں تک وسیع کر دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ مراکش میں گیس اور تیل جیسے قدرتی وسائل کی عدم موجودگی کے باعث توانائی کی ضرورت دوسرے ممالک سے حاصل کردہ گیس اور تیل کے ذریعے پوری کی جاتی ہے۔ توانائی کے متبادل ذرائع بھی تلاش کیے جا رہے ہیں۔ سنہ 2020ء تک رباط 09 ارب ڈالر شمسی توانائی کے منصوبوں پر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔