ظالم اور سخت تنقید کرنے والے افراد سے نمٹنے کے لیے نفسیاتی 10 مشورے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

زندگی مختلف نوعیت کے لوگوں سے بھری ہوئی ہے، کچھ خوش اخلاق اور دوستانہ ہوتے ہیں، جبکہ کچھ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے آس پاس کے لوگوں کا صبر آزما لیتے ہیں۔ مشکل لوگوں کے ساتھ تعلقات توانائی کو ختم کر دیتے ہیں، چاہے وہ طاقتور ساتھی ہوں یا زیادہ تنقید کرنے والا قریبی شخص۔لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ کس طرح تعلق قائم رکھا جائے بغیر اپنے سکون اور ذہنی راحت کو کھوئے۔

Times of India کی رپورٹ کے مطابق نفسیات کی بنیاد پر چند ایسے مشورے موجود ہیں جو فرد کو پر سکون رہنے میں مدد دیتے ہیں اور اسے ایسے مسائل میں الجھنے سے بچاتے ہیں ،جو اس کی ذہنی صحت کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں، جیسے کہ:

بھروسہ مند لوگوں سے بات کریں:

غصے کو غلط شخص کے سامنے ظاہر کرنے سے غصہ بڑھتا ہے، جبکہ مناسب لوگوں سے بات کرنے سے آدمی محسوس کرتا ہے کہ اسے سنا اور سمجھا گیا ہے اور یہ شفایابی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ذاتی مسائل پر بھروسے مند دوستوں سے بات کریں جو جذبات کو سمجھیں، بجائے ان نقادوں کے جو غصہ بڑھاتے ہیں۔

ذہنی تیاری کریں:

کئی لوگ بشمول مشکل شخصیت والے افراد متوقع رویے اختیار کرتے ہیں۔ ان کے نمونوں کا مشاہدہ ذہنی تیاری میں مدد دیتا ہے۔ یہ قدم دماغ کے خوف کے مرکز (Amygdala) کو دوبارہ پروگرام کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے آدمی کم جذباتی ہو جاتا ہے۔

ہنگامہ آرائی میں شامل نہ ہوں:

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مشکل لوگ صرف اسی وقت آپ پر اثر ڈال سکتے ہیں جب آپ ان کے ہنگامے میں شامل ہوں۔ جب کوئی شور مچاتا یا جارحانہ رویہ اختیار کرتا ہے، تو سکون برقرار رکھنا آپ کی طاقت ہے کیونکہ یہ صورتحال پر کنٹرول دوبارہ فراہم کرتا ہے۔

بغیر مداخلت کے سنیں:

مشکل لوگوں کے ساتھ بحث کرنے سے گریز کریں اور انہیں اپنی بات مکمل کرنے دیں۔ فعال سننا ان کے غصے کو کم کرتا ہے، احترام ظاہر کرتا ہے اور اصل مسئلہ سامنے لاتا ہے۔ یہ حل تلاش کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

جذباتی ردعمل کے بغیر جواب دیں:

طنزیہ تبصرے کا فوراً جواب نہ دیں۔ اس کے بجائے گہری سانس لیں اور ایک لمحے کے لیے رکیں۔ ردعمل فطری ہوتا ہے، جبکہ جواب سوچ سمجھ کر دیا جانے والا حکمت عملی پر مبنی ہوتا ہے۔ خاموشی کمزوری نہیں، بلکہ ایک حکمت عملی ہے۔ جب کوئی چیختا ہے، تو پرسکون آواز صورتحال کو قابو میں لانے اور نفسیاتی ''جذباتی اثر'' کے ذریعے حالات کو نرم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ چڑھانے کی صورت میں گہری سانس لیں، دس تک گنتی کریں اور وضاحت کے لیے سوال کریں، جیسے: ''آپ کا مطلب کیا ہے؟''

اہم اور متعلقہ بات پر توجہ دیں:

مشکل لوگوں سے بات کرتے وقت حقائق اور موجودہ مسائل پر توجہ مرکوز کریں۔ پرانے اختلافات کو دوبارہ نہ اٹھائیں، کیونکہ یہ صرف جھگڑوں میں اضافہ کرے گا اور مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

حدود واضح طور پر طے کریں:

جب کوئی شخص مشکل یا بے ادب ہو، تو حدود کو واضح اور پرسکون انداز میں طے کرنا ضروری ہے۔ مشکل لوگ حدود کو پرکھتے ہیں، لیکن واضح حدود سے انہیں سیکھنے کا موقع ملتا ہے کہ وہ آپ کا احترام کریں اور اچھے انداز میں پیش آئیں۔

ان کے جذبات ان کے اپنے ہیں:

دوسروں کے مزاج کو بدلنے کی کوشش نہ کریں۔ اگر کوئی شخص غصے یا مایوسی میں ہے اور مشکل رویہ اختیار کر رہا ہے، تو یہ اس کا مسئلہ ہے۔ آپ کو اپنے سکون کو برقرار رکھنا چاہیے اور اپنے ردعمل پر توجہ دینی چاہیے نہ کہ ان کے جذبات پر۔

بات کا رخ بدلیں:

اگر مشکل افراد کے ساتھ بات زہریلی یا تناؤ پیدا کرنے والی ہو جائے، تو گفتگو کا موضوع بدل دیں۔ کبھی کبھی توجہ ہٹانا تعلقات میں سکون برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

موقع سے دور ہو جائیں:

اگر بات کا رخ بدلنا ممکن نہ ہو، تو غصہ آنے پر خود کو صورتحال سے الگ کر لینا بہتر ہے۔ یہ آپ کی خود اعتمادی اور عزت نفس کا مظہر ہے اور آپ کو غیر ضروری جھگڑوں میں پڑنے سے بچاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size