سویڈن میں 20، برطانیہ میں 19 گھنٹے کا طویل روزہ

اختتام سحر رات 1:50 اور افطار رات 10 بجے ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ موسم گرما میں ماہ صیام کی آمد سے دنیا کے بیشتر خطوں میں روزے کا دورانیہ طویل ترین ہو گا۔ برطانیہ میں مقیم لاکھوں فرزندان توحید 19 گھنٹے کا روزہ رکھیں گے۔ ان کی سحر و افطار اور عشاء وتراویح اور نماز فجر کے درمیان فقط پانچ گھنٹے کا فرق ہو گا جبکہ سویڈن میں بیس گھنٹے کا روزہ ہو گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یورپی افتاء کونسل خطے کے ممالک میں روزے کے طویل ترین اوقات کے معمولات زندگی پر پڑنے والے اثرات پر غور شروع کیا ہے۔ روزے کی افطاری کا تعلق غروب آفتاب کے ساتھ ہوتا ہے مگر مغربی یورپ کے بعض ملکوں کا حال یہ ہے کہ وہاں پر سورج رات گیارہ بجے غروب ہوتا ہے۔

لندن کی مرکزی مسجد کی جانب سے ماہ صیام کے نظام الاوقات کی ایک کاپی"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو ملی ہے۔ شیڈول کے مطابق ماہ صیام یکم رمضان المبارک کو نماز فجر کی اذان مقامی وقت کے مطابق 2:48 پر ہو گی جس کے ساتھ ہی روزہ بند ہو جائے گا جبکہ نماز مغرب کی اذان اور افطار شام کو 9:25 پر ہو گی۔ اسی طرح نماز عشاء کا وقت 11:3 منٹ پر داخل ہو گا۔ گویا نصف شب سے صرف آدھ گھنٹہ پہلے عشاء اور تراویح ادا کی جائے گی۔

یورپی ملک سویڈن میں روزے کا وقت برطانیہ سے بھی ایک گھنٹہ زیادہ ہو گا۔ سویڈش دارالحکومت اسٹاک ہوم میں اختتام سحر صبح 1:50 پر ہو گا جبکہ افطار کا وقت رات 10 بجے کے بعد داخل ہو گا۔

برطانیہ اور دوسرے یورپی ممالک میں مقیم لاکھوں فرزندان توحید ماہ صیام کو سعودی عرب کے ساتھ رکھتے اور عیدالفطر بھی سعودی عرب کے ساتھ مناتے ہیں۔ یہ معمول سال ہا سال سے جاری ہے جس میں کسی کو کوئی اعتراض بھی نہیں ہوا ہے۔ پچیس لاکھ مسلمانوں پر مشتمل برطانیہ میں عرب ممالک کے باشندوں کی بھی بھاری اکثریت موجود ہے۔

یورپی افتاء کونسل کے سیکرٹری جنرل الشیخ حسین حلاوہ نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے ماہ صیام اور یورپی ممالک کے مسلمانوں کے مسائل پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ روزے کا وقت طویل ترین ہونے کے باوجود قبل از وقت روزہ افطار کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یورپی ملکوں میں مسلمانوں کو روزے کے شرعی نظام الاوقات کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کے لیے یورپ کا ایک دورہ کرنے والے ہیں۔

الشیخ حلاوہ کا کہنا تھا کہ بعض یورپی ملکوں میں گرم موسم اور لمبے دن کے باعث روزہ داروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا تاہم طوالت کے باوجود روزہ توڑنے، چھوڑنے یا قبل از وقت افطار کی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صرف برطانیہ ہی نہیں بلکہ تمام اسکینڈینویںز ممالک میں روزے کا وقت بہت طویل ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size