.

یہ ہے اے بی سی نیوز: فلسطینی خاندان کو اسرائیلی بنا دیا

امریکی نشریاتی ادارے کی غزہ میں تباہ کاری کو اسرائیل سے منسوب کرنے پر معذرت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغرب کے میڈیا ادارے فلسطینیوں کے ساتھ کس حد تک تعصب کا مظاہرہ کرتے ہیں،اس کا اندازہ ان کی خبروں ،رپورٹس اور کوریج سے کیا جا سکتا ہے اور وہ اسرائیل کی وحشیانہ بمباری میں تباہ ہونے والے فلسطینی علاقوں کو اسرائیلی علاقے قرار دینے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔

اس کی تازہ مثال امریکا میں قائم نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کی ایک رپورٹ میں نظر آئی ہے۔اس نے غزہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں سے ہونے والی تباہ کاریوں کے مناظر تو دکھائے ہیں لیکن ان کو غزہ کے مناظر نہیں کہا بلکہ اپنے ناظرین کو یہ بتایا ہے کہ یہ فلسطینیوں کی جانب سے فائر کیے گئے راکٹوں سے اسرائیلی علاقے میں ہونے والی تباہی ہے۔

اے بی سی کی رپورٹر اور اینکر ڈیان سؤیّر نے اپنے پروگرام کے دوران ناظرین کو بتایا:'' ہم اب آپ کو سمندر پار لیے چلتے ہیں۔آج اسرائیل پر راکٹ گررہے ہیں اور وہ ان کو فضا ہی میں تباہ کرنے کی کوشش کررہا ہے''۔بدھ کی رات جب وہ یہ سب کچھ ارشاد کررہی تھیں ،اس وقت ٹی وی سکرین غزہ میں اسرائیلی بمباری کی تباہ کاریوں کی ویڈیو چل رہی تھی۔

پھر ڈیان سؤیّر نے اسی پر اکتفا نہیں کیا ہے۔اس نے ملبے کے ڈھیر پر بچی کچھی اشیاء لیے بیٹھے فلسطینی خاندان کو اسرائیلی خاندان قرار دے دیا اور کہا کہ یہ اسرائیلی خاندان جو کچھ بچا سکتا ہے،اس کو محفوظ بنانے کی کوشش کررہا ہے۔

ڈیان سؤیّر کی اس مذموم حرکت کو بعض سنجیدہ فکر مغربی صحافیوں نے زرد صحافت کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔اے بی سی نیوز نے فلسطینی خاندان کو غلط طور پر اسرائیلی قرار دینے پر معذرت کی ہے اور کہا ہے کہ ''ہم نے ایک فوٹو میں ایک خاندان کی غلط شناخت کی ہے،وہ فلسطینی ہیں ،اسرائیلی نہیں۔ہم اس غلطی پر معذرت خواہ ہیں اور اس کو درست کریں گے''۔

اسرائیلی فوج گذشتہ تین روز سے غزہ کی پٹی پر وحشیانہ بمباری کررہی ہے جس کے نتیجے میں اسّی سے زیادہ فلسطینی شہید اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔ان میں تیس جمعرات کو شہید ہوئے ہیں۔شہید اور زخمیوں میں خواتین اور کم سن بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔