.

دکاندار دکانوں پر رکھے مجسموں کے چہرے ڈھانپ دیں: داعش

موصل میں ملبوسات کی دکانوں کے لیے خلیفہ ابوبکر البغدادی کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش نے عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل میں کپڑے کے دکان داروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنی دکانوں پر رکھے ان مجسموں کے چہرے ڈھانپ کر رکھیں جنہیں انہوں نے ملبوسات کے ڈیزائن اور رنگوں کے اظہار کے لیے اپنی دکانوں کی شو کیسوں میں سجا رکھا ہے۔

موصل کے دکانداروں کے مطابق داعش کی طرف سے جاری کردہ ہدایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مجسمے مردوں کے چہروں سے مماثلت رکھنے والے ہوں یا عورتوں کے مشابہ ان کے چہروں کو ہر صورت ڈھانپ کر رکھیں۔

واضح رہے داعش نے ایک ماہ قبل موصل پر قبضہ کیا تھا اور اگلے چند روز میں اپنی خلافت کا اعلان کرتے ہوئے ابو بکر البغدادی کو خلیفہ مقرر کیا تھا۔

یہ عسکریت پسند گروپ شریعت کی تشریح کے حوالے سے کٹر پن کا رجحان رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ شرعی قانون مجسمے بنانے ، ان کے اظہار اور انہیں کاروبار کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

اس عسکری گروپ نے شہر کے باسیوں پر مزید کئی قدغنیں بھی عاید کر دی ہیں۔ شہر کے قدیمی باشندوں کی حیثیت رکھنے والے عیسائیوں سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر مذہب تبدیل کر لیں بصورت دیگر ذمی بن کر رہیں یا لڑائی کے لیے تیار ہو جائیں۔

اس صورت حال میں عیسائیوں کی بڑی تعداد شہر چھوڑ کر جانا شروع ہو گئے ہے۔ ا ن عیسائیوں کے حق میں ذرائع ابلاغ نے موثر مہم شروع کر رکھی ہے ۔