107 سالہ شامی بی اماں کی ھجرت کے بعد جرمنی آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف پچھلے ساڑھے تین سال سے جاری عوامی بغاوت کے دوران لاکھوں افراد گھر بار کے ساتھ ساتھ ہزاروں کی تعداد میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

بیرون ملک نقل مکانی کرنے والوں میں ہر عمر اور طبقے کے افراد شامل ہیں مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ بیرون ملک ھجرت کرنے والوں میں ایک سو سات سالہ عمر رسیدہ خاتون صبریہ خلف الخلف بھی شامل ہیں جو حال ہی میں یونان کے راستے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ جرمنی میں پناہ گزین ہوئی ہیں۔ بلحاظ عمر صبریہ خلف بیرون ملک ھجرت کرنے والی سب سے معمر خاتون ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صبریہ الخلف کی تاریخ پیدائش سنہ 1907ء اور مقام پیدائش شمالی شام میں القحطانیہ شہر کا ابو تلجہ قصبہ ہے۔ صبریہ کی ذاتی زندگی میں کئی نشیب و فراز سے عبارت تو ہے ہی مگر اس نے اپنے ملک کے عروج و زوال کے کئی ادوار کو بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

صبریہ نے خلافت عثمانیہ کا دور دیکھا جب شام، ترک خلافت عثمانیہ کے زیر نگیں تھا۔ پھر فرانسیسی استبداد کا دور بھی اپنی جان پر سہا، مگر فرانسیسی استبدادیت سے نجات کے بعد موجودہ حکومت کے خلاف عوامی بغاوت نے کچھ ایسے حالات پیدا کیے کہ صبریہ کو اس پیرانہ سالی میں ملک چھوڑنا پڑا ہے۔

صبریہ الخلف کی ھجرت اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین کے لیے صدمے کا باعث بنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ "یو این ایچ سی آر" نے بھی اپنی ویب سائٹ پر حاجن صبریہ الخلف کا خصوصی طور پر تذکرہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں