.

''فرعون توت کے والدین سگے بہن بھائی تھے''

توت لنگڑا کر چلتا تھا: قدیم مصری بادشاہ کے بارے میں چشم کشا انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے قدیم دور کے فرعون توت عنخ آمون کے بارے میں محققین نے نئے انکشافات کیے ہیں۔نئی تحقیق کے مطابق اس کے والدین سگے بہن بھائی تھے جس کی وجہ سے وہ موروثی امراض کا شکار ہوکر نوجوانی ہی میں موت کے منہ میں چلا گیا تھا۔

شاہ توت کی ممیوں اور اس سے متعلق دیگر دستاویزات کی کمپیوٹر تصاویر کو جوڑ کر ان کا پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے اور اس کی شخصیت کے نئے خدوخال وضع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ماہرین نے اس کے خاندان کا جینیاتی تجزیہ بھی کیا ہے جس کے مطابق اس کی ماں کوئی اور عورت نہیں بلکہ اس کے والد کی سگی بہن تھی۔اس تحقیق کے مطابق اس کے سامنے والے دانت اونچے تھے،سیرین بھاری تھی اور وہ ایک پاؤں سے لنگڑا تھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اس فرعون کی زندگی کے بارے میں ایک دستاویزی فلم تیارکی ہے جو آیندہ اتوار کو نشر ہوگی۔محققین کا کہنا ہے کہ مصر کے اس مشہور فرعون نے شاید وہ شاندار زندگی نہیں گزاری ہوگی جس کا اندازہ اس کی شاہانہ تدفین اور دوسرے تاریخی ریکارڈ سے ہوتا ہے۔

اس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ گُھڑدوڑ کا شائق تھا لیکن محققین کا خیال ہے کہ ایک پاؤں سے لنگڑا ہونے کی وجہ سے اس کے لیے ایسی کسی دوڑ میں حصہ لینا ناممکن لگتا ہے۔

کمپیوٹر پر سکین کی گئی دوہزار سے زیادہ تصاویر کو جوڑ کر یہ ورچوئل پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے پاؤں مڑے ہوئے تھے۔مصر کے ایک ریڈیالوجسٹ اشرف سلیم کے بہ قول وہ بہت زیادہ لنگڑا کر چلتا ہوگا۔برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق اس کے مقبرے سے پیدل چلنے کے دوران ہاتھ میں پکڑی جانے والی ایک سوتیس چھڑیاں برآمد ہوئی تھیں جو اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ وہ ان کے سہارے چلتا ہوگا۔

توت عنخ آمون کی موت سے متعلق ایک افسانہ نما کہانی یہ چلی آرہی ہے کہ وہ گھوڑا گاڑی کے حادثے کے نتیجے میں ہلاک ہوا تھا لیکن اس کے والدین کی غیرفطری شادی یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس سے توت کی طبعی عمر پوری ہونے سے قبل ہی وفات ہوئی ہوگی کیونکہ وہ موروثی بیماریوں کا شکار ہوگیا تھا۔

اس شُبے کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ موت سے قبل اس کے جسم کی صرف ایک ہڈی ٹوٹنے کا پتا چلتا ہے اور اس کی گھٹنے کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی۔تاہم امپریل کالج لندن میں سرجری کے ایک لیکچرار حوتان اشرفیان کا کہنا ہے کہ توت عنخ آمون کا خاندان مختلف امراض میں مبتلا تھا جس کی وجہ سے ان کے ہارمون نظام میں عدم توازن پیدا ہوگیا تھا۔

پروفیسر اشرفیان کا کہنا ہے کہ اس کے خاندان کے آباء و اجداد میں سے بہت سے لوگوں نے بڑی لمبی عمریں پائی تھیں اور صرف اس کی لڑی میں نوجوانی میں یا اپنے پیش روؤں کی اوسط عمروں کے مقابلے میں کم عمر میں مرنے کا پتا چلتا ہے۔

اٹلی کے انسٹی ٹیوٹ برائے ممیز اور آئسمین کے محقق البرٹ زنک کے مطابق توت کے والد کا نام عنخ آمون تھا اور اس کے والد کے اپنی بہن سگی سے جنسی تعلقات تھے یا ان کے درمیان شادی ہوئی تھی۔ واضح رہے کہ قدیم مصری معاشرے میں لوگ حرمت مصاہرت کے قائل نہیں تھے اور وہ سگے بہن بھائی کے درمیان شادی کے صحت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے بھی آگاہ نہیں تھے۔