اسامہ بن لادن کے قاتل کی تصاویر پہلی بار منظر عام پر!

اونیل کا داعش کے خلاف جنگ لڑنے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

القاعدہ کے بانی سربراہ مقتول اسامہ بن لادن کے پر اسرار ہلاکت کی طرح اس کے قاتلوں کے بارے میں بھی کئی قسم کی قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ مغربی میڈیا کی جانب سے مئی 2010ء کو پاکستان کے گریژن سٹی ایبٹ آباد میں کے ایک کمپائونڈ میں مبینہ طور پر چھپے القاعدہ رہنما کو قتل کرنے والے فوجیوں کی شناخت کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں تاہم بن لادن پر پہلی گولی چلانے والےامریکی کمانڈو کی تصاویر اور ویڈیو پہلی بار منظر عام پر آئی ہیں۔

برطانوی اخبار ’’ڈیلی میل‘‘ کے حوالے سے ایک رپورٹ میں اسامہ بن لادن کے مبینہ قاتل روپ اونیل کی تصاویر شائع کی ہیں۔ اخبار کی ویب سائٹ پر ایک فوٹیج بھی پوسٹ کی گئی ہے جس میں 38 سالہ روپ اونیل کو دکھایا گیا ہے۔

روپ اونیل امریکی نیوی سیلز کے اس چھ رکنی گروپ میں شامل تھا جس نے دو مئی 2010 کی درمیانی شب اسامہ بن لادن پر قاتلانہ حملہ کیا۔ اونیل اور اس کے دو ساتھی اسامہ بن لادن کے بیڈ روم میں داخل ہوئے اور انہوں نے اسامہ بن لادن پر تین گولیاں چلائیں جو جان لیوا ثابت ہوئیں۔ اونیل اب ریٹائرڈ ہو چکا ہے تاہم اس کی خواہش ہے کہ وہ شام اور عراق میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولت اسلامی 'داعش' کو بھی بن لادن جیسے انجام سے دوچار کرے۔

دنیا کے مطلوب ترین شخص اسامہ بن لادن کی موت بننے والے امریکی میرینز میں شامل روپ اونیل اس وقت امریکا اور یورپی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا خاص مرکز ہے۔ اس پر فلمیں بن رہی ہیں اور فیچر لکھے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں امریکی ٹی ویژن ’’فاکس نیوز‘‘ نے ایک دستاویزی فلم تیار کی ہے جس میں اسامہ کے قاتل کو پہلی بار دکھایا گیا ہے۔ یہ دستاویزی فلم ٹی وی پرا ٓئندہ منگل اور بدھ کی نشریات میں پیش کی جائے گی۔

دستاویزی فلم میں نہ صرف اونیل کا اسامہ بن لادن کے قاتل کے طور پر تعارف کرایا گیا ہے بلکہ اس کے فوج میں شمولیت سے لے کر ریٹائرمنٹ تک کے عرصے میں زندگی میں پیش آنے والے اہم واقعات بھی شامل کیے گئے ہیں۔

اگرچہ روپ اونیل نے دولت اسلامی’’داعش‘‘ کے خلاف لڑنے کا عزم ظاہر کیا ہے تاہم اس کے والد کو خدشہ ہے کہ داعش خود بھی اونیل کو انتقام کا نشانہ بنا سکتی ہے۔ اونیل کے والد نے بتایا کہ میرا بیٹا اب اچھی خاصی شہرت حاصل کر چکا ہے۔ لوگ اس کی شکل سے واقف ہیں، لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ داعش سے آپ کو ڈر نہیں لگتا؟ تو میں اُنہیں کہتا ہوں کہ داعش کی جانب سے انتقام کا خدشہ ہے مگر میں اپنے دروازے پر یہ عبارت لکھ کر لگائوں گا کہ’’آئو ہمیں پکڑ لو۔ ہم یہیں ہیں‘‘۔ ہماری جانب سے بھی داعش کے لیے ایک کھلا چیلنج ہو گا۔

اخبار ڈیلی میل کے مطابق اسامہ بن لادن کے قاتل نے پچھلے تین سال تک اپنی شناخت چھائی رکھی کیونکہ اس کے اہل خانہ کی جانب سے اسے پس منظر میں رہنے کی تلقین کی جاتی رہی ہے۔ اونیل کے والد نے بتایا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اس کا بیٹا گھر میں بند ہو کر رہ گیا تھا۔ اس نے اپنی فوجی ملازمت کی پنشن بھی وصول نہیں کی ہے۔

اپنے ایک انٹرویو میں روپ اونیل خود بھی کہتا ہے کہ وہ ایک بار پھر امریکی فوج میں واپس جانا چاہتا ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ امریکی فوج کے ساتھ دنیا کے کسی دور افتادہ محاذ پر جائے۔ اس ضمن میں داعش کے خلاف جنگ کا بار بار خیال آتا ہے۔ میں داعشی جنگجوئوں کے ساتھ دو بہ دو لڑائی میں حصہ لینا چاہتا ہوں۔

ڈیلی میل سے بات کرتے ہوئے روپ اونیل کے والد نے بن لادن کی ہلاکت کے بارے میں بعض پراسرار نوعیت کی باتیں بھی بتائیں۔ اس نے کہا کہ اسامہ کا قتل تنہا اس کے بیٹے کا کارنامہ نہیں بلکہ اس کے ساتھ بن لادن کے بیڈ روم میں داخل ہونے والے دو دوسرے امریکی فوجیوں نے بھی دو گولیاں ماریں۔ ان میں ایک گولی اسامہ کے سینے میں پیوست ہو گئی تھی تاہم اس کے بیٹے نے اسامہ کو تین گولیاں ماریں۔ یہ تمام گولیاں القاعدہ سربراہ کے سر میں پیوست ہوئیں جس کے بعد وہ وہیں پر ڈھیر ہو گیا۔ اس کا بستر خون سے تر تھا اور دیواروں پر بھی خون کے چھینٹے پڑے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں